• Tue, 06 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزوئیلا، قدرتی وسائل اور امریکہ کی حریصانہ نگاہ

Updated: January 05, 2026, 1:57 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

وینزوئیلا پر حملہ کرنا اور وہاں کے صدر نکولاس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کرلینا کسی ملک کی آزادی اور خود مختاری کو پامال کرنا،وہاں کے عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے لیڈروں کو بے عزت کرنا نہایت تشویشناک نظیر قائم کرنا ہے۔

INN
آئی این این
وینزوئیلا پر حملہ کرنا اور وہاں  کے صدر نکولاس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کرلینا کسی ملک کی آزادی اور خود مختاری کو پامال کرنا،وہاں  کے عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے لیڈروں  کو بے عزت کرنا نہایت تشویشناک نظیر قائم کرنا ہے۔ طاقت کا اسی طرح استعمال ہوتا رہا تو عالمی امن دھجی دھجی ہوکر بکھر جائیگا اور پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام قائم ہونے میں  دیر نہیں  لگے گی جس میں  ہر وہ ملک جس کے پاس طاقت ہے، ہر اُس ملک پر قبضہ کرنا چاہے گا جو کمزور یا کم طاقتور ہے۔ امریکہ نے وینزوئیلا اور اس کے صدر کو بدعنوانی، منشیات کے کاروبار اور اس کے فروغ حتیٰ کہ امریکہ میں  منشیات سپلائی کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فوجی کارروائی کی مگر کسی ملک کے منتخب صدر (ٹرمپ) کو کسی دوسرے ملک کے منتخب صدر (مادورو) پر الزام لگاکر فوجی کارروائی کردینے کا حق کس نے دے دیا؟
اگر امریکہ کو وینزوئیلا سے خطرہ تھا، مادورو کی حکومت بدعنوانی میں  گلے تک دھنسی ہوئی تھی اور منشیات کے کاروبار سے امریکہ کیلئے چیلنج بن چکی تھی تو واشنگٹن نے عالمی اداروں  سے شکایت کیوں  نہیں  کی، ان اداروں  سے مداخلت کی التجا کیوں  نہیں  کی اور قانون ہاتھ میں  لینے کی اس بزدلی کا مظاہرہ کیوں  کیا جسے جرأت کا نام دیا جانے لگا ہے؟ اگر ٹرمپ کے پاس مالی، فوجی اور سیاسی طاقت ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں  ہے کہ وہ اپنے عوام کی فکر چھوڑ کر دوسرے ملکوں  کی آزادی پر قہر بن کر ٹوٹیں ۔ یہ عالمی قوانین کی جارحانہ خلاف ورزی ہے جس کیلئے ٹرمپ پر مقدمہ قائم ہونا چاہئے۔ 
اگر ہم غلط نہیں  ہیں  تو وینزوئیلا نئے دور اور نئے امریکی صدر کا عراق ہے۔ امریکہ نے عراق کے خلاف زبردست محاذ آرائی کرکے اُس پر فوج کشی کی جس کا مقصد تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا تھا۔ بعد میں  ثابت ہوگیا کہ عراق پر عام تباہی کے ہتھیاروں  کا الزام سراسر بے بنیاد تھا مگرتب تک تو عراق کی اینٹ سے اینٹ بج چکی تھی۔ اقوام ِ عالم یا عالمی اداروں  نے اس بے وجہ فوج کشی کیلئے واشنگٹن کے خلاف کوئی قدم نہیں  اُٹھایا جس سے اُس کو نصیحت ہوتی یا سبق ملتا۔ وینزوئیلا پر کارروائی کا مقصد بھی صاف ہے کہ امریکہ کی نظر تیل اور معدنیات کے ذخائر پر ہے۔ وینزوئیلا میں  تیل کا سب سے بڑا اور تصدیق شدہ ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ اس مختصر ملک میں  پٹرولیم پروڈکٹس، قدرتی گیس، سونا (گولڈ) اور کئی اہم اور قیمتی دھاتیں  بڑی مقدار میں  پائی جاتی ہیں ۔ صدر ٹرمپ بڑی بے چینی سے ریئر ارتھ کے ذخائر تک پہنچنا چاہتے ہیں  جو فائٹر جیٹ، جیٹ انجن، سیمی کنڈکٹر، راکٹ، نیوکلیائی ری ایکٹر اور گائیڈیڈ میزائل بنانے کیلئے ناگزیر ہے۔ کم و بیش ۱۷؍ دھاتیں  ہیں  جنہیں ریئر ارتھ کہا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وینزوئیلا کے ’’گیانا شیلڈ ریجن‘‘ میں  اس کے بڑے ذخائر ہیں ۔ جنوبی امریکہ کا یہ ملک،جس کی راجدھانی کراکس، رقبہ ۹؍ لاکھ ۱۲؍ ہزار مربع کلومیٹر اور مجموعی آبادی ۳؍ کروڑ سے کچھ ہی زیادہ ہے، قدرتی وسائل سے مالامال تو ہے مگر عوام غریب ہیں ۔ اس کی ایک وجہ ملک میں  سیاسی استحکام کا فقدان ہے جو معاشی عدم استحکام پر منتج ہوتا ہے۔قدرتی وسائل کے بھرپور اسٹاک کے باوجود اس اعتبار سے وینزوئیلا کمزور ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں  کہ اس پر حملہ کرکے کٹھ پتلی حکومت کی سربراہی کی جائے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اس ملک کو ہم چلائیں  گے اُن کی حریصانہ نظر کی چغلی کھاتا ہے۔ بہت سی جنگیں  رُکوانے کا بار بار دعویٰ کرنے والا صدر اگر خود دوسرے ملکوں  پر جنگ مسلط کردے تو اس کا جنگیں  رکوانے کا دعویٰ مذاق بن جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK