اگر شوہر بہت امیر ہو، لیکن بیوی پر خرچ کرنے میں انتہائی کنجوس ہواور خود پر اچھا خاصا خرچ کرتا ہو،گھر کے کھانے پر بھی خرچ کرے ، لیکن بیوی کے لئے بہت کم خرچ دے جس میں اس کی کوئی چیز نہ آتی ہو۔
اسلام۔ تصویر:آئی این این
اگر شوہر بہت امیر ہو، لیکن بیوی پر خرچ کرنے میں انتہائی کنجوس ہواور خود پر اچھا خاصا خرچ کرتا ہو،گھر کے کھانے پر بھی خرچ کرے ، لیکن بیوی کے لئے بہت کم خرچ دے جس میں اس کی کوئی چیز نہ آتی ہو، اور مانگنے پر جھگڑا ہو، تو کیا بیوی شوہر کو بتائے بغیر کوئی کام کرسکتی ہے جیسے کپڑے سینا یا آن لائن چیزوں کو فروخت کرنا وغیرہ؟ام احمد۔ ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: رہائش،خورد ونوش،لباس اور بیوی کی دیگر جائز واجبی ضروریات کا پورا کرنا شوہر کی شرعی ذمے داری ہے۔ اگر اس میں کوتاہی کرے تووہ عنداللہ جوابدہ ہوگا۔ عورتوں کی کچھ نجی ضروریات ہوسکتی ہیں، ان کی فراہمی بھی شوہر پر واجب ہے۔ عورت کی ذمے داری یہ ہے کہ شوہر کے گھر، اس کے مال و اسباب کی حفاظت کرے اور گھر میں عزت و آبروکے ساتھ رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے۔ شوہر کے کاروبار میں تعاون اس کی ذمے داری نہیں ہے نہ ہی شوہر اس کواس کام کے لئے مجبور کرسکتا ہے۔ اگر اس کی نوبت آئے تو وہ مناسب اجرت کا حق بھی رکھتی ہے۔ الگ سے وہ اپنا کاروبار کرے اس کی بھی گنجائش ہے مگر اس طرح کہ نہ گھریلو ذمے داریاں متاثر ہوں نہ ہی بغیر اجازت گھر سے باہر جائے۔ صورت مسئولہ میں اگر وہ گھر میں رہتے ہوئے سلائی کڑھائی کا اپنا کا م کرے اور اس سے گھریلو ذمے داریاں متاثر نہ ہوں تو اس میں حرج نہیں،اس سے جو آمدنی ہوگی وہ اس کی اپنی ہوگی ۔ آن لائن کاروبار اگر گھر رہتے ہوئے کرتی ہے اور اس سے نہ گھریلو ذمے داریاں متاثر ہوتی ہیں نہ احکام شرع کی کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے تو شرعاً اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اس سے جو نفع حاصل ہوگا وہ اس کی مالک ہوگی، شوہر کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
فون کے ذریعے دم کرانا
جیسا کہ آج کل یہ رواج ہے فون پر دم کرتے ہیں، نظر کاٹتے ہیں، کیا اس طرح کرنا صحیح ہے، شریعت کی نظر میں کیسا ہے یہ عمل ؟ عبداللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: قرآنی آیات اورمسنون دعائیں پڑھ کر دم کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ حضورپاکؐ سورہ اخلاص اور معوذتین (سورہ فلق اور ناس)پڑھ کر خود پر دم کرلیا کرتے تھے نیز ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دَم کرنا منقول ہے ۔یہ اس کا ثبوت ہے کہ کوئی شخص خود بھی اپنے آپ پر دَم کرسکتا ہے اور کوئی دوسرا بھی اس پر دَم کرسکتا ہے۔ بہت سے لوگ ریکارڈ شدہ رقیہ (رقیہ عربی میں جھاڑ پھونک، تعویذ اور دم کرنے کو کہتے ہیں) جو آیات قرآنی پر مشتمل ہے اس کا مریض کو سنانا بھی مفید سمجھتے ہیں اور بظاہر اس میں کوئی حرج بھی معلوم نہیں ہوتا۔ آثار صحابہؓ سے بھی دم کرنا اور بعض مرتبہ کچھ لکھ کر دینا بھی ثابت ہے لیکن اس سب میں کفریہ اور مشرکانہ الفاظ سے احتیاط ضروری ہے۔ اجنبی کلمات جن کے معنی معلوم نہ ہوں ممکن ہے ان کے مفہوم میں شرکیہ تخیلات موجود ہوں ،اس بنا پر علماء ایسے اجنبی کلمات لکھ کر دینے یا انہیں پڑھ کر دم کرنے سے منع کرتے ہیں۔ رہا فون پر دَم کرنا، تو ممکن ہے آیاتِ قرآنی کی برکت سے اس طرح بھی مریض کو فائدہ حاصل ہو جائے اس لئے فی نفسہ تو عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں لیکن یہ بیشتر کاروباری دم والوں کا طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ مفاسد کا امکان ہونے کی وجہ سے اس طریقہ کار کو پسندیدہ نہیں کہا گیا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
مسبوق کب کھڑا ہو
مقتدی کو اپنی نماز کی تکمیل کے لئے کب کھڑا ہونا چاہئے یعنی درست وقت کیا ہے۔ امام کے سلام پھیرتے ہی کھڑا ہو جائے یا امام جب دونوں طرف سلام پھیردے اس کے بعد کھڑا ہو ؟کیونکہ اس سلسلے میں لوگوں کا طرز عمل مختلف ہے۔ وحید احمد ، بھیونڈی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: یہ سوال اس مقتدی سے تعلق رکھتا ہے جس کی کم از کم ایک رکعت چھوٹ گئی ہو (جسے مسبوق کہتے ہیں) ورنہ جو شروع سے شریک ہے وہ امام کے ساتھ ہی سلام پھیرے گا۔ مسبوق کو اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں امام کے سلام کے بعد کھڑا ہوکر خود پوری کرنی ہوتی ہیں اس لئے جب امام دونوں طرف سلام پھیر دے تب کھڑا ہو کیونکہ اس وقت تک وہ امام کے تابع ہے چنانچہ اگر امام کو سجدہ سہو کی ضرورت ہو تو اس میں بھی وہ اقتدا کرے گا، پہلے کھڑا ہوگیا تو اسے واپس آکر سجدہ ٔ سہو میں شریک ہونا پڑےگا اس لئے صحیح وقت امام کی نماز مکمل ہونے کے بعد کا ہے۔ جب امام دونوں طرف سلام پھیردے اس کے بعد کھڑے ہوکر اپنی مابقیہ نماز پوری کرے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
تقسیم وراثت
زید کے تین لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں،بیوی بھی ہے۔ زندگی میں شریعت کے مطابق تقسیم کرنا ہے تو کس طرح تقسیم کریں گے؟ دکان مکان سب کی قیمت ملاکر ایک کروڑ روپے ہے۔ یعقوب علی ، جوگیشوری
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: صورت مسئولہ میں بشرط صحت سوال حقوق مقدمہ (قرض،جائز وصیت وغیرہ)کے بعد ترکہ کے کل ۸۰ ؍سہام بناکر ۱۰؍ بیوی کو، ۷؍ ہر لڑکی کو اور ۱۴؍ سہام ہر لڑکے کو دیئے جائینگے۔ فیصد کے حساب سے بیوی کو ۱۲ء۵؍ فیصد، ہر لڑکی کو ۸ء۷۵؍ اور ہر لڑکے کو ۱۷ء۵۰؍ فیصد دیا جائیگا۔ ایک کروڑ میں سے بیوہ کو ۱۲؍لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے،ہر لڑکی کو ۸؍لاکھ ۷۵؍ہزار روپے اور ہر لڑکے کو ۱۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے ملیں گے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم-