دسمبر میں آسٹریلیا نے ۱۶؍ سال سے کم عمر کے افراد کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔کئی اور ممالک مثلاً اسپین اور ترکی انہی خطوط پر کام کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں آندھرا پردیش پہلی ریاست ہے جو اسی طرز پر اقدام کرنے جارہی ہے۔
دسمبر میں آسٹریلیا نے ۱۶؍ سال سے کم عمر کے افراد کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔کئی اور ممالک مثلاً اسپین اور ترکی انہی خطوط پر کام کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں آندھرا پردیش پہلی ریاست ہے جو اسی طرز پر اقدام کرنے جارہی ہے۔ گوا کا شمار دوسری ریاست کے طور پر ہوگا اگر اس نے بھی سوشل میڈیا کے خلاف اسی طرح کا ایکشن لیا جس کا اشارہ تو مل چکا ہے۔
افسوسناک یہ ہے کہ اِدھر ہمارے نوعمر جان دے رہے ہیں اُدھر پارلیمنٹ میں تو تو مَیں مَیں اور تناتنی کا ماحول ہے۔ کیا وہ وقت نہیں آگیا ہے جب نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کے خلاف قومی سطح پر قانون بن جائے؟ کیا اس کی کوئی سبیل نہیں نکل سکتی؟ ایک دو یا اس سے زیادہ ریاستوں میں قانون بن جائے اور دیگر جگہوں پر نہ ہو تو کیا ہوگا۔ ہر جگہ بیک وقت قانون بننا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ لوک سبھا میں بل پیش ہو، اس پر بحث ہو اور بل منظور کیا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ ہندوستان جیسا ملک سوشل میڈیا کے خلاف ایسی کارروائی کرے گا تو بہت فرق پڑے گا اور بڑا پیغام عام ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں صارفین کی تعداد زیادہ ہے مثلاً فیس بُک کے صارفین ۴۰۰؍ ملین ہیں ، اسنیپ چیٹ کے صارفین ۲۰۰؍ ملین ہیں اور ایکس کے ۲۰؍ ملین یوزرس ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہندوستان سے اتنی مالی منفعت نہیں ہوتی جتنی کہ ترقی یافتہ ملکوں سے ہوتی ہے مگر ہندوستان نہ صرف یہ کہ آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا ملک ہے بلکہ ایسا مارکیٹ ہے جس میں بڑی گنجائشیں ہیں ۔ صارفوں تک پہنچنے کا منصوبہ بنانے والا کوئی بھی غیر ملکی ادارہ ہندوستان کونظر انداز نہیں کرسکتا۔ روینیو کم سہی، وہ ہندوستان کو کھونا نہیں چاہے گا۔
رُکن پارلیمان لوَ سری کرشنا دیوارایالو اس تیاری میں ہیں کہ پارلیمنٹ میں پرائیویٹ ممبر بل پیش کریں جس کا مقصد ۱۶؍ سال سے کم عمر کے افراد کیلئے سوشل میڈیا بین ہو۔ چونکہ ایسے بل حکومت کی پالیسی کے غماز نہیں ہوتے اس لئے عموماً قانون کی شکل اختیار نہیں کرپاتے مگر بل کا بحث کیلئے منظور ہوجانا بھی بڑی بات ہوگی کیونکہ تب اُس پر بحث ہوگی اور بحث ضروری ہے۔دیوارایالو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اُن کے منصوبے کے مطابق بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی دینے کیلئے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں اُن پر ہرجانہ عائد ہوگا جو ۲ء۵؍ ارب روپے یا کمپنی کی مجموعی آمدنی کا ۵؍ فیصد تک ہوسکتا ہے۔یاد رہنا چاہئے کہ ہندوستان ۲۰۲۰ء میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرچکا ہے۔ چین کے کئی ایپس بھی ہندوستان میں بین ہیں ۔ بعض خبروں کے مطابق مہاراشٹر میں بھی ایک ٹاسک فورس تشکیل دیا گیا ہے جو حکومت کو مشورہ دے گا کہ بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات یعنی نقصانات سے بچنے کیلئے کون سی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ ان سرگرمیوں سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ہوگا مگر جو بھی ہونا ہے جلدی ہونا چاہئے۔ غازی آباد کا واقعہ آنکھیں کھول دینے والا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ہم دیگر مسائل و معاملات میں اُلجھے رہے اور قانون بنانے میں تاخیر کی تو یہ نہایت افسوسناک ہوگا۔ ویسے، قانون سے سب کچھ ہوجائیگا یہ سمجھنا خود کو دھوکہ دینے جیسا ہے۔ والدین کو بھی فکر کرنی ہوگی۔ سماج کو بھی متنبہ رہنا ہوگا ۔