• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا: صدر مادورو کے اغوا کو ایک ماہ مکمل ہونے پر عوام کا احتجاج، مادورو کے بیٹے کا جذباتی پیغام

Updated: February 04, 2026, 6:01 PM IST | Caracas

عوامی مظاہروں میں مادورو کے حامیوں نے کراکس کی اہم شاہراہوں پر مارچ کیا۔انہوں نے امریکی تحویل سے مادورو کی واپسی کا مطالبہ کیا اور صدر کی بائیں بازو کے نظریات ’شاویزم‘ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

منگل کو وینزویلا میں امریکی افواج کے ہاتھوں سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ٹھیک ایک ماہ مکمل ہوگیا۔ اس موقع پر دارالحکومت کراکس میں مادورو کی حمایت اور مخالفت میں متوازی مظاہرے دیکھنے ملے جو وینزویلین معاشرے کی گہری تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔

وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر کی گرفتاری کو ایک ماہ مکمل ہونے کے موقع پر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے اور مادورو کی حمایت کا اعلان کیا۔ ’یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا‘ (پی ایس یو وی) کے زیرِ اہتمام مظاہروں میں مادورو کے حامیوں نے کراکس کی اہم شاہراہوں پر مارچ کیا۔ اس دوران انہوں نے امریکی تحویل سے مادورو کی واپسی کا مطالبہ کیا اور صدر کی بائیں بازو کے نظریات ’شاویزم‘ (Chavismo) کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیا۔ حکومت کے حامیوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ”وینزویلا کو نکولس کی ضرورت ہے!“ انہوں نے امریکی آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 

پارٹی منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج صرف مادورو کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد وینزویلا کی خودمختاری اور انقلابی میراث کا دفاع کرنا ہے جسے وہ خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ ایک منتظم نے کہا کہ ”ہم اس یقین کے ساتھ احتجاج کریں گے کہ انصاف غالب آئے گا۔“ انہوں نے اصرار کیا کہ حامی جب تک ضرورت پڑی سڑکوں پر رہیں گے۔ مادورو کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ پی ایس یو وی کے لیڈران نے عوامی طور پر عبوری صدر روڈریگز کی بھی حمایت کی اور دلیل دی کہ حکمران کیمپ میں اتحاد مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ کو زیادہ خود مختار اور آپس میں پوری طرح سے متحدہ ہو جانا چاہئے:جرمنی

اسی وقت، حکومت مخالف گروہ کراکس کے دیگر حصوں میں جمع ہوئے۔ انہوں نے احتساب، انصاف اور مادورو کے اقتدار سے مکمل چھٹکارے کا مطالبہ کیا۔ بہت سے مظاہرین نے ۵ جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، جن میں ’جنرل ایمنسٹی لاء‘ (عام معافی کا قانون) کی منظوری بھی شامل ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں ۱۹۹۹ء سے زیرِ حراست سیکڑوں سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔ انہوں نے بدنامِ زمانہ ’ایل ہیلیکوائیڈ‘ (El Helicoide) جیل کو بند کرنے کے حکم کی بھی ایک مثبت قدم کے طور پر ستائش کی، جو طویل عرصے سے تشدد اور سیاسی جبر سے وابستہ رہی تھی۔

اس درمیان، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے اب وینزویلا کی عبوری قیادت کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ”معاملات بہت اچھے چل رہے ہیں۔“ انہوں نے انکشاف کیا کہ وینزویلا کے تیل کے تقریباً ۵ کروڑ بیرل ہیوسٹن، ٹیکساس کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکہ وینزویلا میں موجود ان تنظیموں کے خلاف، جنہیں انہوں نے ”دہشت گرد تنظیمیں“ قرار دیا، کولمبیا کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”وہ چاہتے ہیں کہ میں ایسا کروں، اور ہم کریں گے۔“

یہ بھی پڑھئے: لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل، معاشی و سیاسی صورتحال متاثر

مادورو کے بیٹے کا اپنے والدین کی گرفتاری کو ایک ماہ مکمل ہونے پر جذباتی پیغام

سابق وینزویلن صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کے لیے کیے گئے ڈرامائی امریکی فوجی حملے کو ٹھیک ایک ماہ مکمل ہونے پر، ان کے بیٹے نکولس مادورو گویرا نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا جس میں انہوں نے اپنے خاندان کے عزم اور وینزویلا کے عوام کے استقلال کا اعادہ کیا۔

مادورو گویرا نے گزشتہ ۳۰ دنوں کو ”مشکل“ قرار دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ۳ جنوری کو امریکہ کی زیرِ قیادت ہونے والے آپریشن کے بعد سے وہ اپنے والد کی رہنمائی اور دانش مندی سے محروم ہیں۔ اپنی پوسٹ میں مادورو گویرا نے شدید جذباتی جدوجہد کا اظہار کیا لیکن سیمون بولیوار اور ہیوگو شاویز کی میراث کا حوالہ دیتے ہوئے وینزویلن عوام کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ”والد، ہم یہاں وطن اور عوام کے ساتھ متحد اور ثابت قدم کھڑے ہیں۔“ انہوں نے عہد کیا کہ جب وہ دوبارہ ملیں گے تو ”ہم اس راستے کو جاری رکھیں گے... تاکہ وینزویلن خاندان ایک باوقار، خوش حال، بھرپور اور ترقی یافتہ زندگی گزار سکیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”جب میں آپ کو دوبارہ دیکھوں گا، تو ہم ایک دوسرے کو گلے لگائیں گے اور اسی راستے پر چلتے رہیں گے... وینزویلا زندہ باد!“

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: پیٹرڈنکلیج نے رینی گڈ کیلئے نظم پڑھی، آئی سی ای کے خلاف ہنگامہ بڑھ گیا

واضح رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو ۳ جنوری کو امریکہ کی قیادت میں ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس کا کوڈ نام ”آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو“ تھا۔ مادورو نے ۵ جنوری کو امریکی عدالت میں صحتِ جرم سے انکار کیا ہے، ان کی اگلی سماعت ۱۷ مارچ کو طے ہے۔ ان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ ۱۳ جنوری کو بحال کر دیا گیا تھا، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اسے کون چلا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK