”آؤٹ لک“ کے تازہ شمارے کے سرورق پر ٹرمپ ہاتھ میں پستول پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی دونوں آنکھوں پر اسرائیلی پرچم والی پٹی لگائی گئی ہے۔ سرخ پس منظر میں، ان کی تصویر کے بازو میں شمارے کا عنوان ”وار لارڈ“ لکھا ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
”آؤٹ لک“ کے تازہ شمارے کے سرورق پر ٹرمپ ہاتھ میں پستول پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی دونوں آنکھوں پر اسرائیلی پرچم والی پٹی لگائی گئی ہے۔ سرخ پس منظر میں، ان کی تصویر کے بازو میں شمارے کا عنوان ”وار لارڈ“ لکھا ہوا ہے۔
معروف میگزین ”آؤٹ لک“ انڈیا نے ۱۱؍ اپریل ۲۰۲۶ء کے تازہ شمارے کے سرورق پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تصویر شائع کی ہے جس میں ان کی آنکھوں پر اسرائیلی پرچم والی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ یہ تصویر، ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران اسرائیل کے ساتھ ان کے مبینہ روابط کو اجاگر کرتی ہے۔
Recently, Scottish artist Lewis Macleod dropped a hilarious impersonation of US President Donald Trump where the bit concerns him ending multiple wars, including War of the Roses, Battle for the Planet of the Apes, Star Wars and currently working on resolving the American Civil… pic.twitter.com/TZsF61DLK8
— Outlook India (@Outlookindia) March 28, 2026
”آؤٹ لک“ کے تازہ شمارے کے سرورق پر ٹرمپ ہاتھ میں پستول پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی دونوں آنکھوں پر اسرائیلی پرچم والی پٹی لگائی گئی ہے۔ سرخ پس منظر میں، ان کی تصویر کے بازو میں شمارے کا عنوان، ”وار لارڈ“ (Warlord) (اردو: جنگ پرست حکمران) جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے۔ انگریزی حرف ’O‘ کی جگہ کرہ زمین کی تصویر ہے جس سے دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے۔ یہ منظر کشی، امریکی صدر کو عسکری فریم کے مرکز میں رکھتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے موجودہ مرحلے میں واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان قریبی تزویراتی تعلقات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
میگزین کی کور اسٹوری میں امریکہ-ایران جنگ کے چوتھے ہفتے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس جنگ کو امریکہ اور اسرائیل کی مربوط فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں تشکیل پانے والا تنازع قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی مضمون بعنوان ”آہنی ایران“ (Iron Iran) میں مغربی ایشیا میں میزائلوں اور ڈرونز کے مسلسل تبادلے کو اجاگر کیا گیا ہے اور علاقائی استحکام اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی لیڈران نے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا
اس موضوع پر ایک اور مضمون، ”غیر ضروری جنگ“ (Un-necessary War) میں اس تنازع کے پیچھے موجود جواز پر سوال اٹھایا گیا ہے اور عام شہریوں پر پڑنے والے انسانی اثرات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ تاہم، اس شمارے کا سرورق خود ایک وسیع تر بیانیے پر زور دیتا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تزویراتی مفادات کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔