پوتن اور ٹرمپ نے یوکرین میں جاری تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹس کے مطابق، پوتن نے ۹ مئی کو روس کے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 30, 2026, 6:59 PM IST | Moscow/Washington
پوتن اور ٹرمپ نے یوکرین میں جاری تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹس کے مطابق، پوتن نے ۹ مئی کو روس کے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو ٹیلی فون پر ۹۰ منٹ تک بات چیت کی اور ایران تنازع، یوکرین جنگ اور حالیہ سلامتی صورتحال جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ مارچ کے بعد سے دونوں لیڈران کے درمیان یہ پہلا معلوم براہِ راست رابطہ ہے۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق، پوتن اور ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص ایران اور خلیج فارس کے معاملے پر ”تفصیلی گفتگو “ کی۔ اوشاکوف نے بتایا کہ پوتن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کی اور اسے ”درست فیصلہ“ قرار دیا، جو مذاکرات کی گنجائش پیدا کرسکتا ہے اور صورتحال کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کال کے دوران، پوتن نے ایران سے متعلق مخصوص تجاویز بھی پیش کیں، تاہم ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
دونوں لیڈران نے یوکرین میں جاری تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹس کے مطابق، پوتن نے ۹ مئی کو روس کے ’یومِ فتح‘ (Victory Day) کی تقریبات کے موقع پر عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ سالانہ تقریب دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ کریملن نے اشارہ دیا ہے کہ ممکنہ جوابی حملوں سمیت سلامتی خطرات کے پیشِ نظر اس سال ماسکو میں تقریبات کو محدود رکھا جائے گا۔
جغرافیائی و سیاسی مسائل کے علاوہ، پوتن نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کے حالیہ واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے اس حملے کے بعد اپنی حمایت کا اظہار کیا، جس نے امریکہ میں اعلیٰ سطح کی عوامی تقریبات کی سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کی وطن واپسی پرخوفزدہ ہونے والوں کی ویزا درخواست رد کرنے کی ہدایت
کریملن کا کہنا ہے کہ یہ کال ماسکو کی جانب سے کی گئی تھی اور ۹۰ منٹ سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ گفتگو کے دوران پوتن نے میلانیا ٹرمپ کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی اور انسانی ہمدردی کے اقدامات، خاص طور پر روس-یوکرین تنازع سے متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ ملانے سے متعلق ان کی کوششوں کی ستائش کی۔