معاملہ سیاست کا ہو اور کوئی یہ کہتا ہو کہ اُس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا تو اُس کیلئے ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ ایسی کسی بھی خبر پر یقین کرلینا چاہئے جس پر یقین نہ آتا ہو۔ اگر آپ نے سوچا نہیں تھا تو اب سوچ لینا چاہئے کہ جو نہیں ہوسکتا تھا اب ہوسکتا ہے۔
معاملہ سیاست کا ہو اور کوئی یہ کہتا ہو کہ اُس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا تو اُس کیلئے ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ ایسی کسی بھی خبر پر یقین کرلینا چاہئے جس پر یقین نہ آتا ہو۔ اگر آپ نے سوچا نہیں تھا تو اب سوچ لینا چاہئے کہ جو نہیں ہوسکتا تھا اب ہوسکتا ہے۔ اقتدار اچھی چیز ہے مگر اس کیلئے اتنا کھلواڑ ہونے لگا ہے کہ اب اقتدار کی تگ و دو کو بُرا کہنا ٹھیک نہیں بلکہ بُرائی کو اقتدار کی تگ و دَو کہنا ٹھیک ہوگا۔ کسی کو ان خیالات سے اب بھی اتفاق نہ ہو تو مہاراشٹر میں ممبئی کے مضافاتی شہر امبرناتھ اور خطہ ودربھ کے شہر آکوٹ میونسپل کونسل کے اقتدار پر قبضے کیلئے جو تماشا ہوا ہے اُس کی تفصیل جان لینی چاہئے۔ ایک جگہ بی جے پی نے کانگریس اور این سی پی (اجیت) سے اتحاد کیا، دوسری جگہ اس نے اسدالدین اویسی کی پارٹی ایم آئی ایم سے ہاتھ ملایا۔ کانگریس نے تو امبرناتھ میں اپنے تمام بارہ کونسلروں کو معطل کردیا حتیٰ کہ مقامی اکائی بھی توڑ دی مگر بی جے پی نے کیا کیا؟ ریاستی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس برہمی کا اظہار کرکے رہ گئے اور پارٹی کی ریاستی قیادت نے امبرناتھ اکائی اور کونسلروں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ ایسی ہی خبریں آکوٹ سے بھی موصول ہوئی ہیں کہ کارروائی کے نام پر کچھ نہیں ہوا ہے۔ اس کی اُمید بھی نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی ذریعہ سے اقتدار تک رسائی کیلئے کچھ بھی کر گزرنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی ہوئی ہے۔ اگر بی جے پی کیلئے کانگریس اپوزیشن کی ایسی پارٹی ہے جس سے کسی بھی سطح اور قیمت پر اتحاد نہیں ہوسکتا اور یہ بات بالکل طے ہے تو کیا وجہ ہے کہ کانگریس سے لائے یا بُلائے جانے والوں کی حوصلہ افزائی بھارتیہ جنتا پارٹی پچھلے گیارہ سال سے کررہی ہے؟ ایک طویل فہرست ہے اُن کانگریسی لیڈروں کی جن کے گلے میں بی جے پی کے ممتاز لیڈروں نے اپنے ہاتھوں سے ’’پٹکا‘‘ ڈالا، اُن کا استقبال کیا اور اپنے لیڈروں سے صرفِ نظر کرکے اُنہیں (مثلاً ہیمنتا بسوا شرما) کلیدی عہدوں سے نوازا ہے۔ان میں دوسری صف کے لیڈران تو ہیں ہی، پہلی صف کے لیڈران (مثلاً جیوترا دتیہ سندھیا) بھی ہیں ۔ معلوم ہوا کہ جس سے اتحاد غلط ہےاُس کے لیڈروں کا استقبال صحیح ہے۔ یہ عجیب منطق ہے جو اَب بالکل عجیب نہیں رہ گئی ہے۔
یہاں کانگریس ہائی کمان کو بھی سوچنا چاہئے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پچھلے گیارہ سال سے یہ سوال اُسے پریشان کررہا ہوگا کہ اس کے لیڈران اتنا نرم چارہ کیوں ہیں کہ اُنہیں رجھایا جاتا ہے تو ریجھ جاتے ہیں ، بلایا جاتا ہے تو چلے جاتے ہیں ، ڈرایا جاتا ہے تو ڈر جاتے ہیں اور اب اتحاد کرنے کیلئے کہا گیا تو وہ بھی کرلیا؟ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ قومی سطح پر ملارجن کھرگے، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی جن نظریات پر جمے رہنے کو اپنا وطیرہ سمجھتے ہیں ، اُن نظریات کو پارٹی کے چھوٹے بڑے لیڈران اور ملک بھر کے کارکنان میں راسخ اور مضبوط نہیں کیا جاسکا ہے جسے پارٹی سے وابستگی کی شرطِ اول ہونا چاہئے۔ مانا کہ امبرناتھ کے تماشے کی اطلاع ریاستی قیادت کو نہ رہی ہو مگر یہ ہوا ہے اور جو ہوا ہے وہ پارٹی کے دامن پر بہرحال دھبہ ہے۔ آخر ایسے لوگ کیوں ہیں پارٹی میں جو نہیں جانتے کہ کس سے مفاہمت اور سمجھوتہ اور اتحاد ہوسکتا ہے اور کس سے نہیں ، کسی قیمت پر نہیں ؟ہمارا خیال ہے کہ کانگریس کو جتنی محنت الیکشن جیتنے کیلئے کرنی چاہئے اُس سے زیادہ اپنے نظریات کو دلوں پر نقش کرنے کیلئے بھی۔