ابھیجیت دِپکے اور اُن کی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو ملنے والی مقبولیت پر ٹھنڈے دِل سے غو ر کرنا چاہئے۔ یہ مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بحیثیت ملک اپنی نئی نسل کو اعتماد دِلانے میں سو فیصد ناکام ہوئے ہیں ۔
ابھیجیت دِپکے اور اُن کی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کو ملنے والی مقبولیت پر ٹھنڈے دِل سے غو ر کرنا چاہئے۔ یہ مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بحیثیت ملک اپنی نئی نسل کو اعتماد دِلانے میں سو فیصد ناکام ہوئے ہیں ۔ وہ شخص جو دس بیس برس سے برسرکار ہے، کسی وجہ سے بے روزگار ہوجائے تو اُسے اپنی بے روزگاری اتنا پریشان نہیں کرتی جتنا اُن لوگوں کو کرتی ہے جو اعلیٰ تعلیم کے آخری سال سے آرزو مند تھے کہ تعلیم ختم کرکے کوئی اچھا جاب کریں گے۔ ایسی حکومت میں جس نے ہر سال روزگار کے دو کروڑ مواقع کا وعدہ کیا اور بڑی تعداد میں نوجوانوں بالخصوص فرسٹ ٹائم ووٹرس کی حمایت حاصل کی تھی روزگار کی عدم دستیابی کے سبب اُن کا دل ٹوٹنا لازمی تھا اور گزشتہ چند برسوں کے دوران یہی ہوا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو حمایت نہ ملتی اگر نوجوانوں کو جاب مل گیا ہوتا۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ اس پارٹی کی حمایت کرنے والوں میں اکثر یت جین زی کی ہے تو جین زی میں روزگار کی صورت حال کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہوجاتا ہے۔ وطن عزیز میں ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کے نوجوانوں کی آبادی ایک تہائی ہے۔
اتنی بڑی آبادی کو ’’ڈیموگرافک ڈِویڈنڈ‘‘ (آبادی کا منافع) کہا گیا تھا کیونکہ یہ اُمید کی جارہی تھی کہ روزگار کے بازار میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کے قدم رکھنے سے ملک کی معیشت کو غیر معمولی طاقت ملے گی مگر جاب مارکیٹ کے سکڑ جانے کی وجہ سے روزگار کا حصول ناقابل یقین حد تک مشکل ہوگیا۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مارچ ۲۶ء میں مذکورہ عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح ۱۵ء۲؍ فیصد تھی جسے بہت بڑی تعداد سمجھنا چاہئے۔ایک زمانہ تھا جب لوگوں کو روزگار اس لئے میسر نہیں آتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے۔ آج صورت حال مختلف ہے۔ اس کے باوجود روزگار کا نہ ملنا جتنا حیرت انگیز ہے اُتنا ہی افسوسناک بھی ہے۔ جو نوجوان بے روزگار ہیں اُن میں ۶۷؍ فیصد نے کم از کم گریجویشن کیا ہے۔ اُن کیلئے ’’سپورٹ میکانزم‘‘ تیار نہ کرکے ایک طرف ہم نے اُنہیں انتشارِ ذہنی میں مبتلا کیا اور دوسری طرف اُن کے برسرکار ہونے سے ملکی معیشت کو جو غیر معمولی فائدہ مل سکتا تھا اُس سے بھی خود کو محروم کرلیا۔
ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ہم تمام نوجوانوں کو ایک ہی زمرہ میں رکھتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک ۱۹۸۱ء تا ۱۹۹۶ء پیدا ہونے والی نسل (ملینئل) بھی نوجوان نسل ہے اور ۱۹۹۷ء تا ۲۰۱۲ء پیدا ہونے والی نسل (جنریشن زیڈ) بھی۔ یہ طریقۂ عمل قطعی غیر منصفانہ ہے کیونکہ ۱۸؍ سے ۲۹؍ سال کے افراد کی تمناؤں کی دُنیا ۳۰؍ سے ۴۵؍ سال کے افراد کی دُنیا سے مختلف ہے۔۱۸؍ سے ۲۹؍ سال کے نوجوانوں نے ابھی ابھی اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور روزگار کی متلاشی ہے جبکہ اس سے پہلے کی نسل (۳۰؍ سے ۴۵؍ سال) میں بہت سے لوگ جاب مل جانے کی صورت میں بھی اور جاب نہ ملنے کی صورت میں بھی مستحکم ہو چکے ہیں ۔ ہم دونوں ہی ایج گروپ کے لوگوں کو ایک ہی زمرہ میں نہیں رکھ سکتے۔ ۱۸؍ سے ۲۹؍ سال والوں کو اچھی ملازمت کی تلاش ہے جبکہ ۳۰؍ سے ۴۵؍ سال کے لوگ بہتر اَپ گریڈیشن چاہتے ہیں ۔اس ضمن میں یہ کہنا غلط نہیں کہ اول الذکر (جنریشن زیڈ) کو غیر یقینی حالات میں عملی زندگی کی ابتداء کرنی پڑ رہی ہے جبکہ آخر الذکر کو وعدہ شکنی کا سامنا ہے کہ اُن سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے۔ آج ملک کے نوجوان سڑکوں پر اس لئے اُترے ہوئے ہیں یا غیر معمولی آن لائن مزاحمت میں اس لئے شامل ہیں کہ اُن کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ سسٹم اُنہیں مسلسل ناکامی کی طرف دھکیل رہا ہے۔