غزہ میں فلسطینیوں کے لئےرفح گزرگاہ طویل عرصے سے بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 10:04 AM IST | Tal Aviv
غزہ میں فلسطینیوں کے لئےرفح گزرگاہ طویل عرصے سے بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کےوزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے امریکہ کے دورے سے واپس آنے کے بعدتل ابیب غزہ پٹی اور مصر کے درمیان واقع رفح گزرگاہ کو دونوں سمتوں سے دوبارہ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اسرائیل کی کان۱۱؍نیوز کے مطابق متوقع فیصلہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ کے نتیجے میں کیا جائے گا۔ غزہ میں فلسطینیوں کے لئےرفح گزرگاہ طویل عرصے سے بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ رہی ہے۔
واضح رہےکہ مئی۲۰۲۴ءمیں اسرائیلی افواج نے رفح گزرگاہ کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد اس کی عمارتوں کو تباہ کیا، سفر کو روکا اور خاص طور پر مریضوں کے لئے شدید انسانی بحران پیدا کیا تھا۔
ایسا ۲۰؍سال میں پہلی بار ہوا کہ اسرائیلی افواج نے سرحدی گزرگاہ کو براہ راست کنٹرول کیا کیونکہ انہوں نے فلاڈیلفی کوریڈور کے اس پار فوجی بفر زون میں فوجیوں کو تعینات کیا ہے جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔
ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ انسانی امداد کو علاقے میں داخل ہونے دیں اور رفح گزرگاہ کی دونوں سمتوں کو کھولیں۔ یہ منصوبہ امریکی انتظامیہ نے اکتوبر میں غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کو ختم کرنے کے لئے نافذکیا تھا لیکن اسرائیل نے امداد کے داخلے پر پابندیاں جاری رکھی ہیں جبکہ ایک فوجی یونٹ جسے اسرائیل کی کوآرڈینیشن آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز ان دی ٹیریٹریز (سی او جی اے ٹی) کہا جاتا ہے نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ رفح گزرگاہ آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر غزہ پٹی سے مصر جانے والوں کیلئے کھل جائے گی۔