• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پی ایم کیئرس فنڈ کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت رازداری کا حق، اگرچہ سرکاری ادارہ ہو: دہلی ہائی کورٹ

Updated: January 14, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ پی ایم کیئرس فنڈ کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت رازداری کا حق حاصل ہے، اگرچہ وہ سرکاری ادارہ کیوں نہ ہو، عدالت نے کہا کہ قانون معلومات کے حق سے متعلق درخواست کے جواب میں کسی تیسری فریق کی تفصیلات شیئر کرنے سے منع کرتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو زبانی طور پر تبصرہ کیا کہ پی ایم کیئرز فنڈ اگرچہ حکومت چلاتی ہے لیکن وہ معلومات کے حق سے متعلق قانون کے تحت رازداری کے حق سے محروم نہیں ہو جاتا۔چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی ڈویژن بینچ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ۸؍(۱؍)(جے) کے تحت تیسری پارٹی کے حقوق کی بات کر رہی تھی، جو ذاتی معلومات کے افشاء پر پابندی لگاتی ہے، نہ کہ آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت پرائیویسی کے عمومی حق کی۔واضح رہے کہ وزیر اعظم سٹیزن اسسٹنس اینڈ ریلیف ان ایمرجنسی سٹوایشنز فنڈ (PM CARES Fund) مارچ۲۰۲۰ء میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصدکرونا وبا کے بعد کسی بھی قسم کی ایمرجنسی یا پریشانی کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک وقف قومی فنڈ بنانا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: نوٹس کاجواب۷؍ دن میں دینا ہوگا

ہائی کورٹ نے کہا،’’ محض ریاست ہونے کی وجہ سے کیا وہ رازداری کے حق سے محروم ہو جاتا ہے؟ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ بینچ نے کہا، محض اس وجہ سے کہ کوئی ادارہ کچھ عوامی افعال سرانجام دے رہا ہے، یا اگر اس کی نگرانی، انتظام اور کنٹرول حکومت کے پاس ہے، تو بھی یہ ایک قانونی شخصیت ہے۔ بار اینڈ بینچ کے مطابق، جسٹس اپادھیائے نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ تیسرے فریق کی معلومات فراہم کرنے سے منع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت کسی عوامی یا نجی ٹرسٹ کے رازداری کے حقوق میں فرق نہیں ہو سکتا۔واضح رہے کہ بینچ نے یہ ریمارکس پی ایم کیئرز فنڈ کی جانب سے انکم ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کے لیے جمع کرائی گئی معلومات اور دستاویزات کے افشاء کی درخواست پر اپیل کی سماعت کے دوران دیے۔مرکزی انفارمیشن کمیشن نے اس درخواست کو تسلیم کیا تھا اور انکم ٹیکس محکمہ کو معلومات جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم جنوری۲۰۲۴ء میں، ہائی کورٹ کی سنگل جج بینچ نے کمیشن کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا، یہ فیصلہ دیتے ہوئے کہ کمیشن کو انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ۱۳۸؍ کے تحت معلومات کے افشاء کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔جبکہ اس ایکٹ کی دفعہ۱۳۸؍ ٹیکس دہندگان کے بارے میں حکام کی جانب سے معلومات کے افشاء سے متعلق ہے۔سنگل جج بینچ نے کہا تھا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعات آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ۲۲؍ پر فوقیت رکھتی ہیں، جو دوسرے قوانین پر معلومات کے قانون کی فوقیت قائم کرتی ہے۔بعد ازاں اس معاملے میں معلومات کے حق کی درخواست دہندہ نے اس فیصلے کو ڈویژن بینچ کے سامنے چیلنج کیا تھا۔منگل کو، درخواست دہندہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ پی ایم کیئرز فنڈ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ۸؍(۱؍)(جے) میں دی گئی چھوٹ کے دائرے میں نہیں آتا۔ بار اینڈ بینچ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ حکومت کے قائم کردہ ایک عوامی خیراتی ٹرسٹ کو قانون کے تحت پرائیویسی کا حق حاصل نہیں ہو سکتا۔ بینچ اس معاملے میں اگلی سماعت۱۰؍ فروری کو کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: عمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت کی نامنظوری مایوس کن وافسوسناک: سابق سپریم کورٹ جج

یہ یاد رہے کہپی ایم کیئرز فنڈ اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کا نشانہ رہا ہے، جنہوں نے اس کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں، اور وزیر اعظم نیشنل ریلیف فنڈ کے موجود ہونے کے باوجود اس امدادی فنڈ کو قائم کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھائے ہیں۔دسمبر۲۰۲۰ء میں، مرکزی حکومت نے معلومات کے حق سے متعلق ایک درخواست کے جواب میں کہا تھا کہ فنڈ حکومت کی ’’ملکیت اور قائم کردہ‘‘ ہے۔ تاہم، اس نے کہا کہ فنڈ آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا کیونکہ اسے نجی ذرائع سے فنڈز ملتے ہیں۔ستمبر۲۰۲۱ء میں، اس نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو نہ تو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ’’ریاست‘‘ کے طور پر درج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ’’عوامی ادارہ‘‘ کے طور پر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK