احمد نگر ضلع میں گولڈن ٹرینگل ممبئی۔ پونے۔ ناسک۔ ممبئی ہائی وے پر واقع سنگم نیر سب سے بڑا شہر ہے جو ایک ایجوکیشن ہب (تعلیمی مرکز) کے طور پر بھی مشہور ہے ۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 11:38 PM IST | Jalgaon
احمد نگر ضلع میں گولڈن ٹرینگل ممبئی۔ پونے۔ ناسک۔ ممبئی ہائی وے پر واقع سنگم نیر سب سے بڑا شہر ہے جو ایک ایجوکیشن ہب (تعلیمی مرکز) کے طور پر بھی مشہور ہے ۔
احمد نگر ضلع میں گولڈن ٹرینگل ممبئی۔ پونے۔ ناسک۔ ممبئی ہائی وے پر واقع سنگم نیر سب سے بڑا شہر ہے جو ایک ایجوکیشن ہب (تعلیمی مرکز) کے طور پر بھی مشہور ہے ۔ یہاں تقریباً ۱۰؍ یا ۱۱؍ میڈیکل کالج۹ ہیں ؍ تا ۱۰؍ فارمیسی اور ۴؍ یا ۵؍ انجینئرنگ اور پالی ٹیکنک کالج ہیں۔ جتنے کالج ہیں اتنے ہی ہاسٹل موجود ہیں جہاںباہر سے آئے ہوئے طلبہ قیام کرتے ہیں ۔ ان ہاسٹلوں میں مسلم بھی کثیر تعداد میں رہتے ہیں جو ظاہر ہے رمضان المبارک میں روزے بھی رکھتے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر میڈیکل کالج شہر سے کافی دور ہیں جسکی وجہ سے رمضان المبارک میں سحری کیلئے ان طلبہ کوسخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ جہاں خلقت کومشکلات درپیش ہوں وہیں درمند انسان بھی موجود ہوتے ہیں۔سنگم نیر کے ہاسٹلوں میں مقیم ان طلبہ کی پریشانیوں کو بھی چند درمند نوجوانوں محسوس کیا اور ۲۰۰۸ء میں ان کیلئے حسب توفیق اور حسب حیثیت سحری کا انتظام کرنا شروع کیا۔
چھوٹے پیمانے پر کھانا بناکر طلبہ کو بلامعائوضہ فراہم کرنے کا یہ سلسلہ اتنا پھیل گیا کہ آج ہر ہاسٹل تک طلبہ کو سحری پہنچ جاتی ہے۔ شروع میںصرف ۵۰؍ طلبہ کیلئے کھانا پکایا جاتا تھا۔ آج ہر ہاسٹل میں تقریباً ۳۰۰؍ مسلم طلبہ کو پابندی سے ٹفن دیئے جارہے ہیں ۔اس نیکی میں دیگر لوگوں کے ساتھ پیش پیش رہنے والے ایڈوکیٹ تنویر شیخ بتاتے ہیں کہ نوجوانان سنگم نیر،شہر کے پونے روڑ پر واقع نثار ہوٹل کے قریب رات بھر جاگ کر سحری کا کھانا تیار کرتے ہیں ۔ شروع میں ہمیں اس کام میںکئی مرتبہ مشکلوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پولیس نے ہماری سرگرمیوں کی تحقیقات بھی کی لیکن جانچ میں اطمینان ہونے پرضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نےہماری مدد اور حوصلہ افزائی بھی کی ۔ تنویر شیخ بتاتے ہیں کہ’’ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے اس کام کو شہرت حاصل ہو چکی ہے۔ وہ تو ایک بار امرت واہنی کالج آف فارمیسی میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں انڈونیشیا سے بھی ایک وفد نے شرکت کی تھی جس میں تمام مسلم افراد تھے۔جب ان کیلئے سحری کے انتظام کی ضرورت آن پڑی تو منتظمین پریشان ہو گئے۔ انہیں کسی نے ہمارا پتہ دیا اس وفد نے ہمارے بھیجے ہوئے ٹفن سے سحری کی اورہماری ہمت افزائی کی ۔اس پر امرت وا ہنی انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او نےہمارے سبھی اراکین کا والہانہ استقبالیہ کیا ۔ تب ہمیںلوگوں کی نگاہ میں ہمارے کام کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔
تنویر شیخ بتاتے ہیں کہ رات ۳؍ بجے کے قریب سبزی،گوشت،چکن وغیرہ کے ٹفن تیارکرنے کے بعد انہیں ان طلبہ تک پہنچانا اہم چیلنج ہے کیونکہ اشوین آیورویدیک میڈیکل کالج جو احمد نگر روڈ پر ہے وہ یہاں سے ۲۲؍ کلو میٹر دور ہے۔، گنجال ہومیوپیتھک کالج چندنا پوری گھاٹ، ۱۷؍ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسی طرح اتھاپے میڈیکل کالج ،بھانوداس ڈیرے میڈیکل کالج ،ایم بی ٹی ڈینٹل کالج ،امرت واہنی انجینئرنگ کالج وغیرہ بھی خاصے فاصلے پر ہیں۔ یہاں سے نوجوان اپنی اپنی ۲؍ ؍ٹو وہیلر ۳؍ وہیلر اور بعض لوگ فور وہیلر کےذریعے ان طلبہ تک سحری پہنچاتےہیں ۔انہوں نے بتایا کہ روزانہ کم و بیش ۸؍ تا ۱۰؍ ہزار روپےکاخرچ سحری کی تیاری میں آتا ہے۔ شروع میںجب محدود پیمانے پر سحری تیار کی جاتی تھی تو ہم سب مل کر اپنی جیب سے اخراجات پورے کرتے تھے لیکن جیسے جیسے لوگوں کو ہمارے کام کا علم ہوا تو لوگوں نے بھی آگے بڑھ کر اپنی مٹھیاں کھولیں۔ اب تمام اخراجات کسی نے کسی طرح پورے ہو جاتے ہیں۔سنگم نیر کے عبدالقدوس شیخ، عظیم خان، حاجی نثار خان، حاجی اخلاق محمد بیگ، حاجی اسلم شیخ اور ان کے ساتھی گزشتہ ۱۸ ؍ سال سے شدت کی گرمی ، کڑاکے کی سردی ،طوفانی بارشِ کی پروا کئے بغیر بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔