انسانی زندگی جتنی سہولتوں سے آراستہ ہوئی ہے اُتنی ہی بیماریاں فضا میں اس طرح تیرنے لگی ہیں کہ کوئی بھی، کبھی بھی اس کی گرفت میں آسکتا ہے۔ اب سے بیس پچیس برس پہلے تک اتنی بیماریوں کے بارے میں نہیں سنا جاتا تھا۔
انسانی زندگی جتنی سہولتوں سے آراستہ ہوئی ہے اُتنی ہی بیماریاں فضا میں اس طرح تیرنے لگی ہیں کہ کوئی بھی، کبھی بھی اس کی گرفت میں آسکتا ہے۔ اب سے بیس پچیس برس پہلے تک اتنی بیماریوں کے بارے میں نہیں سنا جاتا تھا۔ کیا اِس وجہ سے کہ تب انسانی زندگی نظم و ضبط کے دائرے کو پھلانگتی نہیں تھی اور اب نہ تو کھانے پینے میں احتیاط رہ گئی ہے نہ ہی سونے جاگنے کے اوقات متعین ہیں ، نہ تو ذہنی اور نفسیاتی مسائل محدود ہیں نہ ہی وہ سکون جو دل و دماغ کی صحت کیلئے ازحد ضروری ہے؟
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بہت سی بیماریوں کو حملہ آور ہونے سے روکا جاسکتا ہے اگر ’’لائف اسٹائل‘‘ حفظان صحت کے اُصولوں کے مطابق ہو۔ بلند فشار خون (ہائی بی پی) اور ذیابیطس (ڈائبٹیز) کو لائف اسٹائل ڈسیز اسی لئے قرار دیا جاتا ہے کہ ان کا سبب انسان کی بے اعتدالیاں ہیں ۔ یہ دو بیماریاں بہت سی مہلک بیماریوں کی جنم دیتی ہیں ۔ ان میں سے ایک ہے گردہ کی خرابی جسے ’’سی کے ڈی‘‘ (کرانک کڈنی ڈسیز) کہا جاتا ہے۔ اس کالم میں ، آج کیلئے یہ موضوع منتخب کرنے کا سبب عالمی جریدۂ صحت ’’دی لانسیٹ‘‘ کا یہ چونکانے والا انکشاف ہے کہ عالمی سطح پر سی کے ڈی کے مریضوں کی تعداد ۱۹۹۰ء کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہوگئی ہے۔ اس کے مریض سب سے زیادہ چین میں ہیں (۱۵؍ کروڑ ۲۰؍ لاکھ)۔ اس کے بعد، دوسرے نمبر پر ہندوستان ہے جہاں اس کے مریضوں کی مجموعی تعداد ۱۳؍ کروڑ ۸۰؍ لاکھ ہے۔ یہ اعدادوشمار ۲۰۲۳ء کے ایک مطالعہ سے ماخوذ ہیں ۔
اگر ہندوستان میں گردے کی خرابی کے مریضوں کی تعداد دُنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے تو اندرونِ ملک یہ عارضہ امراض قلب کے بعد دوسرا بڑا عارضہ ہے۔عام خیال ہے کہ کینسر سب سے خطرناک بیماری ہے۔ بلاشبہ ہے۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق ہندوستان میں ۲۰۲۴ء میں کینسر کے ۱۵؍ لاکھ سے زائد مریض تھے جبکہ اسی سال کے دوران کینسر سے ہونے والی اموات کی ۸؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار تھی مگر گردہ کی خرابی کا مسئلہ زیادہ پھیل رہا ہے جس کے مریضوں کی تعداد سرطان کے مریضوں سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔ اس کا ثبوت ہمارے آس پاس کی زندگی سے ملتا ہے جہاں کئی لوگ بظاہر ٹھیک ٹھاک دکھائی دیتے ہیں مگر جب اُن سے تفصیلی سے گفتگو کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں ڈائیلاسس کے لئے جانا پڑتا ہے۔ کووڈ کے دوران جن مریضوں کو بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا اُن میں بڑی تعداد ڈائیلاسس کے مریضوں کی تھی۔ پردھان منتری نیشنل ڈائیلاسس پروگرام سے فائدہ اُٹھانے والے مریضوں ہی کو سامنے رکھیں تو سال ۲۰۔۱۹ء میں یہ تعداد ۲؍ لاکھ ۴۳؍ ہزار تھی جو ۲۴۔۲۳ء میں ۴؍ لاکھ ۵۳؍ ہزار ہوگئی۔ کچھ یہی کیفیت گردہ کی تنصیب یا پیوند کاری کے مراکز پر ہے کہ مریضوں کی تعداد گھٹتی نہیں بڑھتی جارہی ہے۔
اس کا معنی یہ ہے کہ حفظان صحت کے اُصولوں کی مکمل پاسداری کے ذریعہ ہی ایسے امراض سے حفاظت ممکن ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گردہ کا عارضہ نہ تو اچانک لاحق ہوتا ہے نہ ہی اس کیلئے کوئی وائرس یا بیکٹیریا ذمہ دار ہے۔ طویل عرصہ تک اندرونی جسمانی نظام (میٹابولیزم) کی خرابی کے سبب گردہ جب خون کو صاف کرنے او رجسم کے فاسد مادوں کو ٹھیک طریقہ سے خارج نہیں کرپاتا تو یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔ تو کیا اپنے اندرونی جسمانی نظام کو درست رکھنا اتنا مشکل کام ہے؟