Inquilab Logo

ملک کے نوجوانوں کی یہ درگت!

Updated: June 21, 2024, 1:35 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ملک کے نوجوانوں کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ کبھی امتحانی پرچے افشاء ہوجاتے ہیں تو کبھی امتحانات منسوخ کردیئے جاتے ہیں ۔ کبھی بعض کے نمبر اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ عقل قبول نہیں کرتی اور کبھی ایسے نمبر دے دیئے جاتے ہیں کہ نمبرنگ سسٹم بھونچکا رہ جاتا ہے۔ بے روزگاری اپنی جگہ قائم ہے اور کم ہونے کا نام نہیں لیتی

Photo: INN
تصویر:آئی این این

 ملک کے نوجوانوں  کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے یہ کہنا مشکل ہے۔ کبھی امتحانی پرچے افشاء ہوجاتے ہیں  تو کبھی امتحانات منسوخ کردیئے جاتے ہیں ۔ کبھی بعض کے نمبر اس حد تک بڑھ جاتے ہیں  کہ عقل قبول نہیں  کرتی اور کبھی ایسے نمبر دے دیئے جاتے ہیں  کہ نمبرنگ سسٹم بھونچکا رہ جاتا ہے۔ بے روزگاری اپنی جگہ قائم ہے اور کم ہونے کا نام نہیں  لیتی۔ 
 جب یہ نوجوان اپنے مطالبات کو لے کر سڑکوں  پر آنے پر مجبور ہوتے ہیں  تو اُن پر لاٹھیاں  برسائی جاتی ہیں ۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ ہم خواب تو وشو گرو بننے کا دیکھ رہے ہیں  مگر جن بازوؤں  کے ذریعہ یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے اُنہی کو کمزور کیا جارہا ہے۔ایک طرف نوجوانوں  کی یہ درگت ہے اور دوسری طرف وہ اعدادوشمار ہیں  جن کا ڈنکا بجانے میں  ہمارے سیاستدانوں  کو ید طولیٰ حاصل ہے۔ ہمیں  اس بات پر ناز ہے کہ ہم دُنیا کے اُن ملکوں  میں  شامل ہیں  جہاں  نوجوانوں  کی تعداد زیادہ ہے۔ اسے معاشی نقطۂ نظر سے خاصی اہمیت حاصل ہے۔ نوجوان زیادہ کا معنی ہے کام کرنے کی عمر کے افراد زیادہ۔ ایسے افراد زیادہ یعنی پیداوار زیادہ اور پیداوار زیادہ کا معنی ہے روزافزوں  معاشی ترقی۔ عاقبت نااندیشی دیکھئے کہ ہم ان حقائق سے واقف ہونے کے باوجود اپنے نوجوانوں  کے ساتھ انصاف نہیں  کررہے ہیں  یا شاید یہ جانتے ہی نہیں  ہیں  کہ انصاف کے تقاضے کیا ہیں !
 وزارت شماریات کے ماتحت ادارہ ’’قومی دفتر شماریات اور نفاذ لائحہ عمل‘‘ نے ۲۰۲۲ء کی اپنی رپورٹ میں  کہا تھا کہ ملک کی ۱ء۳؍ ارب (اُس وقت) کی آبادی کی اوسط عمر ۲۹؍ سال ہے اور اس اعتبار سے ہندوستان دُنیا کے نوجوان ترین ملکوں  میں  سے ایک ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں  یہ بھی کہا گیا تھا کہ ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کی عمر کے نوجوانوں  کی تعداد ۲۷ء۲؍ فیصد ہے۔ اس میں  اگر ۳۰؍ سے ۴۵؍ سال کی عمر کے افراد کو جوڑا جائے، کیونکہ یہ عمر بھی معاشی سرگرمیوں  میں  پوری قوت کےساتھ حصہ لینے کی ہے، تو اس نتیجے پر پہنچنے میں  دیر نہیں  لگے گی کہ بہترین افرادی قوت کے باوجود نہ تو پڑھائی لکھائی میں  نوجوانوں  کی سرپرستی ہوپارہی ہے نہ ہی حصول روزگار میں  ان کے ساتھ تعاون جیسا تعاون ہورہا ہے۔
  آبادی کے فوائد کیلئے معاشی اصطلاح ’’ڈیموگرافک ڈویڈنڈ‘‘ استعمال کی جاتی ہے یعنی آبادی سے ہونے والا معاشی فائدہ۔ چونکہ نوجوانوں  کو ہر محاذ پر لڑنا پڑ رہا ہے اس لئے ہمارا ملک مذکورہ بالا آبادیاتی فائدہ اُٹھانے سے محروم ہے۔ یاد کیجئے ۲۰۱۱ء کے آس پاس پوری دُنیا کس طرح ہندوستان کو قابل رشک نگاہوں  سے دیکھ رہی تھی۔ یہ وہی وقت تھا جب جاپان سمیت کئی ملکوں  میں  معمر اور بزرگ لوگوں  کی تعداد زیادہ تھی۔ ہندوستان کی نوجوان آبادی ۲۰۱۱ء میں  نقطۂ عروج پر پہنچی، اس کے بعد اس میں  کمی آنی شروع ہوئی۔ مگر، نہ تو ۲۰۱۱ء میں  اس آبادی کے ساتھ انصاف کیا گیا نہ ہی ۲۰۲۴ء میں  اس کی فریاد سنی جارہی ہے۔
  کہیں  اس کی وجہ یہ تو نہیں  کہ سبھی نوجوانوں  کا کام ریلیوں  میں  شرکت کرنا، ٹرول آرمی کا حصہ بننا، سڑکوں  پر مٹر گشتی یا آبادی کے بعض طبقات کے خلاف دھینگا مشتی کرنا او راُنہیں  ڈرانا دھمکانا سمجھ لیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اُن نوجوانوں  کا کیا جو پڑھ لکھ کر قابل قدر بننے کی کوشش میں  دن رات محنت کرتے ہیں ؟ ان کے خوابوں  اور آرزوؤں  کا کیا ہوگا؟ یہ تو ٹرول آرمی میں  شامل ہونا نہیں  چاہتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK