Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹرانگ روم کی حفاظت کیلئے ممتا خود پہنچیں!

Updated: May 01, 2026, 11:58 PM IST | Kolkata

۴؍ گھنٹے تک پارٹی کارکنوں کے ساتھ اسٹرانگ روم کے باہر احتجاج کیا ، الیکشن کمیشن پر بے ضابطگیوں کا الزام ، گڑبڑی پر بی جے پی کو سبق سکھانے کا اعلان

Chief Minister Mamata Banerjee talking to the media outside Sakhawat School in Kolkata. (Photo: PTI)
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کولکاتا کے سخاوت اسکول کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

گزشتہ شب یہاں زبردست ڈراما ، احتجاج اور  ایک دوسرے پر الزام در الزام کا سلسلہ دیکھنے کو ملا ۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو خود اسٹرانگ روم کی حفاظت کے لئے پہنچنا پڑا۔ وہ تقریباً ۴؍ گھنٹے تک اسٹرانگ روم کے باہر احتجاج اور دھرنے پر بیٹھی رہیں۔اس سے قبل  دیر  رات  مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کیا۔ اس ویڈیو میں ٹی ایم سی نے اسٹرانگ روم میں پوسٹل بیلٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا جس کے بعد پارٹی لیڈران کا متعلقہ مقام پر پہنچنا شروع ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود بھی وہاں پہنچ گئیں اور دھرنا و احتجاج شروع ہو گیا۔
  معاملہ بڑھنے پر الیکشن کمیشن کو پریس کانفرنس کر کے صورتحال واضح کرنی پڑی۔ اس دوران ریاست میں زبردست ہلچل دیکھنے کو ملی جو دیر رات تک جاری رہی۔ رپورٹس کے مطابق جمعرات کو شام تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا، پھر سیاسی پارٹیوں کو  ایک ای میل موصول ہوا جس میں اطلاع دی گئی کہ شام ۴؍بجے اسٹرانگ روم کھولا جائے گا۔ جانکاری ملتے ہی ٹی ایم سی  لیڈرکنال گھوش اور ششی پانجا موقع پر پہنچےلیکن انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ٹی ایم سی نے اس پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نمائندوں کے بغیر پوسٹل بیلٹ اور پنک پیپر کو کھولنا جمہوریت کے خلاف ہے۔ پارٹی نے اس کا ویڈیو بھی شیئرکیا جس کے بعد علاقے میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا۔ 
 کنال گھوش اور ششی پانجا اسٹرانگ روم کے باہر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے اور کچھ ہی دیر میں ممتا بنرجی بھی موقع پر پہنچ گئیں۔وزیر اعلیٰ کی اپیل پر بڑی تعداد میں ٹی ایم سی کے حامی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے اور ممتا کےپہنچ جانے سے ان میں مزید جوش بھرگیا۔وہ کولکاتا میں واقع سخاوت میموریل اسکول میں قائم اسٹرانگ روم پہنچیں اور تقریباً ۴؍گھنٹے وہاں رہیں۔ اسی اسکول میں بھوانی پور اسمبلی حلقہ کی ای وی ایم مشینیں رکھی گئی ہیں جہاں سے خود ممتا بنرجی امیدوار ہیں۔
  اسٹرانگ روم سے باہر آنے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ سیکوریٹی اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روکا۔ تاہم جب انہوں نے کہا کہ انہیں انتخابی ضوابط کے مطابق سیل شدہ کمرے کے باہر تک جانے کا حق ہے تو انہیں اجازت دے دی گئی۔ممتا بنرجی نے کئی مقامات پر بے ضابطگیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو وہ بی جے پی کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ای وی ایم مشینیں چھیننے کی کوشش کرے گا تو وہ پوری طاقت سے مقابلہ کریں گی۔ ٹی ایم سی کے جارحانہ رویے، دھرنے اور الزامات کے درمیان کئی گھنٹوں تک ماحول گرم رہا  اور اس دوران ٹی ایم سی اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپیں کئی مرتبہ فورسیز کی مداخلت سے ٹل گئیںلیکن سخت بیان بازی کا سلسلہ جاری رہا۔
 اس درمیان کنال گھوش نے کہا کہ طے پایا تھا اطلاع کے بغیر اسٹرانگ روم کی سیل نہیں توڑی جائے گی، پھر ایسا کیوں ہوا؟ انہوں نے بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا۔ دریں اثناءٹی ایم سی کے الزامات پر الیکشن کمیشن کو رات  ہی کے وقت پریس کانفرنس کرنی پڑی۔ کمیشن نے ممتا کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹرانگ روم میں رکھے بیلٹس کی چھان بین کی جا رہی تھی، جو ایک معمول کی کارروائی ہے اورتمام پارٹیوں کو اس کی پیشگی اطلاع دی جا چکی تھی۔ بیلٹ باکس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے۔کمیشن  نے یہ بھی بتایا کہ ’کھدی رام انوشیلن سینٹر‘ کے تمام ۷؍ اسٹرانگ روم مکمل طور پر محفوظ ہیں جبکہ پوسٹل بیلٹس کی چھنٹنی کا عمل ایک دوسرے کمرے میں جاری تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK