کوٹک مہندرا بینک کے بانی ڈائریکٹر اُدے کوٹک نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں ’’اُس مڈل مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو سب سے کمزور شعبہ بن گیا ہے۔
ادئے کوٹک۔ تصویر:آئی این این
کوٹک مہندرا بینک کے بانی ڈائریکٹر اُدے کوٹک نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں ’’اُس مڈل مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو سب سے کمزور شعبہ بن گیا ہے۔ اس کے ذریعہ ہی ہم طویل مدتی معاشی تحمل پیدا کرسکیں گے، صنعتی گہرائی کو بہتر بناسکیں گے اور معاشی خود انحصاری کو یقینی بناسکیں گے۔‘‘ یہی وہ نکتہ ہے جس کو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید بھی کہا جاسکتا ہے اور مخلصانہ مشورہ بھی۔ ہماری نظر میں یہ آخر الذکر ہے جس کو بسروچشم قبول کرنا چاہئے کیونکہ ہماری معیشت ان معنوں میں اندر ہی اندر کھوکھلی ہوتی جارہی ہے کہ بے روزگاری عام ہے، برآمدات سے درآمدات زیادہ ہیں، زراعتی شعبہ دباؤ میں ہے، مہنگائی بے قابو ہورہی ہے، روپے کی قدر افسوسناک ہے اور ہم خود کوئی ایسی شے تیار نہیں کرتے جس کے بغیر دوسرے ملکوں کی گاڑی آگے نہ بڑھتی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بہت بڑی کمپنیوں کو پسند کرتے ہیں اور معیشت کا مینوفیکچرنگ سے زیادہ ٹریڈنگ پر انحصار ہے، اس کے علاوہ اگر کچھ ہے تو خدمات کا شعبہ ہے۔ اُدے کوٹک نے اپنے مشورہ کے ذریعہ یہی سمجھانا چاہا ہے کہ ’’مڈل مینوفیکچرنگ‘‘ بہت اہم ہے جو بڑی کمپنیوں کو کھاد فراہم کرتی آئی ہے۔ تمام بڑی کمپنیاں چھوٹی یا نسبتاً چھوٹی کمپنیوں سے کل پرزے اور آلات خریدتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہورہا ہے بلکہ یہ اشیاء بھی بڑی کمپنیاں خود مینوفیکچرکررہی ہیں یا پھر سب کچھ درآمد کیا جارہا ہے بالخصوص چین سے، جس کی وجہ سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتی اکائیوں کے پاس کام نہیں ہے یا وہ بند ہوچکی ہیں یا مشکل حالات میں ہیں۔ یہ وہ صنعتی اکائیاں ہیں جو ۱۰۰؍ سے ۱۰۰۰؍ کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کرتی تھیں اور جہاں ۵۰؍ سے ۵۰۰؍ افراد کام کرتے تھے۔ ادے کوٹک نے اس کیلئے معاشی اصطلاح ’’مسنگ مڈل‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ یہ کیفیت تب پیدا ہوتی ہے جب چھوٹی اور غیر منظم اکائیاں مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔
مودی حکومت مینوفیکچرنگ کی اہمیت سے واقف نہ ہو ایسا نہیں ہے۔ اس نے ’’میک اِن انڈیا‘‘ اور ’’اسکل انڈیا‘‘ یا ’’اسٹارٹ اپ انڈیا‘‘ جیسی اسکیمیں محض اس لئے جاری کیں تاکہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ مستحکم ہو مگر اس کے ذریعہ جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ شعبے کا حصہ ۲۵؍ فیصد کرنا مقصود تھا مگر یہ ہدف پورا نہیں ہوا۔ آج بھی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ ۱۵؍ سے ۱۷؍ یا بعض کے بقول ۱۲؍ فیصد ہے۔ حکومت کا دو سرا ہدف تھا میک ان انڈیا کے ذریعہ ۱۰۰؍ ملین نئے صنعتی روزگار پیدا کرنا۔ ۱۰۰؍ ملین یعنی ۱۰؍ کروڑ۔ ظاہر ہے یہ ہدف بھی پورا نہیں ہوا۔ اسٹارٹ اَپ انڈیا کی کہانی بھی ملتی جلتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اس اسکیم کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، ہندوستان اسٹارٹ اپس کے معاملے میں دُنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن گیا مگر، ماہرین کے بقول، سرمائے کی کمی، مقابلہ آرائی، سرکاری ضابطوں، تجربہ کی کمی اور صحیح پروڈکٹ کیلئے غلط وقت کے انتخاب کی وجہ سے ہر ۱۰؍ میں سے ۹؍ اسٹارٹ اَپ ناکام ہوئے ہیں۔ اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی کامیابی کا عالمی فیصد ۳۳؍ ہے جبکہ ہندوستان میں صرف ۱۰؍ فیصد۔ بحیثیت اسٹارٹ اپ پے ٹی ایم، زومیٹو، سویگی، لینس کارٹ، دہلی ویری، فلپ کارٹ، ریپیڈو اور نائیکا کی کامیابی کا اعتراف ضروری ہے مگر ان میں کتنی کمپنیاں مینوفیکچر کرتی ہیں؟ اس پس منظر میں اُدے کوٹک کی صلاح میں اخلاص اور سچائی نظر آتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اُن صنعتکاروں میں سے نہیں ہیں جو بے باکی سے بچتے ہیں اورپالیسی سازوں کو خفا نہیں کرنا چاہتے۔ اس صلاح کو قبول کرکے اصلاح پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔