• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان افغانستان سرحدی تنازع: ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: شہبارشریف

Updated: February 27, 2026, 2:35 PM IST | Islamabad

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اس وقت شدید اضافہ ہوگیا جب پاکستان نے کابل سمیت متعدد افغان شہروں میں فضائی حملے کئے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری جانی و مالی نقصان کے دعوے کئے ہیں، جبکہ عالمی برادری نے تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پاکستان کی اعلیٰ سویلین قیادت نے جمعہ کو افغانستان کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے تناظر میں ملکی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی خطرے پر’فیصلہ کن جواب‘ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ پاکستانی صدرآصف علی زرداری نےکہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ’جامع اور فیصلہ کن‘ ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی کے پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا:’’جو لوگ ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھتے ہیں، انہیں مضبوط جواب کا سامنا کرنا ہوگا اور کوئی بھی ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا۔ ‘‘ایک علاحدہ بیان میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ہر وقت ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی صورت میں قوم کے امن اور سلامتی کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گی۔ 
انہوں نے مزید کہا: ’’ہماری افواج کسی بھی جارحانہ عزائم کو کچلنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ ‘‘جمعرات کو کم از کم آٹھ افغان فوجی اور دو پاکستانی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے جب کابل نے سرحد پار جسے اس نے ’جوابی کارروائی‘ قرار دیا، شروع کی۔ بعد ازاں افغانستان کے نائب حکومتی ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ ’چار گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی‘ مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کو روک دی گئی۔ 

پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، سرحدی کشیدگی میں اضافہ 

پاکستان کی فوج نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کئے ہیں، جن میں دارالحکومت کابل کے علاوہ قندھار اور صوبہ پکتیا بھی شامل ہیں۔ یہ بات افغان حکومت کے ایک ترجمان نے بتائی ہے۔ ایک بیان میں افغان حکام نے کہا کہ پاکستانی افواج نے ’کچھ مخصوص علاقوں ‘ کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کیں جبکہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً ڈھائی بجے کابل کے وسطی علاقے میں کئی بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اگرچہ افغان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم، اسلام آباد نے اس سے کہیں زیادہ تباہ کن تصویر پیش کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں: ٹرمپ

پاکستانی وزیرِاعظم کے ترجمان، مشرف زیدی نے کہا کہ جوابی حملوں میں ۱۳۳؍ افغان فوجی ہلاک اور۲۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی افواج نے افغان فوج کی۲۷؍ چوکیوں، دو کور ہیڈکوارٹرز اور ۸۰؍سے زائد ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ پاکستانی سیکوریٹی ذرائع کے مطابق، قندھار میں ہونے والے حملوں کے دوران اسلحہ کے ایک گودام اور ایک لاجسٹکس بیس کو بھی تباہ کیا گیا۔ دریں اثنا، افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والی افغان افواج کی جوابی کارروائیاں آدھی رات کو ختم ہو گئیں۔ اس سے قبل جمعرات کو چار گھنٹے تک جاری رہنے والی سرحدی جھڑپ میں کم از کم آٹھ افغان فوجی اور دو پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: قدیم مساجد کی تزئین کاری پروجیکٹ کے تحت ’’المضفاۃ‘‘ بھی نئی ہوگئی

کشیدگی میں یہ اضافہ گزشتہ ہفتے پاکستان کی جانب سے کئے گئے فضائی حملوں کے بعد ہوا، جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان میں ۷۰؍ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ اقوام متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔ انتونیو غطریس نے ان جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے ترجمان، اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ غطریس متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور سفارتی حل تلاش کریں۔ تعلقات میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب پاکستان نے الزام عائد کیا کہ شدت پسند افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں، جس کی کابل نے تردید کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK