• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: پیرس پولیس نے ایکس کے دفتر پر چھاپہ مارا، ایلون مسک کو سمن، مسک نے اسے ”سیاسی حملہ“ قرار دیا

Updated: February 04, 2026, 8:00 PM IST | Paris

ایکس کے چیئرمن ایلون مسک نے اس چھاپے پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے فرانسیسی حکام پر الزام لگایا کہ وہ حقیقی مجرموں کے بجائے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

Elon Musk. Photo: X
ایلون مسک۔ تصویر: ایکس

فرانسیسی پولیس نے منگل کے دن ایلون مسک کے زیر ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے پیرس میں واقع دفتر پر چھاپہ مارا اور پراسیکیوٹرز نے امریکی ارب پتی مسک کو تفتیش کیلئے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پیرس پراسیکیوٹر کا سائبر کرائم یونٹ گزشتہ ایک سال سے اس سلسلے میں تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ایکس یا اس کے ایگزیکٹیوز نے الگورتھم کے غلط استعمال اور ڈیٹا نکالنے کے غیر قانونی طریقوں کی حوصلہ افزائی کی۔ تفتیش کار بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کے پھیلاؤ اور جنسی نوعیت کے ڈیپ فیکس کے ذریعے انسانوں کی تصاویر کے حقوق کی خلاف ورزی میں ایکس کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

پیرس پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی کسی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی کہ ’ایکس‘ فرانسیسی قانون کی پاسداری کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ”اس مرحلے پر، اس تفتیش کا طرزِ عمل ایک تعمیری نقطہ نظر کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد آخر کار یہ یقینی بنانا ہے کہ ’ایکس‘ فرانسیسی سرزمین پر قومی قوانین کی تعمیل کرے۔“

یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: ایکس کی یقین دہانی کے بعد گروک پر عائد پابندی ختم

واضح رہے کہ یورپ بھر میں ایکس اور اس کے الگورتھم کے استعمال پر نگرانی میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی ریگولیٹرز بگ ٹیک (Big Tech) کی طاقت کی حدود کو مسلسل جانچ رہے ہیں، جس سے اظہارِ رائے کی آزادی، مواد کی نگرانی اور ڈجیٹل ذمہ داری کے معاملے پر برسلز، پیرس اور واشنگٹن کے درمیان ایک نئے تصادم کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

فرانسیسی تحقیقات کے دائرے میں’ایکس‘ کے اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ (Grok) بھی ہے، جس کے بارے میں پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اسے متنازع جنسی ڈیپ فیکس بنانے اور گردش کرنے، اور یہاں تک کہ ہولوکاسٹ کے انکار پر مبنی مواد کے لیے استعمال کیا گیا ہوگا۔ اس کے ساتھ برطانیہ کے پرائیویسی واچ ڈاگ نے بھی ایک علیحدہ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں کہ آیا ’گروک‘ غیر قانونی طور پر ذاتی ڈیٹا پر کارروائی کرتا ہے یا نقصان دہ جنسی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی

’ایکس‘ نے چھاپے کو ”بے بنیاد“ قرار دے کر مسترد کر دیا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی گلوبل گورنمنٹ افیئرز ٹیم نے اس چھاپے کو ”بے بنیاد“ اور ”قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رچایا گیا ڈرامہ“ قرار دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے فرانسیسی قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا اور اظہارِ رائے کی آزادی کو خطرے میں ڈالا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ”ہم اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔“

ایلون مسک کا ردِعمل: چھاپے کو ’سیاسی حملہ‘ قرار دیا

ایکس کے چیئرمین ایلون مسک نے اس چھاپے پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ ’ایکس‘ پر کئی پوسٹس کرکے انہوں نے اس چھاپے کو ”سیاسی حملہ“ قرار دیا۔ امریکی ارب پتی نے فرانسیسی حکام پر الزام لگایا کہ وہ حقیقی مجرموں کے بجائے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”انہیں جنسی مجرموں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، نہ کہ اس پلیٹ فارم کے جو انہیں بے نقاب کرتا ہے۔“ 

یہ بھی پڑھئے: اسپیس ایکس نے خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹر لانچ کرنے کے لیے ایکس اے آئی کا حصول کر لیا

یورپی ریگولیٹرز کا استدلال ہے کہ پلیٹ فارمز کو غیر قانونی مواد کا جوابدہ ہونا چاہیے۔ دوسری طرف، مسک اکثر ایسی قانونی کارروائیوں کو سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی سینسر شپ قرار دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK