موسم ِ باراں میں کھانا جلد خراب ہوجاتا ہے کیونکہ آب و ہوا میں نمی ہونے کی وجہ سے وائرس، بیکٹیریا اور فنگس تیزی سے پنپتے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 6:03 PM IST | Hafsa Thim | Mumbai
موسم ِ باراں میں کھانا جلد خراب ہوجاتا ہے کیونکہ آب و ہوا میں نمی ہونے کی وجہ سے وائرس، بیکٹیریا اور فنگس تیزی سے پنپتے ہیں۔
موسم ِ باراں میں کھانا جلد خراب ہوجاتا ہے کیونکہ آب و ہوا میں نمی ہونے کی وجہ سے وائرس، بیکٹیریا اور فنگس تیزی سے پنپتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او اور ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق، آلودہ یا خراب کھانا بیمار کرسکتا ہے۔
بارش کے موسم میں ان چیزوں سے پرہیز کریں
* اسٹریٹ فوڈز یعنی پانی پوری، چاٹ اور کٹے ہوئے پھلوں سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ آلودہ پانی سے یا حفظان صحت کا خیال رکھے بغیر تیار کئے جاتے ہیں۔
* کچی پتے والی سبزیاں جن میں ٹھیک سے نہ دھونے کی وجہ سے گندگی اور جراثیم باقی رہ سکتے ہیں۔
* باہر فروخت ہونے والے کٹے ہوئے پھل اور جوس سے اجتناب برتنا چاہئے کیونکہ یہ دھول، مکھیوں اور جراثیم سے آلودہ ہوسکتے ہیں۔
* میٹ اور سی فوڈز پوری طرح پکے ہوئے نہ ہو تو اس موسم میں جلد خراب ہوسکتے ہیں۔
* بچا ہوا کھانا ٹھیک سے نہ رکھنے کی وجہ سے بھی جلد خراب ہوسکتے ہیں اور ان میں بیکٹیریا تیزی سے پنپ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ تدابیر بارش کے موسم میں صحتمند رہنے میں مدد کرتی ہیں
کیا ہوسکتا ہے؟
ڈائریا، قے، پیٹ میں درد، بخار اور ڈی ہائیڈریشن جیسی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ بچے، بزرگ اور حاملہ خواتین کے علاوہ کمزور مدافعتی نظام والے افراد جلد متاثر ہوسکتے ہیں۔
اس موسم میں محتاط رہیں
تازہ اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں، صاف پانی پئیں، پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر استعمال کریں، بچ جانے والے کھانے کو فوری طور پر فریج میں رکھیں اور ذاتی صفائی کا خیال رکھیں۔
یاد رکھیں، بارش کے موسم کا لطف ضرور اٹھائیں لیکن غیر صحت بخش کھانوں سے پرہیز کریں۔ سادہ اور آسان عادتیں آپ کو بیمار پڑنے سے بچا سکتی ہیں۔
ذرائع: ڈبلیو ایچ او، ایف ایس ایس اے آئی، آئی سی ایم آر۔