۷؍ اکتوبر ۲۳ء کے بعد، اسرائیل نے غزہ میں جن انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا ہے انہیں وقت کے ساتھ بھلا دیا گیا تو یہ عالم انسانیت کے ساتھ سخت ناانصافی ہوگی۔ مورخ جب لکھے گا تب لکھے گا۔ کیا لکھے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں اس لئے آگ اور خون کا جو کھیل کھیلا گیا، اس کی تفصیل پکی روشنائی میں محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ آئندہ نسلیں جان سکیں کہ ایک ناجائز وجود کس طرح جائز آبادی کو تہس نہس کرتا رہا، اس نے کتنوں کو جام شہادت نوش کرنے کیلئے مجبور کیا اور کس طرح اقوام عالم اپنے مفادات کے تحفظ میں کامیاب مگر اہل غزہ کے دفاع میں ناکام رہیں ۔
۷؍ اکتوبر ۲۳ء کے بعد، اسرائیل نے غزہ میں جن انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا ہے انہیں وقت کے ساتھ بھلا دیا گیا تو یہ عالم انسانیت کے ساتھ سخت ناانصافی ہوگی۔ مورخ جب لکھے گا تب لکھے گا۔ کیا لکھے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں اس لئے آگ اور خون کا جو کھیل کھیلا گیا، اس کی تفصیل پکی روشنائی میں محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ آئندہ نسلیں جان سکیں کہ ایک ناجائز وجود کس طرح جائز آبادی کو تہس نہس کرتا رہا، اس نے کتنوں کو جام شہادت نوش کرنے کیلئے مجبور کیا اور کس طرح اقوام عالم اپنے مفادات کے تحفظ میں کامیاب مگر اہل غزہ کے دفاع میں ناکام رہیں ۔
اس ضرورت کا احساس مختلف ملکوں کے حقوق انسانی کے رضاکاروں ، قانونی ماہرین، دانشوروں اور صحافیوں نے کیا اور ایک ایسی مہم جاری کی جس کا مقصد اسرائیل کی شیطنت کو اجاگر کرنا تھا۔ غزہ ٹریبونل کے نام سے یہ مہم لندن میں نومبر ۲۰۲۴ء میں شروع کی گئی جس کا حتمی سہ روزہ اجلاس استنبول یونیورسٹی میں گزشتہ سال اکتوبر میں منعقد کیا گیا جس کے اختتام پر ایک طویل بیان جاری کیا گیا۔ یہ بیان عالمی برادری اور عالمی اداروں کیلئے چلو بھر پانی فراہم کرتا ہے کہ اگر ان میں برائے نام بھی ضمیر ہے تو اسرائیلی اقتدار سے جواب طلب کریں ۔ ضمیر کا ذکر آیا ہے تو عرض کر دیں کہ غزہ ٹریبونل نے خود کو ’’ضمیر کا منصف‘‘ (جیوری آف کانشنس) ہی قرار دیا ہے۔ اس نے اپنے اعلامیہ میں جو کچھ کہا تھا اُس کا مفہوم یہ ہے کہ ضمیرکی آواز پر متحرک ہونے والے ٹریبونل کے اراکین نے بین الاقوامی قوانین سے روشنی حاصل کی۔ ان اراکین کے پاس وہ اختیارات تو نہیں ہیں جو حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں مگر ہم اس اُصول پر یقین رکھتے ہیں کہ حکومتی اختیارات کے ذریعہ قانون کی آواز کو خاموش نہیں کیا جاسکتا اور ضمیر کو منصفی پر مامور ہونا چاہئے۔
ٹریبونل کے اراکین نے مظلومین کی روداد سننے اور حقائق کو جاننے سمجھنے کیلئے کتنی مشقت کی اس کا اندازہ اُن کے اس بیان سے ملتا ہے کہ ’’ہم نے اسرائیل کے جرائم، نسلی صفائے کے اسباب، دیگر (ملکوں اور لوگوں ) کی ساز باز اور اہل فلسطین نیز عالمی شہری سماج (گلوبل سول سوسائٹی) کے پیش کردہ شواہد دیکھے اور سنے۔ ان جرائم سے متاثرین کو جس جسمانی اور ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا اور فلسطینی عوام کو جن مظالم کا سامنا کرنا پڑا ہم نے ان دردناک داستانوں کی سماعت کی اور کوئی نتیجہ نکالنے سے پہلے دی جینوسائڈ کنونشن، دی روم اسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور فطری انصاف کے اخلاقی معیارات کی روشنی میں شواہد کا جائزہ لیا اور جو فیصلہ کیا ہے اُس کی جڑیں اس ایقان سے پھوٹتی ہیں کہ ہر انسانی زندگی کی قیمت یکساں ہے، کسی حکومت یا نظریہ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ پوری قوم کو نیست و نابود کردے ۔‘‘
ٹریبونل کی اس دستاویز سے ظالم یا ظلم میں برابر کے شریک اہل اقتدار سبق لیں یا نہ لیں ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ’’ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں ‘‘ جو انسانیت کا درد محسوس کرتے ہیں اور انصاف کیلئے سرگرم عمل ہوتے ہیں ۔ تیار شدہ دستاویز ظالم حکمرانوں کے گناہوں کا صندوق ہے جو کھلے نہ کھلے اِنہیں ڈرائے گابھلے ہی وہ کسی سے نہ ڈرنے کے عادی ہوں ۔ ظلم و جبر کا بازار گرم کرنے والا ہر حکمراں یہ بھول جاتا ہے کہ تمام دُنیوی قوانین سے بالا قدرت کا قانون ہے۔ دُنیوی قوانین کے نگہبانوں کی طرح اس کا نگہبان چہرہ، خطہ اور نسل نہیں دیکھتا، وہ ظالموں کو سزا دے کر رہتا ہے۔ یہ لوگ ڈریں نہ ڈریں اس قانون کی گرفت سے آزاد ہرگز نہیں ہیں ۔