بحیثیت ملک ہم نے جس طرح کم ہمتی کا ثبوت دیا ہے اس کی وجہ سے ہم کتنا کمزور ہوئے ہیں اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو حالیہ واقعات کا ایماندارانہ تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک ہے۔
مجھے اس حقیقت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ایک ملک کی حیثیت سے ہم کو ہمیشہ وہ چیز نہیں مل سکتی جو ہم چاہتے ہیں ۔ اس معنی میں کوئی بھی ملک حقیقی طور پر خود مختار نہیں ہے کیونکہ وہ جو کچھ بھی چاہتا ہے نہ تو پورا کا پورا خود کرسکتا ہے نہ ہی دُنیا سے کروا سکتا ہے۔ اگر یہ سچائی نہ ہوتی (کہ خود مختاری اتنی آسان نہیں ) تو امریکہ بہادر ویتنام، افغانستان اور عراق سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوتا اور حالیہ دنوں میں یہ صورتحال نہ پیدا ہوتی کہ اسے ایران میں شکست کا سامنا ہے۔ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ تہران ہتھیار ڈال دے مگر کسی بھی زاویئے سے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم طاقتور ملک نہیں ہیں ، اس لئے ہمیں جتنی چادر ہے اُتنا ہی پاؤں پھیلانا چاہئے۔اس کا معنی یہ ہے کہ ہم حقائق کو من و عن تسلیم کریں اور آئینہ دیکھنے میں شرم محسوس نہ کریں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ہم کیا ہیں اور کیسے ہیں ۔ آئینے میں ہمارا عکس اُس ملک کا ہے جس کی آبادی کا معتدبہ حصہ غریب ہے جس سے وابستہ افراد ہر ماہ مفت راشن حاصل کرنے کیلئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ہم ہندوستانی، تعداد میں زیادہ ہیں مگر اپنی آبادیاتی طاقت کو محسوس نہیں کرسکے ہیں ۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آبادی کی اس طاقت کے فوائد مستقبل میں دیکھے جاسکتے ہیں حال میں نہیں ۔
اسی لئے، مجھے یہ تسلیم کرنے میں بالکل بھی تردد نہیں کہ ہم طاقتور (ملک) نہیں ہیں اور ہمارے پاس گنجائشیں بھی کم ہیں اور ہم طاقتور ملکوں کے مقابلے میں کم خود مختار ہیں ۔ طاقتور ممالک اپنے پڑوسیوں سے جھگڑتے نہیں ہیں اور پڑوسی ملک سے کرکٹ کھلاڑی منتخب کرنے پر آئی پی ایل ٹیموں کا راستہ نہیں روکتے جیسا کہ ہم نے بنگلہ دیش کے ساتھ کیا۔ طاقتور ممالک بُرا مان کر خاموش نہیں بیٹھتے اور حریفوں (حریف ٹیم کے کھلاڑیوں ) سے ہاتھ ملانے یا مصافحہ کرنے سے انکار نہیں کرتے۔مگر ہم ایسا کرتے ہیں اور ہم نے ایسا کیا ہے۔ شاید اس لئے کہ ہم یہی کرسکتے ہیں ۔
جہاں حقیقی قومی مفادات کا سوال اُٹھتا ہے، جہاں مزاحمت مشکل ہوتی ہے اور سر تسلیم خم کرنا آسان ہوتا ہے وہاں ہم مان جاتے ہیں ۔ ہم سے کہا گیا کہ روس سے تیل نہ خریدیں ، ہم نے کہا جی جناب۔ پھر کہا گیا کہ اچھا ایسا کرو روس سے تیل خرید لو، ہم نے کہا بہتر جناب۔پھر یہ حکم دیا گیا کہ ایران سے تیل نہ خریدو، ہم نے جواب دیا ٹھیک ہے جناب۔ اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ ہمیں امریکہ کا حکم سننے کی ضرورت بھی نہیں رہ گئی ہے اسی لئے اب یہ سوچنا غیر ضروری ہے کہ ایران کے بارے میں حقیقت زبان پر لانے سے ٹرمپ ناراض ہوجائینگے، اس لئے ہم ایران سے چشم پوشی کر رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی مرضی و منشاء کے خلاف کچھ کرنے سے یہ شخص ہمیں حاشئے پر لا دے گا۔ ہرچند کہ اپنے بارے میں ایسا کہنا اچھا نہیں لگتا، گراں گزرتا ہے مگر جب خود کو آئینے میں دیکھتے ہیں تو ان حقائق سے نظریں چرانا ممکن نہیں رہ جاتا۔ اسی لئے آئینہ دیکھنا ضروری ہے خواہ کبھی کبھی دیکھا جائے۔یہی ہزیمت کیا کم ہے کہ اب امریکہ نے ہمیں تیس دن کی مہلت دی ہے کہ اس دوران روس سے تیل خرید لو۔ جب یہ تیس روزہ مہلت ختم ہوجائیگی تب دیکھنا کہ ہم دوبارہ امریکی حکم کی پاسداری کیلئے تیار رہیں گے۔
کیا چین سے اس لب و لہجہ میں اور اتنی سختی کے ساتھ گفتگو کی جاسکتی ہے جو تیل کی ضرورت پوری کرنے کیلئے دیگر ملکوں پر اُتنا ہی منحصر ہے جتنا ہم ہیں ؟ وہ ایسے تیور کبھی برداشت نہیں کریگا۔ چینی سربراہ سے ایسا کہنے کی ٹرمپ میں ہمت اور جرأت نہیں ہے جو نہ تو ہنستا مسکراتا ہے نہ ہی بڑھ بڑھ کے گلے ملتا ہے۔
ہم نے فیصلہ کیا کہ اُس سربراہِ مملکت کی شہادت کی مذمت کرنا تو دور کی بات، اس سانحہ پر کچھ کہیں گے بھی نہیں جس کے ماننے والوں میں اپنے وطن کے بھی لاکھوں لوگ شامل ہیں ۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اسکولی طالبات کے قتل عام پر ہمیں اظہار ِ غم نہیں کرنا ہے۔ ہمارے متعدد فیصلوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب غیر مسلح جہاز راں ، جو چند گھنٹوں پہلے تک ہمارے ملک کے معزز مہمان تھے، واپسی کے سفر پر روانہ ہوں گے اور اُن کا جہاز اُڑا دیا جائے گا تو ہم پر سکوت طاری رہے گا، ہم کچھ نہیں کہیں گے۔
جو کچھ ہوچکا ہے اور ہورہا ہے اُس سے مجھے اتفاق نہیں ہے مگر میں مانتا ہوں کہ یہ چھوٹا مسئلہ ہے۔ چھوٹا کیوں نہ ہو جب ہم نے طے کرلیا ہے کہ بزدل بنے رہیں گے؟ میرے خیال میں بڑا مسئلہ ہمارا وہ طرز عمل ہے جس کے ذریعہ ہم دکھاتے ہیں کہ وشو گرو ہیں اور ’’جی ٹوئنٹی‘‘ (G20) کی سربراہی کررہے ہیں ۔ یہ شاید اس یقین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ہماری نظر میں تمام ہندوستانی نہایت ساوہ لوح ہیں جو ہر طرح کی حماقت و ہزیمت سہنے کی تاب رکھتے ہیں ۔
مگر، ہم میں جو لوگ اپنی جھوٹی شان سے، جو ہورڈنگوں پر لکھی ہوئی ہے اور ٹی وی چینلوں سے نشر کی جارہی ہے، مطمئن نہیں ہیں وہ بھی خاموش رہنا پسند کرتے ہیں ۔ میرے نزدیک یہ زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ جمہوری حکومتوں کو ایماندار ہونا چاہئے۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے۔ اس لئے نہیں کہ یہ اخلاقیات کا تقاضا ہے بلکہ اس لئے کہ اس کی وجہ سے حکومتوں کا کام آسان ہوجاتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ بتانے میں اتنا تردد اور دشواری نہیں ہونی چاہئے تھی کہ ہم نے جو خود سپردگی کی ہے وہ خود سپردگی نہیں ہے۔ اگر تیس دن کی مہلت حاصل کرنا سفارتی فتح ہے تو اُسے یہ بھی بتانا چاہئے کہ یہ سفارتی فتح کیسے ہے۔ اس کے ساتھ ہی اِس پارٹی کو اپنے دوستوں (دوست ملکوں بشمول ایران) پر واضح کرنا چاہئے کہ ہم نے اُن کا ساتھ اس لئے نہیں چھوڑا کہ اُن کے ساتھ جوکچھ ہورہا ہے اُس سے ہم متفق ہیں بلکہ (ساتھ اس لئے چھوڑا کہ) ہم میں ساتھ دینے کی ہمت نہیں ہے۔ آخری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جس دن مذکورہ وضاحت ہوگی اُس دن ہم ایک ملک کی حیثیت سے اپنی گرتی ہوئی ساکھ، کم ہوتے وقار اور گھٹتے وزن سے پیدا شدہ پریشانی اور ندامت کو کسی حد تک سہنے کے قابل ہوجائینگے۔