Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا نیتن یاہو کو کبھی سزا ہوگی؟

Updated: April 11, 2026, 1:43 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

جنگیں ہوتی ہیں ، بے تحاشا خون خرابہ ہوتا ہے، املاک تباہ کی جاتی ہیں ، انسانی زندگی غیر معمولی اذیتوں اور آزمائشوں سے دوچار ہوتی ہے اور جنگ رُک جانے کے باوجود عرصۂ دراز تک معمولاتِ زندگی بحال نہیں ہوتے مگر وہ حکمراں جو نقارۂ جنگ بجاتے اور بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اُنہیں سزا نہیں ہوتی۔

INN
آئی این این
  جنگیں  ہوتی ہیں ، بے تحاشا خون خرابہ ہوتا ہے، املاک تباہ کی جاتی ہیں ، انسانی زندگی غیر معمولی اذیتوں  اور آزمائشوں  سے دوچار ہوتی ہے اور جنگ رُک جانے کے باوجود عرصۂ دراز تک معمولاتِ زندگی بحال نہیں  ہوتے مگر وہ حکمراں  جو نقارۂ جنگ بجاتے اور بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں  اُنہیں  سزا نہیں  ہوتی۔ نیتن یاہو ہی کو لے لیجئے۔ ایران سے پہلے غزہ میں  جو کچھ ہوا اور اب تک ہورہا ہے وہ جنگ بھی نہیں ، یکطرفہ فوجی کارروائی ہے۔ یاہو‘ پر اہل غزہ کے قتل عام حتیٰ کہ نسلی صفائے (جینوسائڈ) کا الزام ہے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اُن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کرچکا ہے مگر جتنا یہ کہنا مشکل ہے کہ کب وہ دن آئیگا جب اُنہیں  گرفتار کیا جائیگا اُتنا ہی آسان یہ سمجھ لینا ہے کہ اُن کی گرفتاری کبھی عمل میں  نہیں  آئیگی۔ بین الاقوامی عدالت کی جانب سے اب تک سزا اُنہی ملکوں  کے حکمرانوں  کو ملتی ہے جن کی معاشی طاقت کم تھی یا جن کے خلاف اندرونی حالات نہایت مخدوش تھے یا جنہیں  منظم طریقے سے کمزور کیا گیا یعنی جن کے حکمرانوں  کو  برطرف کروانا مقصود تھا۔ ہم ایسے چند حکمرانوں  کی بابت بتائیں  گے مگر اس سے پہلے قارئین کی معلومات کیلئے یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں  کہ عالمی عدالتیں  دو ہیں :
پہلی ہے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے)۔ یہ عدالت اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ۱۹۴۵ء میں  قائم کی گئی تھی۔ اس کی ذمہ داری آزاد اور خود مختار ملکوں  کے باہمی تنازعوں  کو فیصل کرنا ہے۔ دوسری عدالت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) ہے جس کا قیام روم اعلامیہ کے تحت ۲۰۰۲ء میں  عمل میں  لایا گیا تھا۔ اس کی ذمہ داری افراد کے خلاف قتل، قتل عام، نسلی صفایہ اور دیگر جنگی جرائم کے الزامات کی شنوائی کرنا اور الزام ثابت ہونے پر سزا دینا ہے۔ عام طور پر دونوں  ہی عدالتوں  کو ’’عالمی عدالت‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ دونوں  عالمی ہیں  مگر دونوں  کا دائرۂ کار مختلف ہے۔ ایک کا کام ملکوں  اور حکومتوں  کے معاملات دیکھنا ہے، دوسرے کا افراد کے معاملات۔ چونکہ نیتن یاہو فرد ہیں  اس لئے ۲۱؍ نومبر ۲۴ء کو اُن کے خلاف جووارنٹ جاری کیا گیا وہ آئی سی سی کا جاری کردہ ہے۔ 
نیتن یاہو ایک سازش کے تحت قائم ہونے والے ملک اسرائیل کے حکمراں  ہیں ۔ یہ ملک بہت مختصر مگر طاقتو ر ہے کیونکہ امریکہ سمیت دُنیا کی بڑی بڑی طاقتیں  اس کی مددگار ہیں ، اسی لئے گناہوں  میں  لت پت ہونے اور آئی سی سی کے مذکورہ بالا وارنٹ کے باوجود نیتن یاہو کا بال بھی بیکا ہونا بعید از قیاس ہے۔ کچھ بگڑتا اُن کا ہے جن کے حالات پہلے ہی بگڑ چکے ہوتے ہیں  اور جو بعض طاقتوں  کی نگاہوں  میں  کھٹکنے لگتے ہیں ۔ مثلاً صدام حسین۔ عراق کے صدر کے خلاف آئی سی سی میں  مقدمہ چلا اور سزا سنائی گئی اور پھانسی دی گئی۔ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک پر بھی مقدمہ چلا، گرفتاری ہوئی اور طویل علالت کے بعد ملٹری ہاسپٹل میں  انتقال سے قبل کئی سال اُنہیں  جیل میں  رہنا پڑا۔ اس فہرست میں  سوڈان کے عمر البشیر، چلی کے صدر آگسٹو پینوچیٹ او ر لائبیریا  کے سابق صدر چارلس ٹیلر جیسے اور بھی کئی نام ہیں ۔  آخر الذکر کو آئی سی سی سے پہلے سیئرالیون کی خصوصی عدالت نے سزا سنائی تھی۔ الزام سب کے خلاف ہوتا ہے مگر سزا کسی کسی کو ملتی ہے یا یوں  کہہ لیں  کہ اُنہی کو ملتی ہے جنہیں  سزا دلانا ہوتا ہے۔ نیتن یاہو کو کون سزا دینا یا دِلانا چاہے گا؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK