Updated: February 27, 2026, 3:04 PM IST
| New Delhi
دہلی کی ایک عدالت نے شراب ایکسائز پالیسی کیس میں سی بی آئی کی جانب سے نامزد تمام ملزمان، بشمول اروند کیجریوال اورمنیش سسودیا کو بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پالیسی میں کسی وسیع سازش یا مجرمانہ نیت کے شواہد موجود نہیں تھے اور چارج شیٹ میں کئی قانونی نقائص پائے گئے۔
اروند کیجریوال نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے، ساتھ میں کھڑے منیش سسودیا انہیں تسلی دے رہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی
جمعہ کو ایک دہلی کی عدالت نے شراب پالیسی کیس میں سی بی آئی کی جانب سے نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا، جن میں اروند کیجریوال اورمنیش سسودیا بھی شامل ہیں۔ عدالتِ راؤز ایونیو نے کہا کہ ایکسائز پالیسی میں کوئی وسیع سازش یا مجرمانہ نیت ثابت نہیں ہوئی۔ اس کیس میں بری کئے گئے دیگر۲۱؍ افراد میں سابق بھارت راشٹرا سمیتی لیڈر کے کویتا بھی شامل تھیں۔ عدالت نے سی بی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیجریوال اور سسودیا کو بغیر کسی ٹھوس مواد کے نامزد کیا گیا۔ لائیو لا کے مطابق چارج شیٹ میں کئی خلا تھے جن کی تائید کسی گواہ یا بیان سے نہیں ہوتی تھی۔ بینچ نے کہا کہ وہ اُن سی بی آئی افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کی سفارش کرے گی جنہوں نے ایک سرکاری عہدیدار کو اس مقدمے میں ملزم نمبر ایک بنایا۔ اے این آئی کے مطابق سی بی آئی اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی، یوپی، بہار اور راجستھان میں فروری میں ہی گرمی رنگ دکھانے لگی
آزاد ہندوستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی سازش رچی گئی: کیجریوال
فیصلے کے بعد کیجریوال نے کہا کہ سچائی کی فتح ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مل کر عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کیلئے’سب سے بڑی سیاسی سازش‘رچی۔ انہوں نے کہا، ’’برسرِ اقتدار وزیر اعلیٰ کو گھر سے گھسیٹ کر جیل میں ڈالا گیا۔ ‘‘
سسودیا نے کہا کہ ’’مودی جی کی پوری پارٹی اور ان کی تمام ایجنسیوں کی جانب سے ہمیں بدعنوان ثابت کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ ثابت ہو گیا ہے کہ وہ اور کیجریوا ل کٹر ایماندار ہیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا بھی حکم دیا۔ بی جے پیکے لیڈر سدھانشو ترویدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عدالت نے شواہد کی کمی کی بنیاد پر کیجریوال کو بری کیا اور اسے’تکنیکی معاملہ ‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی اس کیس میں اگلا قدم اٹھائے گی اور پارٹی تفصیلی فیصلے کا مطالعہ کرنے کے بعد باقاعدہ ردعمل دے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الزامات بے بنیاد تھے تو فردِ جرم کیسے عائد ہوئی؟
کیجریوال کی گرفتاری
کیجریوال، جو اس وقت دہلی کے وزیر اعلیٰ تھے، کو مارچ ۲۰۲۴ء میں ای ڈی نے گرفتار کیا۔ جولائی ۲۰۲۴ءمیں سپریم کورٹ نے انہیں اس کیس میں عبوری ضمانت دی، تاہم، وہ جیل میں رہے کیونکہ جون۲۰۲۴ءمیں سی بی آئی نے بھی اسی کیس میں انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ بالآخر ستمبر ۲۰۲۴ءمیں سپریم کورٹ کی جانب سے سی بی آئی کیس میں ضمانت ملنے کے بعد انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔
الزامات
سی بی آئی نے دہلی حکومت کی شراب ایکسائز پالیسی میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا، جو بعد میں منسوخ کر دی گئی۔ سی بی آئی کیس کی بنیاد پر ای ڈی نے بھی منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات شروع کیں۔ یہ پالیسی نومبر ۲۰۲۱ءمیں نافذ ہوئی تھی اور جولائی ۲۰۲۲ءمیں اس وقت کے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ونئی کمار سکسینہ کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی سفارش کے بعد واپس لے لی گئی۔ مرکزی ایجنسیوں کا الزام تھا کہ اس وقت کی عام آدمی پارٹی حکومت نے تھوک فروشوں کے کمیشن کو ۵؍ فیصد سے بڑھا کر۱۲؍ فیصد کر دیا، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر رشوت وصول کی گئی۔ پارٹی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی پولیس کے اہلکاروں کو ہماچل پولیس نے گرفتار کرلیا!
سسودیا، جو اس وقت دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ تھے، کو فروری۲۰۲۳ءمیں سی بی آئی نے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا، جبکہ ایک ماہ بعد ای ڈی نے بھی انہیں اسی کیس میں گرفتار کر لیا۔ تقریباً ۱۷؍ ماہ بعد اگست۲۰۲۴ء میں انہیں ضمانت ملی۔ واضح رہے کہ سسودیا تقریباً۵۳۰؍ دن جیل میں رہے، جبکہ کیجریوال دو ادوار میں تقریباً۱۵۶؍ دن تک قید میں رہے۔ بریت کے بعد دونوں لیڈران نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ خوشی منائی۔