ایلون مسک نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ”۳۰ سے ۳۶ ماہ“ کے اندر، بڑے پیمانے پر اے آئی سسٹمز کو زمین کے مقابلے خلا میں چلانا زیادہ سستا اور عملی اقدام ہوگا۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 8:06 PM IST | Washington
ایلون مسک نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ”۳۰ سے ۳۶ ماہ“ کے اندر، بڑے پیمانے پر اے آئی سسٹمز کو زمین کے مقابلے خلا میں چلانا زیادہ سستا اور عملی اقدام ہوگا۔
امریکی ارب پتی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے چیئرمین ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل کے بارے میں ایک حیران کن پیش گوئی کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ دنیا تیزی سے اس حد کے قریب پہنچ رہی ہے کہ وہ زمین پر کتنی جدید کمپیوٹنگ کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہوئی ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے، اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ نے کہا کہ ”۳۰ سے ۳۶ ماہ“ کے اندر، بڑے پیمانے پر اے آئی سسٹمز کو زمین کے مقابلے خلا میں چلانا زیادہ سستا اور عملی اقدام ہوگا۔
🚨 ELON MUSK JUST PUT A DEADLINE ON EARTH - "30 MONTHS LEFT. MARK MY WORDS”
— HustleBitch (@HustleBitch_) February 5, 2026
On a podcast, Elon Musk doesn’t speculate, he timestamps the future. He says AI cannot scale on Earth the way it can in space. Period.
Solar power in orbit is ~5× more effective and radically cheaper… pic.twitter.com/iX78FCSfMp
مسک کا یہ استدلال سافٹ ویئر پر نہیں بلکہ بجلی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی دھماکہ خیز ترقی عالمی پاور گرڈز کی حقیقت سے ٹکرا رہی ہے، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی توسیع کی رفتار بہت سست ہے۔ مسک کے مطابق، اکیلا امریکہ اوسطاً تقریباً نصف ٹیرا واٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور اے آئی کی بھوک مٹانے کے مقصد سے اس پیداوار کو دوگنا کرنے کے لیے نئے پاور پلانٹس، ٹرانسمیشن لائنز اور ریگولیٹری منظوریوں کے ایک بہت بڑے ڈھانچے کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے حکومتوں کی جانب سے جلد فراہم کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
مسک کے نزدیک، خلا اس رکاوٹ کا ایک صاف ستھرا حل پیش کرتا ہے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ مدار میں موجود سولر پینلز کو مستقل اور بلاتعطل سورج کی روشنی ملتی ہے، یہ زمین کے بالکل برعکس ہے جہاں دن رات کا چکر، موسم اور ہوائی کرہ کے نقصانات، کارکردگی کو کم کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلائی سولر اریز (arrays) کئی گنا زیادہ توانائی پیدا کرسکتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے توانائی کی فراہمی کہیں زیادہ قابلِ پیش گوئی ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اسپیس ایکس نے خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹر لانچ کرنے کے لیے ایکس اے آئی کا حصول کر لیا
اس مسئلے کو ایک وسیع تر تکنیکی خطرے کے طور پر پیش کرتے ہوئے مسک نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کی ترقی زمینی توانائی کی حدود میں جکڑی رہی، تو انسانیت جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید پیش گوئی کی کہ چند برسوں کے اندر، زمین پر کام کرنے والی کل کمپیوٹنگ طاقت کے مقابلے میں ہر سال خلا میں زیادہ اے آئی کمپیوٹنگ پاور نصب کی جائے گی۔
ایکس اے آئی کے سربراہ نے یہ دلیل بھی دی کہ اسپیس ایکس کے ’اسٹار شپ‘ جیسے دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں کی بدولت لانچنگ کے اخراجات میں کمی، جلد ہی خلائی انفراسٹرکچر کو اقتصادی طور پر قابلِ عمل بنا دے گی۔ مسک کا ماننا ہے کہ جب یہ اہم موڑ آئے گا، تو سرمایہ کاری زمین پر پاور گرڈز کو وسعت دینے کے بجائے تیزی سے خلائی کمپیوٹنگ کی سہولیات کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی
اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں کو بڑے تکنیکی اور لاجسٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم مسک کے تبصرے اس بحث کی عکاسی کرتے ہیں کہ آیا اے آئی کا مستقبل جتنا اختراع پر منحصر ہے، اتنا ہی توانائی اور انفراسٹرکچر پر بھی ہے۔