Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچی مظاہرے کے بعد کیا؟

Updated: June 08, 2026, 2:01 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اخلاقی بنیادوں پر از خود استعفےٰ دینا چاہئے تھا۔ اگر یہ نہیں ہوا تھا تو وزیر اعظم کا فرض تھا کہ اُن سے استعفےٰ طلب کرتے۔ اگر یہ بھی نہیں ہوا تھا تو اُن کے استعفے کی چوطرفہ مانگ کے پیش نظر بالخصوص طلبہ اور والدین کا اعتماد بحال کرنے کیلئے وزیر موصوف کو برطرف کیا جانا چاہئے تھا۔ کسی نئے وزیر کو کمان سونپی جاتی تو یہ اعتماد سازی کی جانب اہم قدم ہوتا۔

INN
آئی این این
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اخلاقی بنیادوں   پر از خود استعفےٰ دینا چاہئے تھا۔ اگر یہ نہیں   ہوا تھا تو وزیر اعظم کا فرض تھا کہ اُن سے استعفےٰ طلب کرتے۔ اگر یہ بھی نہیں   ہوا تھا تو اُن کے استعفے کی چوطرفہ مانگ کے پیش نظر بالخصوص طلبہ اور والدین کا اعتماد بحال کرنے کیلئے وزیر موصوف کو  برطرف کیا جانا چاہئے تھا۔ کسی نئے وزیر کو کمان سونپی جاتی تو یہ اعتماد سازی کی جانب اہم قدم ہوتا۔ 
ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس کیلئے کئی شہروں   میں   پُرزور احتجاج بھی ہوا مگر حکومت نے اسے ضروری نہیں   سمجھا۔ معلوم ہوا کہ اخلاقی بنیاد پر کسی زمانے میں   استعفے ہوتا تھا اب نہیں   ہوتا۔ ماضی میں   اپوزیشن اور عوام کی مانگ پر بھی استعفے نہ ہوتا تھا تو کابینہ میں   ردوبدل کے نام پر نئے وزراء کو موقع دیا جاتا اور متعلقہ وزیر کو باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا تھا۔ افسوس کہ موجودہ حکومت نے یہ بھی نہیں   کیا۔ 
ممکن ہے حکومت اس خیال کی حامل ہو کہ احتجاج ہوا بھی تو کتنا ہوگا اور کب تک ہوگا۔ آج نہیں   تو کل کوئی دوسرا موضوع سرخیوں   میں   ہوگا اور لوگ باگ اس تنازع یا مسئلہ کو بھول جائینگے۔ سچ پوچھئے تو ایسا بھی ہوچکا ہوتا مگر وزارت تعلیم کے ماتحت اداروں   کی ایک دو نہیں   پے در پے کئی خامیاں   اُجاگر ہوئیں   ، ایک کے بعد دوسرا پرچہ لیک ہوا، ایک کے بعد د وسری بے ضابطگی پر سے پردہ اُٹھا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ جو چیز فراموش کی جاسکتی تھی اس کی یاد دہانی ہوتی رہی۔ ایسی صورت میں   متعلقہ وزیر کا استعفے لیا جاتا تو عوام میں   یہ پیغام عام ہوتا کہ حکومت کو نئی نسل کی فکر ہے اور وہ اُن کے نہ تو جذبات کو ٹھیس پہنچانا چاہتی ہے نہ ہی اعتماد کو متزلزل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے بروقت اقدام سے یہ بھی ہوتا کہ سوشل میڈیا پر الہ دین کے جادوئی چراغ سے برآمد ہونے والے جن جیسی وہ پارٹی وجود میں   نہ آتی جس نے ۶؍ جون کو دہلی کے جنتر منتر پر کئی گھنٹے دھرنا دیا اور ایک ہی مطالبہ کیا کہ دھرمیندر پردھان استعفے دیں  ۔ پورے ملک میں   جس طرح کا غم و غصہ تھا اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ جنتر منتر پر ہونے والا مظاہرہ تاریخی ہوگا مگر چونکہ کاکروچ جنتا پارٹی بالکل نئی ہے، اس کے بانی سے دو ہفتے پہلے تک کوئی واقف نہیں   تھا، پارٹی اور بانی کا تعارف ہی نہیں   تھا تو ساکھ کیسے ہوسکتی تھی اس لئے جتنے طلبہ اور نوجوان اس مظاہرہ میں   شریک ہوسکتے تھے نہیں   ہوئے۔ اس کے باوجود جو مجمع اکٹھا ہوا وہ بہت تھا۔ اگر لاکھوں   میں   نہیں   تو ہزاروں   میں   ضرور تھا۔ ایک (تقریباً) اجنبی نوجوان کے اعلان پر، جو کل تک امریکہ میں   تھا، اتنی بھیڑ کا جمع ہونا معمولی بات نہیں  ۔ یہ محض اس لئے ہوا کہ موضوع ہی ایسا ہے۔ موضوع کی نزاکت کے پیش نظر حکومت نے بہتری اسی میں   سمجھی کہ مظاہرہ کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہی وجہ تھی کہ دھرنے کی اجازت عین دھرنے کے دن دی گئی جو اپنے آپ میں   ایک نظیر ہے۔ 
دھرنے کے پُرامن انعقاد کیلئے اس میں   شریک ہونے والے نوجوانوں  کی ستائش کی جانی چاہئے جنہوں   نے حکومت بالخصوص وزارت تعلیم سے ہزار شکایات کے باوجود اپنے غم و غصہ کو قابو میں   رکھا اور پُرامن رہ کر جمہوری طریقہ سے احتجاج کیا۔ شام پانچ یا چھ بجے تک مجمع چھٹ چکا تھا مگر جانے سے پہلے دھرنے کے لیڈروں   نے انتباہ دیا کہ اگر وزیر تعلیم کا استعفےٰ نہیں   ہوا تو ایک ہفتے بعد پھر دھرنا دیا جائیگا۔ ہم نہیں   جانتے کہ ان چھ دنوں   میں   کاکروچ پارٹی کیا کریگی۔ یہ بھی واضح نہیں   ہے کہ اگر وزیر تعلیم نے استعفےٰ دے دیا تو اس کے بعد پارٹی کیا کرے گی کیونکہ اس کا تو یہی ایک مطالبہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK