Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ رات بار بار آسکتی ہے!

Updated: May 02, 2026, 2:00 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

۱۹۶۶ء میں ایک فلم آئی تھی ’’یہ رات پھر نہ آئے گی‘‘۔ اس کے کئی نغمے مثلاً یہی وہ جگہ ہے یہی وہ فضا ہے، حضور والا جو ہو اجازت اور پھر ملو گے کبھی اس بات کا وعدہ کرلوبہت مقبول ہوئے تھے۔

INN
آئی این این
۱۹۶۶ء میں  ایک فلم آئی تھی ’’یہ رات پھر نہ آئے گی‘‘۔ اس کے کئی نغمے مثلاً یہی وہ جگہ ہے یہی وہ فضا ہے، حضور والا جو ہو اجازت اور پھر ملو گے کبھی اس بات کا وعدہ کرلوبہت مقبول ہوئے تھے۔ آج بھی اُتنے ہی مقبول ہیں ۔ یہ بات اس لئے یاد آگئی کہ انسانی زندگی میں  کبھی کبھی کوئی ایسی رات گزرتی ہے جس کے بارے میں  کہا جاسکتا ہے کہ یہ پھر نہ آئے گی، مگر، مغربی بنگال کے بھوانی پور حلقۂ انتخاب میں  ۳۰؍ اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب میں  جو کچھ ہوا اس سے یہ اندیشہ لاحق ہوگیا ہےکہ اگر ملک کا انتخابی نظام درست نہیں  ہوا تو یہ رات بار بار بھی آسکتی ہے۔
بھوانی پور وہ حلقۂ اسمبلی ہے جہاں  سے ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود الیکشن لڑ رہی ہیں ۔یہاں  کے ایک اسٹرانگ روم کے باہر شام ہی سے صورت حال کشیدہ ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پارٹی کارکنان کو کوئی ہلچل دکھائی دی۔ اُنہوں  نے اس پر اعتراض کیا۔ کئی پارٹی ورکر وہاں  موجود تھے، مزید ورکر جمع ہوگئے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ممتا بنرجی خود بھی وہاں  پہنچ گئیں  یہ دیکھے بغیر کہ آدھی رات کا وقت ہے۔ سیکوریٹی اہلکاروں  نے اُنہیں  روکا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مَیں  اجازت لینے کے بعد اسٹرانگ روم کی جانب بڑھی تھی مگر مجھے روک دیا گیا۔ اس صورت حال کے پیش نظر اُنہو ں نے یہ کہتے ہوئے انتخابی افسران کو متنبہ کیا کہ ’’ای وی ایم لو‘ٹنے کی کوشش ہورہی ہے مگر مَیں  مرتے دم تک ایسا نہیں  ہونے دوں  گی۔‘‘ بعد ازیں  ٹی ایم سی کے کارکنان نے وہاں  دھرنا دیا ۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ بیلٹ باکس اُن کے نمائندوں  کی عدم موجودگی میں  کھولے گئے۔ اگر انتخابی کمیشن کے افسران کے اس بیان پر بھروسہ کربھی لیا جائے کہ پوسٹل بیلٹ کی چھنٹائی ہورہی تھی، اس کیلئے الگ الگ پارٹیوں  کے لوگوں  کو بلایا گیا تھا لیکن اُن کے لوگ نہیں  آئے تب بھی یہ سوال برقرار ہے کہ یہ کام دن کی روشنی میں  کیوں  نہیں  کیا گیا اور رات کے اندھیرے میں  کیوں  کیا جارہا تھا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب پارٹیوں  کے نمائندوں  کو بلایا گیا تھا تو کیا وجہ تھی کہ کوئی  نہیں  آیا؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ جب کوئی نمائندہ نہیں  آیا تو پوسٹل بیلٹ کی چھنٹائی کو مؤخر کیوں  نہیں  کیا گیا؟ ٹی ایم سی نے اس واقعہ کا ویڈیو جاری کیا اور لکھا کہ ’’کس طرح بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر متعلقہ پارٹیوں  کی غیر موجودگی میں  بیلٹ باکس کھول رہے ہیں ۔یہ سنگین انتخابی دھوکہ ہے۔‘‘ اس پیغام میں  ٹی ایم سی کے اُن لیڈروں  کے نام بھی درج تھے جو  نیتا جی انڈور اسٹیڈیم کے باہر دھرنا دے رہے تھے۔  
ہم یہ باتیں  موصولہ خبروں  کی بنیاد پر لکھ رہے ہیں ، ان کی توثیق اپنے ذرائع سے نہیں  کرسکے ہیں  اسی لئے چاہتے ہیں  کہ انتخابی کمیشن خود شفافیت کو اولین ترجیح دے اور اگر کوئی چیز خلاف ِ معمول ہورہی ہے تو خود بتائے اور قبل از وقت بتائے کہ اس کے افسران کہاں  کیا کرنے جا رہے ہیں ۔ کمیشن پر لازم ہے کہ ایسے حالات نہ پیدا ہونے دے جن سے شک و شبہ کو تقویت ملے۔ ممکن ہے اسٹرانگ روم اور ای وی ایم کے تعلق سے ٹی ایم سی کارکنان اور لیڈران زیادہ حساس ہوں ۔ اگر ایسا ہے تب بھی الیکشن کمیشن ہی سے مطالبہ کیا جائیگا کہ اُس نے ایسے حالات کیوں  پیدا ہونے دیئے جن میں  کسی پارٹی کے لوگوں  کی حساسیت بڑھ جائے اور وہ ہر نقل و حرکت کو شک کی نظر سے دیکھیں ؟ یہ انتخابی کمیشن کے عملے کے تئیں  سیاسی جماعتوں  کی بے اعتمادی کا نتیجہ ہے جس سے انتخابی کمیشن کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK