جرمنی میں مظاہرین نے اسرائیل کو اسلحہ کی مسلسل برآمدات پر تنقید کی اور حکومت پر فلسطینیوں کے مصائب میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، جرمنی اس وقت امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 6:00 PM IST | Tel Aviv
جرمنی میں مظاہرین نے اسرائیل کو اسلحہ کی مسلسل برآمدات پر تنقید کی اور حکومت پر فلسطینیوں کے مصائب میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، جرمنی اس وقت امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو پر امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کی حمایت کرنے پر سخت تنقید کی اور اسے ان کی ”سیاسی اور اسٹریٹجک ناکامی“ قرار دیا۔ لپیڈ نے بدھ کو بیان دیا کہ اسرائیل کو اس کی قومی سلامتی کو متاثر کرنے والے کلیدی فیصلوں میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے حکومتی طرزِ عمل کے طویل مدتی نتائج برآمد ہوگے۔
اپوزیشن لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ”ہم نے اپنی تاریخ میں کبھی ایسی سیاسی تباہی نہیں دیکھی۔“ انہوں نے نیتن یاہو پر ”تکبر، غفلت اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی کمی“ کا الزام لگایا اور کہا کہ فوج اور عوام نے اپنے فرائض پورے کئے، لیکن حکومت اپنے بیان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ ”فوج نے وہ سب کچھ کیا جو اسے کرنے کیلئے کہا گیا اور عوام نے بھی غیرمعمولی ہمت دکھائی، لیکن نیتن یاہو سیاسی اور تزویراتی طور پر ناکام رہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ’سپر پاور‘ سے مقابلہ میں لوہامنوا کر ایران عالمی طاقت بن گیا
لیپڈ کی یہ تنقید نیتن یاہو کے دفتر سے اس تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے کہ اسرائیل، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران پر دو ہفتوں کیلئے فوجی حملے معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی حکومت نے واضح کیا کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔
اسرائیل کو اسلحہ کی برآمدات پر جرمنی میں احتجاج
دریں اثناء، جرمنی کے شہر اوسنابروک میں اسرائیل کے خلاف عوامی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ یہاں کے رہائشیوں نے برلن کے ذریعے اسرائیل کو مسلسل اسلحہ برآمد کئے جانے پر تنقید کی اور حکومت پر فلسطینیوں کے مصائب میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا۔ مظاہرین واکس ویگن کے اپنے مقامی پلانٹ میں فوجی ساز و سامان تیار کرنے کے منصوبوں کی مخالفت کیلئے جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جرمنی اسرائیل کو ٹینکوں اور توپ خانے کے آپریشنز میں استعمال ہونے والے پرزے فراہم کرتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، جرمنی اس وقت امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین کا مطالبہ: لبنان حملوں پر اسرائیل سے یورپی معاہدہ معطل کیا جائے
مظاہرین نے جاری تنازعات، خاص طور پر غزہ میں انسانی اثرات کے بارے میں خدشات اٹھائے۔ کچھ مظاہرین نے دلیل دی کہ مغربی حکومتیں مستقل موقف اپنانے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ انسانی حقوق کی وکالت کے ساتھ فوجی کارروائیوں کی حمایت بھی کر رہی ہیں۔
دیگر افراد نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سمیت بین الاقوامی قانونی اداروں سے منسلک نتائج اور کارروائیوں کا حوالہ دیا اور جنگ کے طرزِ عمل سے متعلق الزامات پر عالمی ردِعمل پر سوال اٹھایا۔ ریلی میں کئی مقررین نے بین الاقوامی قانون کی سخت پاسداری کا مطالبہ کیا اور جرمن حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے۔ مظاہرین نے اسلحہ کی پیداوار میں توسیع کی بھی مخالفت کی اور علاقائی تنازعات پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔