مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج بی جے پی کو بڑی کامیابی کی طرف لے جارہے ہیں ۔ لگتا ہے کہ ۲۹؍ میں سے ۲۰؍ یا زائد میونسپل کارپوریشنوں پر اس کا قبضہ ہوگا۔
مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج بی جے پی کو بڑی کامیابی کی طرف لے جارہے ہیں ۔ لگتا ہے کہ ۲۹؍ میں سے ۲۰؍ یا زائد میونسپل کارپوریشنوں پر اس کا قبضہ ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہے جب مہاراشٹر کے شہری انتظامیہ پر بھی بی جے پی اس طرح چھا جائیگی۔ خود ممبئی میونسپل کارپوریشن کیلئے اس کی جیت کا معنی یہی سمجھا اور سمجھایا جارہا ہے کہ کانگریس قصہ پارینہ ہوچکی ہے اور شیو سینا کا دبدبہ ختم ہوچکا ہے۔ ایسا ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ ہے تو اس لئے کہ پہلی بار ممبئی کا میئر بی جے پی کا ہوگا۔ نہیں ہے تو اس لئے نہیں ہے کہ اس جیت میں ’’مانگے کا اُجالا‘‘ شامل ہے۔ بی جے پی، اُدھو ٹھاکرے کی شیو سینا کو توڑنے میں کامیاب نہ ہوتی تو بی ایم سی پر اپنا پرچم لہرانے میں بھی کامیاب نہ ہوتی۔ سارا کھیل اُس ٹوٹ پھوٹ کا ہے جو پہلے شیو سینا میں ہوئی اور پھر این سی پی میں ۔ اس کے بعد بھی کچھ کھیل بچا ہے تو اُسے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی بحیثیت پارٹی کچھ بہت زیادہ سیٹیں حاصل نہیں کر پائی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں اس کے پاس ۸۲؍ سیٹیں تھی اور اب، ان سطور کے لکھے جانے تک، اسے ۸۵؍ سیٹیں میسر آئی ہیں ۔ تین سیٹوں کا فرق کوئی فرق نہیں ہے مگر اُدھو سے الگ ہوکر بی جے پی سے ہاتھ ملانے والی شندے سینا کی وجہ سے اتحاد کی مجموعی سیٹیں ۱۱۲۔۱۱۳؍ کے قریب پہنچنے کو ہیں ۔ اس وقت ہمارے سامنے فائنل ٹیلی نہیں ہے مگر صاف نظر آرہا ہے کہ بی جے پی، بی ایم سی کے قلعے کو مسخر کرنے میں شندے سینا ہی کی وجہ سے کامیاب ہے۔ اگر شیو سینا اُدھو (۷۲؍ سیٹیں ) اور شیو سینا شندے (۲۶؍ سیٹیں ) یعنی پرانی اور متحدہ شیو سینا کو دیکھا جائے تو ان کی مجموعی سیٹیں ۹۸؍ ہیں جبکہ بی جے پی کی اس سے کم ۸۵ ؍ سیٹیں (تادم تحریر)۔ اگر اس پر بھارتیہ جنتا پارٹی فخر کررہی ہے تو یہ اُس کی مرضی ہے جس سے ہمیں گلہ نہیں ۔ گلہ اگر ہے تو موقع پرستی کی اُس سیاست سے ہے جو عوامی فیصلوں کو بدل دیتی ہے، اُن پر پانی پھیر دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر پارٹیوں کیلئے موقع نہیں رہ گیا ہے؟ کیا اُن کی زمین کھسک چکی ہے؟ کیا اُن کی سیاست میں کوئی کشش نہیں رہ گئی ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ ہم مایوس نہیں ہیں ۔ زیادہ تشویش این سی پی (اجیت)، این سی پی (شرد)، سماج وادی پارٹی اور ایم این ایس کو ہونی چاہئے جو حاشئے سے بھی نیچے چلی گئی ہیں ۔ ان پارٹیوں کو اپنے آئندہ کے بارے میں لازماً سوچنا ہوگا۔ ان نتائج میں کانگریس کیلئے اِتنی بُری خبر نہیں ہے کیونکہ چند ایک شہروں کے انتظامیہ پر اسی کا قبضہ ہوگا البتہ اس کے ارباب اقتدار کو سوچنا چاہئے کہ لوک سبھا الیکشن کی اُمید افزا کارکردگی کے بعد اسمبلی میں اور پھر ۱۵؍ جنوری کے بلدیاتی الیکشن میں اس کی کارکردگی مزید بہتر ہونے کے بجائے ابتر کیسے ہوگئی۔ ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کی دھاندلی کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے مگر مورد الزام ٹھہرانے سے کم ہوتی طاقت بڑھنے نہیں لگ جائیگی۔ کانگریس کو مہاراشٹر میں اپنی کھوئی ہوئی زمین دوبارہ حاصل کرنے کیلئے سخت محنت اور کوشش کرنی ہی ہوگی۔ اس الیکشن میں ایم آئی ایم اہم پارٹی بن کر اُبھری ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقلیتی ووٹ کھسک رہا ہے۔ یہ کانگریس کیلئے بھی لمحۂ فکریہ ہے، سماج وادی اور این سی پی کیلئے بھی۔ مہایوتی کو چنوتی دینے والی پارٹیاں اگر وسیع تر اتحاد بن کر لڑتیں تو صورت حال مختلف ہوتی۔ کیا انہیں اب بھی عقل نہیں آئیگی؟