روتے ہوئے بچے کو چپ کرانا، بہلانا پھسلانا، توجہ کہیں سے ہٹانا، یا نیند بلانا ہی کہانی سنانے کا مقصد نہیں ہونا چاہئے۔ کہانی سنانے کا مقصد بڑا ہونا چاہئے، کیوں کہ کہانی تھیراپی کا کام کرتی ہے۔
والدین کو چاہئے کہ سبق آموز اور سچی کہانیاں بچوں کو سنائیں۔ تصویر:آئی این این
(الف) کہانی سنانے کا مقصد
روتے ہوئے بچے کو چپ کرانا، بہلانا پھسلانا، توجہ کہیں سے ہٹانا، یا نیند بلانا ہی کہانی سنانے کا مقصد نہیں ہونا چاہئے۔ کہانی سنانے کا مقصد بڑا ہونا چاہئے، کیوں کہ کہانی تھیراپی کا کام کرتی ہے۔ کہانی کے ذریعے بچوں میں مثبت تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں اور اچھی عادات سکھلائی جاسکتی ہیں۔ اس لئے کہانی سنانے کیلئے والدین کے پاس مقصد ہونا چاہئے۔ اس لئے والدین کو چاہئے کہ سب سے پہلے مقصد کا تصور کرلیں کہ آپ کے سامنے مسئلہ کیا ہے اور اسے کس طرح حل کرنا چاہتے ہیں ؟ ان میں موجودکون سی بری عادت نکالنا چاہتے ہیں؟ ان کے اندر کون سی خوبی ڈالنا چاہتے ہیں؟ مثلاً بچے آپس میں جھگڑتے ہیں تو انہیں صلہ رحمی کے متعلق قصے کہانیاں سنائیں۔ بچوں کو صفائی کی اہمیت بتانی ہے تو ایسی کہانی سنائیں جو صفائی ستھرائی کا درس دیتی ہو۔
(ب) والدین میں ذوق مطالعہ
اکثر و بیشتر والدین کا یہی سوال ہوتا ہے کہ کہانی کیسے بُنی جائے۔ کہانی بُننا ایک ہنر ہے۔ ایک دوسرے سے دوران گفتگوا فسانے تو معلوم ہوتے رہتے ہیں، لیکن بچوں کی سبق آموز کہانیاں مطالعہ کے ذریعے کم ہی ہماری دسترس میں آتی ہیں۔ ان والدین کے لئے کہانی بُننا مشکل ہے جو اس قسم کے مطالعہ سے فیضیاب نہیں ہوپاتے۔ دنیا کے مشہور و معروف ادباء اور قصہ گوئی کے میدان کے ماہرین بھی یہی صلاح دیں گے کہ سب سے پہلے والدین کو چاہئے کہ بچوں کی کہانیاں اور حکایات کا مطالعہ کریں۔ جتنا زیادہ مطالعہ ہوگا اور کہانیاں نظروں سے گزریں گی اتنی ہی آسانی کہانیاں یاد رکھنے اور سنانے میں ہوگی۔ والدین کے پاس ایک ہی موضوع کے تحت کئی کئی کہانیاں ہونی چاہئیں۔ کیوں کہ ضروری نہیں کہ بچہ ایک مرتبہ کہانی سن لے اور فوراً عمل کرے۔ مثلاً ’ہمیشہ سچ بولنا ’ اس اچھی عادت کے لئے صرف ایک ہی کہانی کے بعد بچہ سچ بولنے کا عادی ہو جائے، یہ مشکل ہے۔ ایک ہی کہانی باربار سنانے سے وہ بوریت کا شکار بھی ہوگا۔ مطالعہ کےنتیجے میں ڈھیر ساری کہانیاں واالدین کے پاس ہوں۔ اس سے بچوں کا تجسس، ذوق اور دل چسپی بڑھتی رہے گی۔ والدین تربیتی پہلو کے پیش نظر خود کہانیاں بُن کر بیان کرسکتے ہیں۔
(ج) کہانی سنانے کے لئے مناسب وقت
ماہرین نفسیات کے مطابق تین اوقات: کھانا کھانے کے دوران، سونے سے قبل اور تفریح کے دوران بچے سیکھنے سمجھنے کے لئے بالکل تیار رہتے ہیں۔ محققین کہتے ہیں کہ کہانی سنانے کے لئے سب سے مقبول وقت سونے سے پہلے کا ہے۔ ہندوستان میں ایک دہائی قبل تک دادیوں اور نانیوں میں سونے سے پہلے کہانی سنانے کا عام رواج تھا۔ جس کے باعث ہمارے ملک میں بچوں اور بزرگوں میں کافی دوستی تھی۔ چند معلوم اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس عمل میں کاہلی برتی گئی جو بڑھتی رہی۔ اب اس کا چلن ختم ہورہا ہے۔ جس سے نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔
(د) کہانی سنانے کا فن
کہانی سپاٹ لہجے میں اور ایک ہی سانس میں بیان کرنے کی چیز نہیں ہے۔ کہانی سنانے والے کا لب و لہجہ، اتار چڑھاؤ، چہرے کے تاثرات کہانی میں کشش پیدا کرتے ہیں۔ کہانی اس طرح سنائی جائے کہ پانچوں حواس کی عملی شرکت رہے۔ مناظر کو اس طرح بیان کریں کہ بچے کے ذہن میں تصویریں بنتی رہیں۔مثال کے طور پر رنگوں کے نام لیں جیسے: ’’خوب صورت ہرے بھرے جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔‘‘ اور ’’باغیچے میں لال گلاب اور سفید موگرے تھے۔‘‘ کھانے کے بارے میں کوئی بات آئے تو ذائقہ کا نام لیں جیسے: ’’میٹھا شربت‘‘ اور ’’کھٹی املی۔‘‘
کبھی کبھی کہانی سناتے وقت مختلف آوازوں کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔ ہاتھوں کی حرکت کا اپنا کردار ہوتا ہے۔اس طرح دلآویز مہارتوں کے استعمال سے بچوں کی توجہ بڑھ جاتی ہے۔کہانی آسان اور سلیس زبان میں سنائی جائے لیکن والدین نئے نئے الفاظ کا استعمال کرکے بچوں کے ذخیرہ ٔ الفاظ میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
(ہ) فضول کہانیوں سے گریز کریں
ایسے مناظر اور واقعات جن سے خوف طاری ہوتا ہے جیسے بھوت، چڑیل کا ذکر، خوف ناک آوازیں اور منفی قوتوں کی کہانیاں بچوں کے سامنے بیان کرنے سے گریز کریں۔ شیطان، جہنم وغیرہ کا تعارف ضروری ہے لیکن اس طریقے سے نہیں کہ بچہ ڈر جائے بلکہ اس اندازسے کہ بچہ میں ان سے ہوشیار رہنے کا سچا جذبہ پیدا ہو۔ ایسی کہانیاں جو اچھا تاثر قائم کرنے میں ناکام ہوں، انہیں سنانا وقت کا ضیاع ہے۔
(و) اسلامی تاریخ کی یاددہانی
والدین کو چاہئے کہ سبق آموز اور سچی کہانیاں بچوں کو سنائیں۔ کہانی کا مقصد بچوں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کی ترویج ہے چنانچہ ایسی کہانیوں کا انتخاب کریں جن سے بچے اپنا احتساب کرسکیں اور اچھی عادات و اطوار اپناسکے۔ اللہ کے رسولؐ اپنے ساتھیوں کو پچھلی امتوں کے قصے سنایا کرتے اور نصیحت کرتے تھے۔ جیسے نبی کریمؐ نے صحابہ کرام کو ان تین آدمیوں کا قصہ سنایا جو چٹان گرنے سے غار میں پھنس گئے تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے نیک اعمال کے حوالے سے چٹان کو ہٹانے کے لئے مدد مانگی، یہاں تک کہ وہ ہٹ گئی۔
والدین کو چاہئے کہ قرآنی قصوں کے ذریعے بچوں کو قرآن سے قریب کرنے کی ترکیبیں کریں۔ انبیائے کرام کے تذکرے، جیسے یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ، ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے واقعات، موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ، یوسف علیہ السلام کا عفو و درگزر وغیرہ آسان اسلوب میں بچوں کو سنائے جائیں۔ ان قصوں کے ذریعے بچوں میں انبیائے کرام کا تعارف بھی ہوتا رہے گا۔ رسولؐ پاک کی پاک سیرت ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔سیرت کی کرنیں بچپن ہی سے معصوم ذہن اور ننھے دلوں میں داخل ہوتی رہیں، تو بچے ایمانداری، سچائی، صداقت، امانت داری، دلیری، رحم دلی، محنت کشی، شرم و حیا اور پاک دامنی جیسی ان گنت اخلاقیات سیکھتے رہیں گے۔ صحابہ و صحابیات کے قصّے شجاعت و اطاعت سے لبریز ہیں۔ تابعین، تبع تابعین، اماموں اور بزرگوں کی زندگیاں علم وعمل کے شوق سے بھری پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ پوری اسلامی تاریخ بے باک اور نڈر شخصیات کے شاندار کارناموں سے مزین ہے۔ بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کیلئے والدین کو چاہئے کہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے رہیں۔
کہانی، بچے کے دل میں اعلیٰ اقدار کا بیج بوتی ہے،ماضی و حال سے اس کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہے اور روشن مستقبل کی سیر کراتی ہے۔ اسلئے بچوں کی بہتر پرورش کیلئے کہانیاں سناتے رہیں۔