Inquilab Logo Happiest Places to Work

یاد رہے گا یہ الیکشن!

Updated: April 30, 2026, 12:05 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مغربی بنگال کا یہ اسمبلی الیکشن، جس کیلئے ۲۳؍ اور کل ۲۹؍ اپریل کو پولنگ ہوئی، کئی وجوہات کی بناء پر عرصہ ٔ دراز تک یاد رکھا جائیگا۔ اس کیلئے جتنی بڑی تعداد میں مرکزی فورس لگایا گیا، اس کی نظیر شاید آزاد ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں کہیں نہ ملے۔

West Bengal Assembly Election.Photo:PTI
مغربی بنگال کا الیکشن۔ تصویر:پی ٹی آئی
مغربی بنگال کا یہ اسمبلی الیکشن، جس کیلئے ۲۳؍ اور کل ۲۹؍ اپریل کو پولنگ ہوئی، کئی وجوہات کی بناء پر عرصہ ٔ دراز تک یاد رکھا جائیگا۔ اس کیلئے جتنی بڑی تعداد میں مرکزی فورس لگایا گیا، اس کی نظیر شاید آزاد ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں کہیں نہ ملے۔ کیا اس کی ضرورت تھی؟ یہ سوال سب کی زبانوں پر ہے۔ الیکشن کمیشن اس کا جواب دے یا نہ دے، غیر جانبدار عوام نے جان لیا کہ اس کی وجہ کیا تھی۔
لوک سبھا الیکشن۲۰۲۴ء کیلئے ملک بھر میں مبینہ طور پر تین لاکھ چالیس ہزار سپاہی تعینات کئے گئے تھے مگر صرف مغربی بنگال کیلئے دو لاکھ چالیس ہزار کی نفری مامور کی گئی ۔ کیا اس کا مفہوم وہی تھا جو ٹی ایم سی کی قیادت اور کارکنان نے سمجھا، یا اس کا مطلب کچھ اور تھا؟ اگر اس کا مقصد دھاندلی، مڈ بھیڑ اور تشدد کو روکنا تھا تاکہ پُرامن پولنگ ہو تو کیا اس کیلئے اتنی بڑی جمعیت؟ یہ ایک سوال ہے، دوسرا یہ ہے کہ کیا دھاندلی، مڈ بھیڑ اور تشدد سے پولنگ  پاک رہی؟ ان سوالوں پر غور کرنا ضروری ہے۔ پہلے اور دوسرے مرحلے کی پولنگ کا موازنہ کرلیجئے، دوسرے مرحلے میں دھاندلی، دھکا مکی اور ڈر کا ماحول پیدا کرنے سے متعلق زیادہ شکایتیں ہوئی ہیں۔ کیا اتنی بڑی فورس کی تعیناتی کے سبب الیکشن کو مکمل طور پر پُرامن نہیں ہونا چاہئے تھا؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انتخابی عمل پورا ہوجانے کے بعد سوالوں اور شکایتوں کو بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ انتخابات پُرامن ہوئے تو حسن انتظام کی ستائش ہونی چاہئے اور اگر ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے تو ان کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہئے۔ 
 
 
یاد رہنا چاہئے کہ الیکشن صرف مغربی بنگال میں نہیں ہوا، مزید چار ریاستوں میں بھی ہوا مگر کسی بھی دوسری ریاست میں ایسے حالات نہیں پیدا ہوئے جیسے حالات کا مشاہدہ مغربی بنگال میں کیا گیا۔ ایک انتخابی مہم میں مرکزی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ ’’گڑبڑ کرنے والوں کو اُلٹا لٹکا کر سیدھا کیا جائیگا‘‘ کتنا درست ہے اور وزیر داخلہ کے عہدہ پر فائز رہنے والی شخصیت کو کتنا زیب دیتا ہے اس کا فیصلہ ایک عام آدمی بھی کرسکتا ہے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کے تعینات کردہ اُس افسر (اجے پال شرما) کا بھی معاملہ ہے جس نے گھروں میں گھس کر ووٹروں کو دھمکی دی۔ اس سلسلے کا ایک ویڈیو جو دور دور تک پہنچا اور دیکھا گیا اگر درست ہے تو بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس میں اجے پال شرما ٹی ایم سی اُمیدوار جہانگیر خان کو نام لے کر دھمکا رہے ہیں۔کیا انتخابی کمیشن کی جانب سے بطور مشاہد روانہ کئے گئے افسر کو انتخابی حلقے میں جاکر متنبہ کرنے کا اختیار ہے؟ ہم تو یہی جانتے رہے ہیں کہ انتخابی مشاہدین کا کام صرف جائزہ لینا ہوتا ہے تاکہ بہتری کیلئے مناسب مشورہ دیں۔ دھمکی دینے کی بات تو نہ ہم نے سنی نہ آپ نے سنی ہوگی۔ ماضی میں جو لوگ انتخابی مشاہد رہ چکے ہیں اُنہوں نے منظر عام پر آکر کہا کہ مشاہد کا کام یہ نہیں ہوتا جو اجے پال شرما نے کیا ہے۔
 
 
کیا الیکشن کمیشن تک یہ ساری باتیں پہنچی ہیں؟ کیا وہ اِس نوع کے واقعات کے بعد کچھ کرنا چاہے گا؟ اُمید نہیں ہے کیونکہ کمیشن نے خود کو جوابدہی سے آزاد سمجھ لیا ہے۔ اب سے پہلے اس پر جو الزام لگے، کرناٹک کی انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کے جو شواہد پیش کئے گئے، بہار میں جو کچھ ہوا اور اب مغربی بنگال میں جو کچھ ہوا، ان سب پر اس نے یا تو ردعمل نہیں دیا یا  ٹالنے والا ردعمل دیا۔ شاید  اس نے آزاد ہونے کا معنی جوابدہی سے بھی آزاد ہونا سمجھ لیا ہے۔ اس کا مزاج کون ٹھیک کرے گا؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK