اپوزیشن کا مطالبہ ، گیس سلنڈر کی قلت سے شہریوں کی پریشانی کا حوالہ دے کر بجٹ اجلاس کےدوران دونوں ایوانوںکے اراکین نے حکومت سے حقیقی صورتحال پیش کرنے کا مطالبہ کیا ۔
بی ایم سی کی کینٹین میں کھانا پکانا بند کر کے چوڑے وغیرہ ہی فروخت کئےجارہے ہیں۔تصویر:آشیش راجے
ایران۔امریکہ/ اسرائیل جنگ کے سبب گیس سلنڈر کی سپلائی مہاراشٹر کے متعدد اضلاع میں متاثر ہو رہی ہے اور گھریلو صارفین کو بھی گیس سلنڈر نہیں مل پارہے ہیں۔ پہلے حکومت کی جانب سے گیس سلنڈرکی قیمتوں میںاضافہ کیا گیا ، رسوئی گیس سلنڈر ۶۰؍ روپے اور کمرشیل گیس سلنڈر ۱۱۵؍روپے مہنگاکر دیا گیا اس کے بعد کمرشیل سلنڈروں کی سپلائی ہی بند کر دی گئی جس سے ریستوراں اور کھانے پینے کےاسٹال اور کینٹین بھی بند ہورہی ہے۔ممبئی کے ودھان بھون میں جاری بجٹ اجلاس کے دونوں ایوانوں میںبھی بدھ کو یہ معاملہ اٹھایاگیا۔ قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے لیجسلیٹر لیڈر وجے وڈیٹیوار اور شیو سینا ( ادھو) کے رکن اسمبلی سنیل پربھونے اور اسی طرح قانون ساز کونسل میں بی جے پی اراکین کونسل پرساد لاڈاور پروین دریکر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گیس سلنڈر اور تیل کے تعلق سے شہریوں میں تشویش پائی جارہی ہے لہٰذا حکومت کو بتانا چاہئے کہ ریاست میں گیس سلنڈر کی سپلائی اور تیل کی کیا صورتحال ہے اور اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے حکومت کیا اقدام کر رہی ہے؟
وجے وڈیٹیوارنے ایوان اسمبلی میں کہا کہ ’’مہاراشٹر میںشہریوںکو رسوئی گیس کےسلنڈر سپلائی نہیں ہو رہے ہیں جس کی وجہ متعدد اضلاع میں شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ’’ سلنڈر بکنگ کرنے اور او ٹی پی موصول ہونے کے۱۵؍ دنوں بعد بھی سلنڈر سپلائی نہیں کیا جارہا ہے جس سے شہری پریشان ہیں اور اس تعلق سے ہمیں فون کر کے شکایت کر رہے ہیں۔ گویا عوام میں تشویش اور گھبراہٹ پائی جارہی ہے، اس لئے ہمارے مطالبہ ہے کہ اس سنگین مسئلہ پر حکومت عوام کو بتائے کہ ریاست کی کیا صورتحال ہے؟ گیس اور تیل کاکتنا اسٹاک ہے اور کتنی قلت ہے؟ متبادل کے طور پر حکومت کی جانب سے کیا تیاری کی جارہی ہے؟‘‘انہوںنے مزید بتایاکہ’’ کمرشیل گیس سلنڈر کی سپلائی بند کرنے سے متعدد ریستوراں ، ہوٹل اور وڈا پاؤ وغیرہ کھانے کے اسٹال بھی بند ہو رہے ہیں،اس لئے اس مسئلہ کو حل کرنےکیلئے حکومت کو ضروری اقدام کرنا چاہئے۔‘‘
ضلع کلکٹروں کو ہدایت
قانون ساز کونسل کے رکن پرساد لاڈ نے کہا کہ ’’رسوئی گیس سلنڈر کی قلت اور کمرشیل گیس سلنڈر کی سپلائی بند کرنے سے ریاست کے ہوسٹل میں رہنے والے طلبہ کوبھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان دنوں امتحانات جاری ہیں اور ایسے میں ہوسٹل میں گیس سلنڈر کی سپلائی نہ ہونے سے ان کے کھانے وغیرہ کا نظم بھی متاثر ہو رہا ہے۔‘‘
اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے پروین دریکر نے قانون ساز کونسل کے چیئرمین رام شندے سے مطالبہ کیاکہ وہ ضلع کلکٹروں کو ہدایت دیں کہ ہوسٹل میں گیس کی سپلائی کو متاثر نہ ہونے دیں تاکہ طلبہ کو پریشانی نہ ہو۔
اراکین کونسل کےمطالبے کے مطابق چیئرمین رام شندے نے حکومت کی جانب سے سبھی ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی ہےکہ وہ یقینی بنائیںکہ طلبہ کو پریشانی نہ ہو۔
آج کانگریس کا ریاست گیر احتجاج
مرکزی حکومت نے ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کر کے مہنگائی سے پریشان عوام کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیس کی بکنگ کی مدت میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔ ہوٹل شدید قلت کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں، اسی لئے کانگریس نے حکومت کی بد نظمی اور عوام کو ہونےوالی پریشانی کیخلاف آج (جمعرات) کو ریاست گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیاہے۔ اس سلسلے میںمہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر برائے تنظیم اور نظم و نسق گنیش پاٹل نے بتایا کہ کانگریس قائدین، عہدیدار، سیل، محکمہ کے عہدیدار اور کارکن ۱۲؍مارچ کو ریاست کے تمام اضلاع میں احتجاج کریں گے اور حکومت سے ایل پی جی گیس کی سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ اس احتجاج میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ قیمتوں میں یہ اضافہ ناانصافی ہے اور اسے فی الفور واپس لیا جائے ، گھریلو اور کمرشیل گیس سلنڈر صارفین کو آسانی کے ساتھ دستیاب کرائے جائیں۔مرکز کی نریندر مودی حکومت کے پاس گیس اور ایندھن کی فراہمی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جس سے عام لوگ بھگت رہے ہیں۔ جنگ کے باعث گیس سلنڈر کی قلت محسوس کی جا رہی ہے۔ گیس کے لئے قطاریں لگ رہی ہیں۔ ہوٹل اور ریسٹورنٹس بند کرنے کا وقت آگیا ہے۔ حکومت کا گیس سلنڈر کی قلت نہ ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور عام لوگوں اور ہوٹل والوں کو گیس نہیں مل رہی ہے۔ مہنگائی اور گیس کی قلت نے پہلے ہی ریاست میں مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔