• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہیمنت بسوا شرما کا مسئلہ کیا ہے؟

Updated: February 11, 2026, 1:24 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

کیا ہیمنت بسوا شرما کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ وہ آسام الیکشن ہار جائینگے؟ کیا اُنہیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت الیکشن سے پہلے وزیر اعلیٰ بدل دے گی جیسا کہ گجرات میں ہوا (وجے روپانی کو ہٹا کر بھوپندر پٹیل کو لایا گیا)، پھر اُتراکھنڈ میں ہوا (تریویندر سنگھ راوت کو ہٹا کر تیرتھ سنگھ راوت کو لایا گیا)؟

INN
آئی این این
  کیا ہیمنت بسوا شرما کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ وہ آسام الیکشن ہار جائینگے؟ کیا اُنہیں  یہ خدشہ لاحق ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت الیکشن سے پہلے وزیر اعلیٰ بدل دے گی جیسا کہ گجرات میں  ہوا (وجے روپانی کو ہٹا کر بھوپندر پٹیل کو لایا گیا)، پھر اُتراکھنڈ میں  ہوا (تریویندر سنگھ راوت کو ہٹا کر تیرتھ سنگھ راوت کو لایا گیا)؟ یاد رہے کہ بی جے پی نے دونوں  جگہ یہ اقدام اسمبلی الیکشن سے قبل ہی کیا تھا تاکہ حکومت مخالف ووٹ سے نمٹ سکے۔ کیا ہیمنت بسوا کو محسوس ہورہا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اُن پر بھروسہ کچھ کم ہوا ہے اور اُنہیں  اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہئے؟ کیا وہ اپنی مسلم مخالف یا مسلم دشمن شبیہ کیلئے فکرمند ہیں  کہ اگر وقتا فوقتاً اسے چمکایا نہیں  گیا تو لوگ اس کو بھول جائینگے؟ یا، اس سے بھی آگے بڑھ کر انہیں  یہ فکر ستا رہی ہے کہ آر ایس ایس کی نظر میں  ان کی اہمیت بڑھ رہی ہے یا نہیں ۔ ہوسکتا ہے اُنہیں  یہ فکر بھی ہو کہ کٹر ہندوتوا وادی کی حیثیت سے ان کا قد کہیں  کم تو نہیں  ہوا!
جو بھی ہو، ان کے بیانات قابل مذمت ہیں ۔ انہیں  یہ احساس نہیں  ہے کہ وہ ایک آئینی عہدہ پر فائز ہیں  اور ایسے ہر شخص کو ہر زاویئے سے آئین کی بالادستی کو قائم رکھنا چاہئے بھلے ہی اُس کے نظریات کچھ ہوں ۔ ہیمنت بسوا شرما آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں  اور وزیر اعلیٰ سب کا ہوتا ہے، ان کا بھی جنہوں  نے اس کی پارٹی کو ووٹ دیا ہے اور ان کا بھی جنہوں  نے ووٹ نہیں  دیا ہے۔ وہ ان کا بھی وزیر اعلیٰ ہے جو اس کے ہم مذہب ہیں  اور ان کا بھی جو کسی اور مذہب کے ماننے والے ہیں ۔ آئینی عہدہ پر فائز افراد کو اپنے سیاسی و غیر سیاسی نظریات سے بلند ہوکر آئین کے نظریات کو فوقیت دینی ہوتی ہے کیونکہ ہماری پارلیمانی جمہوریت آئین کی تابع ہے کسی اور کی نہیں ۔ ہیمنت بسوا شرما بار بار بھول جاتے ہیں  کہ وہ وزیر اعلیٰ ہیں ۔ گزشتہ دنوں  ان کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کرتا رہا، جس میں  وہ آسام کے ایک مسلمان پر بندوق کا نشانہ لگا رہے ہیں  وہ اس قابل ہے کہ پولیس اس کا نوٹس لے، مرکزی حکومت بالخصوص وزارت داخلہ نوٹس لے اور عدلیہ نوٹس لے۔ 
ہم نہیں  جانتے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے گا یا سول سوسائٹی کی معروف اور ممتاز شخصیات کے توجہ دلانے پر اُن کی عرضداشت کو شرف قبولیت بخشے گا مگر  دونوں  ہی صورتیں  بہتر ہیں ۔ لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر روپ ریکھا ورما، سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، سابق آئی اے ایس افسر آدیتی مہتا اور ایسی ہی دیگر شخصیات نے ہیمنت بسوا شرما کی منافرت کے ساتھ ساتھ ساتھ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کا نام بھی درج کیا اور سپریم کورٹ سے گزارش کی ہے کہ ان سب کے بیانات کا نوٹس لیا جائے۔ 
آئینی عہدوں  پر فائز افراد کی مجبوری (جسے وہ مجبوری سمجھتے ہوں ) کچھ بھی ہوسکتی ہے، مگر چونکہ وہ اُن عہدوں  پر ہیں  اس لئے عہدہ کے وقار کو ملحوظ رکھنا اور متعلقہ تقاضوں  اور ذمہ داریوں  کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا اُن کا فرض ہے جس کے بغیر اُنہیں  حق نہیں  کہ اُن عہدوں  پر برقرار رہ سکیں ۔ مگر یہ بات خود اُن کی سمجھ میں  نہیں  آرہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ مذکورہ عرضداشت کو شرف قبولیت بخشے اور ضروری احکام جاری کرے۔ یہ ملک کے بہترین مفاد میں  ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK