رمضان آیا اور بندگان خدا میں دردمندی پیدا نہیں ہوئی تو کیسے مانا جائے کہ ورودِ رمضان ہوا تھا؟ رمضان آیا اور بندگان خدا نے بغض و کینہ کو دور کرکے اپنا دل آئینے کی طرح صاف نہیں کرلیا تو کون تسلیم کرے گا کہ رمضان نے اِس کام کیلئے ہمیں ایک اور موقع دیا تھا؟
رمضان آیا اور بندگان خدا میں دردمندی پیدا نہیں ہوئی تو کیسے مانا جائے کہ ورودِ رمضان ہوا تھا؟ رمضان آیا اور بندگان خدا نے بغض و کینہ کو دور کرکے اپنا دل آئینے کی طرح صاف نہیں کرلیا تو کون تسلیم کرے گا کہ رمضان نے اِس کام کیلئے ہمیں ایک اور موقع دیا تھا؟ رمضان آیا اور بندگان خدا نے اُن لوگوں کو تلاش کرکے اُن کی خاطرخواہ مدد نہیں کی اور مواخاۃ کا فریضہ ادا نہیں کیا جو امداد کے مستحق ہیں تو کوئی کتنا ہی اصرار کرے کہ رحمتوں کا مہینہ سایہ فگن ہوا تھا، کون رمضان کے وسیع تر معنی کا تذکرہ بھی کرسکے گا کہ رمضان صرف روزہ رکھوانے نہیں آتا بلکہ خدا ترسی اور انسان دوستی پیدا کرنے کیلئے آتا ہے؟ رمضان آیا اور اگر اس کی وجہ سے دل کی کیفیت نہیں بدلی تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رمضان آیا تھا؟
ماہ مبارک ابھی جاری ہے اور سحر و افطار کے مناظر، مساجد کا مصلیان سے معمور ہونا، نماز تراویح ادا کرنے کی تڑپ اور ایسے ہی کئی دیگر مظاہر سے ثابت ہے کہ ماہِ مقدس بندگان خدا کو فیضیاب کررہا ہے اس لئے کوئی عقل کا اندھا ہی کہے گا کہ رمضان نہیں آیا ہے مگر ’’نعمت یاب‘‘ ہونے اور ’’نعمت سے فیضیاب‘‘ ہونے میں جو فرق ہے وہی رمضان کے آنے اور اس سے مستفید ہونے میں ہے۔
رمضان کا آنا نعمت یاب ہونے کا مژدہ ہے اور رمضان کو رمضان کی طرح گزارنا اور خود کو سنوارنا نعمت سے فیضیاب ہونا ہے۔ کوئی انسان کسی اور کے بارے میں ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ وہ نعمت یاب ہوا ہے یا نعمت سے فیضیاب ہوا ہے مگر وہ اپنا محاسبہ کرکے ضرور طے کرسکتا ہے کہ وہ نعمت یاب ہوا ہے یا فیضیاب بھی ہوا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد روزہ و نماز اور قیام اللیل کا اہتمام کرتی ہے۔ اس ماہ میں مساجد میں صفیں بڑھ جاتی ہیں ۔ یوم ِ جمعہ کے مناظر دیدنی ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں کی اکثریت روزہ کا اہتمام کرتی ہے اور جن لوگوں کو ’’نام کے مسلمان‘‘ کہا جاتا ہے اُن میں بھی تبدیلی آجاتی ہے نیز اُن کا دل نمازوں کی جانب ملتفت رہتا ہے۔ مگر محاسبہ کا معنی یہی نہیں ہے کہ ہم اپنی نماز اور اپنے روزہ کی فکر کرلیں یا اُن کا تنقیدی جائز ہ لیں کہ ان عبادات میں ہم کتنے کامیاب ہیں ۔ رمضان غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور بندگان خدا کو حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا کرنے کی طرف راغب کرتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرتے ہیں اُن کا دائرہ بھی محدود ہے۔ وہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ اپنے طرز عمل کا جائزہ لے کر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ حقوق العباد ادا کررہے ہیں ۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ علماء بہتر طور پر رہنمائی فرما سکتے ہیں مگر ہم جہاں تک سمجھتے ہیں اس کا دائرہ وسیع ہے۔
اس دائرہ میں یہ دیکھنا بھی آتا ہے کہ کہیں آپ عوامی مقامات پر حائل تو نہیں ہیں ؟ کہیں آپ ٹریفک میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی تو نہیں کررہے ہیں ؟ کہیں آپ دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں اُن کا حق سلب تو نہیں کررہے ہیں ؟ کہیں آپ بھکاریوں کو دے کر اُس ضرورتمند سے چشم پوشی تو نہیں کررہے ہیں جو ہاتھ نہیں پھیلاتا؟ پھر یہ بھی کہ کیا آپ اسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں تاکہ زیر علاج مریضوں کے کسی کام آسکیں ؟ ایسے پچاسوں کام ہیں جن کے بارے میں سوچا تک نہیں جاتا مگر جن کی اہمیت ہے۔ موجودہ دور میں تو یہ سب بہت اہم ہے۔