انتخابی سیاست کے ماہر کے ساتھ سونیترا پور کی ۲؍ گھنٹے طویل میٹنگ لیکن پارتھ پوار نے خبروں کی تردید کی ۔
پرشانت کشور۔ تصویر:آئی این این
منگل کے روز مہاراشٹر کی سیاست میں پھر ایک بار ہلچل دکھائی دی جب میڈیا کے تقریباً تمام چینلوں نے یہ سرخی چلائی کہ انتخابی سیاست کے ماہر کہلانے والے پرشانت کشور این سی پی ( اجیت ) کے ساتھ بطور مشیر کام کریں گے لیکن شام کو پارٹی سربراہ سونیترا پوار کے بیٹے اور رکن پارلیما ن پارتھ پوار نے اس اس بات کی تردید کردی۔ حالانکہ انہوں نے پرشانت کشور کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کی۔
منگل کو میڈیا میں یہ خبریں چلتی رہیں کہ’’ این سی پی (اجیت) نے ابھی سے آئندہ (۲۰۲۹ء) اسمبلی الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ انتخابی سیاست کے ماہر کہلانے والے پرشانت کشور اب این سی پی ( اجیت) کے ساتھ بطور مشیر کام کریں گے۔‘‘ یہ دعویٰ کیا گیا کہ پرشانت کشور کی ممبئی میں پارٹی سربراہ سونیترا پوار اور ان کے رکن پارلیمان بیٹے پارتھ پوار کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔ ۲؍ گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ این سی پی کی جانب سےپرشانت کشور کو آئندہ الیکشن کی تیاریوں کے تعلق سے ذمہ داری سونپی جائے گی۔ کہا جا رہا تھا کہ تمام رسمی ( قانونی)کارروائیوں کے بعد یکم جون سے پرشانت کشور این سی پی ( اجیت) کے مشیر ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل این سی پی کی جانب سے یہ ذمہ داری نریش اروڑہ کی کمپنی’ ڈیزائن باکس‘ کو سونپی گئی تھی لیکن سونیترا پوار نے پارٹی کی کمان سنبھالتے ہی ’ڈیزائن باکس‘ کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا کیونکہ نریش اروڑہ پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے کے قریبی ہیں اور ان دونوں لیڈران ہی نے ان کی کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا۔ لہٰذا اس بات میں دم نظر آیا کہ اب سونیترا پوار نے یہ ذمہ داری پرشانت کشور کو سونپی ہے۔
پارتھ پوار کی جانب سے تردید
میڈیا میں یہ خبر آنے کے بعد پارتھ پوار نے خود ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ اطلاع دی کہ پرشانت کشور این سی پی کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے لکھا ہے ’’ پرشانت جی ہمارے دوست اور بھائی جیسے ہیں۔ (اجیت) دادا کے زمانے سے ہماری ان کی پہچان ہے۔ کل وہ شہر میں آئے ہوئے تھے لہٰذا ہمیں انہیں اپنے گھر کھانے پر بلانے اور کچھ گفتگو کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ‘‘ آگے وہ لکھتے ہیں ’’ لیکن ان کے این سی پی کے ساتھ کام کرنے کے تعلق سے میں واضح کر دوں کہ جہاں تک مجھے علم ہے وہ کچھ سال پہلے سیاسی مشیر کے طور پر کام کرنے کا سلسلہ ترک کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ فی الحال اس فیصلے میں کوئی تبدیلی ہوگی مجھے ایسا نہیں لگتا ۔‘‘ ساتھ ہی پارتھ پوار نے یہ بھی کہا’’ لیکن ایک بات میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوںکہ اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں ہم ایک دوسرے کیلئے ہر وقت دستیاب رہیں گے۔‘‘ یاد رہے کہ پرشانت کشور کے سر وزیر اعظم مودی ، آندھرا کے سابق وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر، اور تامل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے علاوہ بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو غیر معمولی جیت دلانے کا سہرا باندھا جاتا ہے لیکن خود پرشانت کشور نے بہارمیں جن سوراج نامی پارٹی بنائی اور الیکشن لڑا تو انہیں بری طرح شکست ہوئی۔ ۲۰۲۱ء میں پرشانت کشور نےاس کام سے سبکدوشی کا اعلان کیا تھا۔