Updated: April 30, 2026, 6:59 PM IST
| Tehran
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگی نقصانات کے معاوضے کے لیے قانونی اور مالیاتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران ’’باہمی کارروائی‘‘ اختیار کر سکتا ہے۔ تہران نے ایک تین مرحلوں پر مبنی حکمت عملی پیش کی ہے جس میں بین الاقوامی قانونی کارروائی، اثاثوں کی ضبطی اور آخری مرحلے میں جوابی اقدامات شامل ہیں، جبکہ صدر مسعود پیزشکیان نے بحری پابندیوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران نے پرجوش عوام کے سامنے اپنےنئے ڈرون کا مظاہرہ کیا۔ تصویر: ایکس
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جنگی نقصانات کے معاوضے کے معاملے پر اپنا مؤقف مزید سخت کر دیا ہے، جہاں علی رضا سلیمی نے واضح کیا ہے کہ اگر سفارتی اور قانونی ذرائع ناکام ہو گئے تو ملک ’’باہمی کارروائی‘‘ کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ سے منسلک آئی سی اے این اے نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں علی رضا سلیمی نے کہا کہ ایران ایک ’’کثیر الجہتی حکمت عملی‘‘ کے تحت جنگی نقصانات کا ازالہ چاہتا ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب سے پہلے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے قانونی کارروائی کریں گے تاکہ جارحیت کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے گھروں پر معاشی اثرات مرتب: فرانسیسی وزیر اعظم
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’اگر قانونی راستے مؤثر ثابت نہ ہوئے تو اگلا مرحلہ مالی دباؤ کا ہوگا۔اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو ہم ذمہ دار فریقوں سے منسلک اثاثوں کو ضبط کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ سلیمی کے مطابق آخری مرحلہ سب سے سخت ہوگا، ’’اگر نہ قانونی کارروائی اور نہ ہی اثاثوں کی بازیابی سے کوئی نتیجہ نکلا تو ایران مساوی قیمت عائد کرنے کے لیے باہمی کارروائی کرے گا۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ سلیمی نے امریکہ کو بین الاقوامی قانون کے تحت ’’دشمن ریاست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ وہ ممالک جو اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو حملوں کے لیے استعمال ہونے دیتے ہیں، انہیں بھی قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خلیج فارس میں ممکنہ سمندری ناکہ بندی یا پابندیوں کے خلاف سخت مؤقف اپنایا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’سمندری ناکہ بندی یا پابندیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور یہ نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی امن و استحکام کے مفادات کے بھی خلاف ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے اقدامات کی ناکامی یقینی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تیل کی عالمی قیمت ۱۴۰؍ ڈالر تک پہنچ جائے گی: باقر قالیباف
صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پارلیمنٹ میں ان اقدامات کے خلاف قانون سازی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ تاحال امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے اس تین مرحلوں پر مبنی منصوبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق پس پردہ بات چیت جاری ہے، اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید وضاحت متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے ’’باہمی کارروائی‘‘ کی دھمکی خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اگر قانونی اور سفارتی راستے ناکام ہو جاتے ہیں۔