کمرشیل سلنڈر کالابازاری کے باوجود دستیاب نہیں ہیں، گھریلو سلنڈر کیلئے کئی کئی دن کاانتظار، عوام سخت بے چین ، ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز بند ہونے کے دہانے پر
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 11:31 PM IST | New Delhi
کمرشیل سلنڈر کالابازاری کے باوجود دستیاب نہیں ہیں، گھریلو سلنڈر کیلئے کئی کئی دن کاانتظار، عوام سخت بے چین ، ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز بند ہونے کے دہانے پر
امریکہ اور اس کے بغل بچہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر قانونی اور غیر اخلاقی جارحیت کی وجہ سے خطہ مشرق وسطیٰ میں جو ہو رہا ہے سو ہو رہا ہے لیکن اس کا اثر ہزاروں کلومیٹر دور ہندوستان پر بھی واضح طور پر محسوس کیا جارہا ہے کیوں کہ ملک میں رسوئی گیس یعنی ایل پی جی (لیکویڈ پیٹرولیم گیس) کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے پورے ملک میں ہاہاکار مچ گیا ہے۔ ہر چند کہ مرکزی داخلہ سیکریٹری نے ایل پی جی کی موجودہ صورتحال سے متعلق تمام ریاستوں کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور چیف سیکریٹریوں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کریں لیکن ان احکامات اور اقدامات سے عوام کے درمیان پھیلا ہراس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
حکومت کی ہدایات
مرکزی حکومت کی جانب سےحکام سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک بھر میں ایل پی جی کی ہموار اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔جوائنٹ سیکریٹری مارکیٹنگ اور آئل ریفائنری پیٹرولیم اور قدرتی گیس سجاتا شرما نے کہا کہ ایل پی جی کو فی الحال گھریلو شعبے کیلئے ترجیح دی جا رہی ہے۔ غیر گھریلو استعمال میں صرف اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسی ضروری خدمات کو ترجیح دی جا ئے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی ریاستی حکام اور صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر منصوبے کو حتمی شکل دینے کیلئے کام کر رہی ہے تاکہ ایل پی جی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم ہو۔
ملک بھر میں افراتفری
ایل پی جی کی قلت ملک کے کئی حصوں میں بڑھتی جارہی ہے جس سے ہوٹلوں، ریستورانوں اور پبلک کینٹین کا کام متاثر ہو رہا ہے۔ متبادل ایندھن استعمال کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے لیکن متبادل دستیاب ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے سیکڑوں ہوٹل اور چھوٹے چھوٹے ریستوران بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ خود ممبئی میں حال برا ہے۔ دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں میں سب سے زیادہ ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں چونکہ متبال ایندھن دستیاب ہوتا ہے اس لئے وہاں قلت کے باوجود اتنی افراتفری نہیں ہے لیکن شہری علاقوں میں کھانے پکانے کیلئے صرف گیس سلنڈر ہی ایک اکلوتا متبادل ہے اس لئے کئی شہروں میں کہرام مچا ہوا ہے۔گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کیلئے ایجنسیوں کے باہر قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ اس افراتفری کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے سلنڈروں کی راشننگ بھی ہے۔ یعنی حکومت نے اب سلنڈر ’’ری فل ‘‘کیلئے بکنگ ۲۰؍ دن بعد ہی کرنے کی اجازت دی ہے اس کی وجہ سے بدحواس ہوئے جارہے ہیں۔
مختلف اقدامات
گجرات حکومت نے اعلان کیاکہ صنعتوں کیلئے گیس کی سپلائی میں ۵۰؍ فیصدکمی کی گئی ہے، جبکہ کھاد اور دودھ کی پروسیسنگ یونٹس کوچالیس فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑے گا تاکہ گھریلو صارفین کے لیے بلاتعطل سلنڈر کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ بنگلور میںایل پی جی کی قلت نے ہوٹلوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کئی ریسٹورینٹ نے اطلاع دی ہے کہ انہیں لگاتار دو دنوں سے سلنڈر نہیں ملے ہیں۔چنئی میں،کمرشیل سلنڈروں کی سپلائی میں تاخیر کی وجہ سے کئی چھوٹے کھانے پینے کی دکانوں نے عارضی طور پر کام بند کر دیا ہے۔اس طرح کے کھانے پینے کی جگہوں پر مقبول بہت سے پکوانوںکی مقدار کم کردی گئی ۔