Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ میزائل گرے تو لوگ دور بھاگتے ہیں، ایرانی عوام میزائل کی طرف دوڑتے ہیں‘‘

Updated: April 30, 2026, 9:54 AM IST | Sayyed Khush Naaz | Mumbai

۲۸؍ فروری سے اب تک ایران سے متعلق جتنی رپورٹیں شائع ہوئیں اُن میں جنگ کی تفصیل تھی، عوامی حالات کا تذکرہ نہیں تھا، اسی لئے یہ گفتگو کی گئی تاکہ زمینی حقائق کا علم ہو۔

Iranian People.Photo:INN
ایران کے عوام۔ تصویر:آئی این این
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں نے وہاں کے متعدد شہروں میں کافی تباہی مچائی، وہاں کی اعلیٰ  قیادت  اور اہم سیاسی و فوجی لیڈران کو شہید کردیا گیا ۔ اس کے باوجود ایرانی قوم نے بے مثال صبر و استقامت ، شجاعت اوراپنی سرزمین سے محبت  کا ثبوت دیا ہے  اسی وجہ سے ایران اس جنگ میںفاتح رہا ۔  جنگ شروع ہونے کے بعد  ہمارے پاس ایران کے جوابی حملوں ، امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں اور یہاں تک کہ ایرانی حکومت کی سرگرمیوں کی رپورٹس موصول ہوتی رہیں لیکن زمینی سطح پر کیا حالات ہیں ؟ ایرانی عوام کا کیا ردعمل ہے، اس کا علم نہیں ہوا۔شاید ہی کسی صحافتی ادارے نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہو ۔ ہم نےچند شیعہ عالم دین سے گفتگو کی جو اپنے  اہل خانہ کے ساتھ  ایران میں ہی مقیم ہیں لیکن گزشتہ دنوں ہندوستان آئے ہوئے تھے۔
مولانا سید غلام رضا جعفری جو اِن دنوں  علاج کیلئے ہندوستان آئے ہیں، نے ہمیں بتایا کہ ’’ ایرانی قوم تعلیم یافتہ اور مہذب قوم ہے۔ ان میں دینداری اور انسانیت کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود ہے۔ معلومات کے بہت دلدادہ ہیں۔ اس قوم نے دکھادیا کہ خوف زدہ  ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘مولانا  جنہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ قم میں گزارا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایرانی قوم موت سے نہیں ڈرتی  جبکہ امریکہ  اور اسرائیل کے فوجی اور ان کے ارباب اقتدار سب موت سے خوف کھاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایرانی  قوم پر یہ مشکل وقت آیا تھا کیوں کہ ان پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے حالات بہت دگرگوں تھے ، بعض لوگ حکومت مخالف بھی ہو گئے تھے لیکن بہت جلد انہیں یہ احساس ہو گیا کہ وہ پروپیگنڈہ  کا شکار ہورہے ہیں۔ اسی وجہ سے جنگ کے کچھ دنوں میں ہی ایرانی قوم میں غیر معمولی ہم آہنگی اور  زبردست اتحاد دیکھنے کو ملا۔ اسی اتحاد کی وجہ سے ٹرمپ کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے۔ اس بوکھلاہٹ میں وہ ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنارہے تھے جس کی وجہ سے طلبہ کی پڑھائی پر اثر پڑا۔
مولانا جعفری نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی قوم اتنی شجیع اور جرأت مند ہے کہ جہاں امریکہ اور اسرائیل بم گراتے ہیں یہ وہاں دوڑ کر پہنچتے ہیں تاکہ متاثر ہونے والوں کی مدد کرسکیں۔ ایسے واقعات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔یہ قوم ڈر کر کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ نہ وہاں کوئی بنکر ہے اور نہ محفوظ پناہ گاہ۔ یہ قوم بموں اور ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہونے والی قوم ہے۔ ان کے سپریم لیڈر بھی کہیں چھپ کر نہیں بیٹھے۔ نہ وہ کسی بنکر میں گئے اور نہ کسی محفوظ پناہ  گاہ کی تلاش میں رہے۔
عالمی میڈیا اور بین الاقوامی برادری کے ردعمل پر مولانا جعفری نے کہا کہ عالمی میڈیا کے بیشتر اداروں نے سچ دکھایا ہے اس کے باوجود  بین الاقوامی برادری کو امریکہ اور اسرائیل کی غنڈہ گردی کو جس انداز میں لگام دینی چاہئے تھی ویسی نہیں دی گئی ۔ عالمی برادری کو یہ بات اپنے ذہن میں اتار لینی چاہئے کہ آج ایران کا نمبر آیا ہے کل کو ان کا بھی آسکتا ہے۔ 
مولانا سید رضوان حیدر ، جن کی رہائش ایران کے شہر ’’قم ‘‘ میں ہے، نے بتایا کہ شہر میں تو حالات بڑی حد تک معمول پر  رہے۔ وہاں بہت زیادہ حملے نہیں ہوئے ۔ ابتدائی دنوںمیں چند ایک حملے ہوئے تھے اس کے بعد سے وہاں امن رہا۔ مولانا رضوان کی فیملی فی الحال وہیں مقیم ہے۔ ان کی بیٹی وہیں بیاہی گئی ہے۔وہ بتاتے ہیںکہ وہاں کھانے پینے کی اشیاء کی کوئی قلت نہیں ہے اور نہ بجلی بند ہوئی ہے۔ ہاںانٹرنیشنل  انٹر نیٹ کئی دنوں سے بند ہے لیکن ملکی سطح کے ایپس چل رہے ہیں  اورہمارا رابطہ بھی انہی ایپس کی مدد سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے  ایرانی قوم کی بہادری اور شجاعت کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ ابتدائی حملوں کے بعد بھی نہ گھبرائےتھے اور نہ اب خوفزدہ ہیں۔ وہ  ہر روزرات میں ۹؍ بجے سے ایک بجے تک شہر کے اہم چوراہوں پر نکلتے ہیں اورحکومت کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے مظاہرے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے بعد ایرانی قوم کا آپس میں رابطہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ۲؍ سے ۳؍ ٹی وی چینل ہیں جو وہاں خبروں کا اہم اور مصدقہ ذریعہ ہیں۔ اسکول بھی آن لائن شروع  ہیں۔ مولانا رضوان نے بتایا کہ اس مرتبہ وہاں عید اور نو روز ایک ساتھ تھے اس لئے کچھ اہتمام تھا لیکن جب رہبر قوم کا پیغام نشر ہوا تو لوگ دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ 
 
 
 
خطیب دربار شاہ خراساں مولانا سید سبط محمد رضوی مشہدی جو گزشتہ ۳۵؍ سال سے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ مشہد میں مقیم ہیں ، نے بتایا کہ ’’ پوری پوری رات سڑکوں پر لوگ نکلتے ہیں اور ایرانی حکومت سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ یہ ایک طریقہ ہے دشمنوں کو بتانے کا کہ ایرانی قوم نہایت غیور  اور جری ہے۔وہ اپنے حکمرانوں کے تئیں بدظن یا بددل نہیں ہوتی ۔‘‘ انہوں نے تہران کے تعلق سے کہا کہ ایران میں سب سے زیادہ حملے دار الحکومت تہران میں ہی ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے باوجود  تہران میںروزمرہ کی زندگی معمول پر ہے۔ لوگ بم گرنے کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عام طور پر کہیں بم یا میزائل گرتا ہے تو لوگ دور بھاگتے ہیں، مگر ایران میں لوگ اُس جانب دوڑتے ہیں جہاں دھماکہ ہوا ہے تاکہ کسی کو بچایا جاسکتا ہو تو بچالیں،یہ حسینی جذبہ ان کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران ، اصفہان ، شیراز جیسے شہروں پر حملے ہوئے لیکن وہاں حالات فوری طور پر معمول پر آرہے ہیں۔دفاتر شروع رہے، اسکول بھی شروع  رہے یہاں تک کہ تمام مالیاتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی معمول پر رہیں۔ کمیونٹی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عوامی یکجہتی قابلِ دید ہے۔ دکاندار اپنی دکانوں پر لکھ دیتے ہیں کہ جس کو جو ضرورت ہو لے لے اور بعد میں ادائیگی کر دے۔ حتیٰ کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی کئی مواقع پر بلا معاوضہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شدید حملوں کے باوجود ایران کے عوام میں شہر چھوڑنے کا کوئی خاص رجحان نہیں تھا ۔ لوگ اپنے گھروں میں رہ کر حالات کا مقابلہ کر تے نظر آئے۔
 
 
مولانا غلام رضا رضوی نے بتایا کہ یہاں جوش و جذبہ بہترین ہے۔ شام کے وقت سبھی اپنے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔  یہاں تک کہ ایک دوسرے کےلئے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں، چائے کا اہتمام ہوتا ہے۔ غالباً یہی دیکھ کر ٹرمپ گھبراگئے اور اب جنگ لڑنے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ حکومت کی حمایت اس پیمانے پر کی جائے اور اس کی حمایت میں نعرے لگائے جائیں لیکن ایران میں یہ روزانہ ہوتا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ تہران میں تو حالات  اور بھی زیادہ قابل دید  تھے کیوں کہ یہاں پر۲؍ ۲؍ ہزار کلومیٹر دور کے سرحدی علاقوں سے بھی لوگ پہنچے  اور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں تجارتی ادارے شروع رہے۔ ملکی سطح پر چونکہ انٹر نیٹ شروع ہے اس لئے بینک ، دیگر مالیاتی ادارے اور دفاتر سب کے سب کھلے رہے۔ ان کا کام متاثر نہیں ہوا۔ میڈیا میں دکھائی جانے والی صورتحال اور زمینی حقیقت  کے سوال پر مولانا نے کہا کہ میڈیا اکثر مبالغہ آرائی کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں عوام میں نہ خوف ہے اور نہ ہی بدحواسی  بلکہ ان میں حوصلہ اور اتحاد پایا جاتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK