رومیلا تھاپر کی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے وابستہ رہا۔ انہوں نے وہاں تاریخ کے شعبے کو جدید تنقیدی فکر سے روشناس کرایا۔
ہندوستانی تاریخ نویسی کو معیار ووقار کے لحاظ سے با اعتبار بنانے والے مؤرخین میں پروفیسر رومیلا تھاپر کا نام عالمی سطح پر محترم سمجھا جاتاہے۔وہ دنیا کی ایک ایسی معتبر مؤرخ ہیں جو صرف تاریخ تک خود کو محدود نہیں رکھتیں بلکہ تغیرِ زمانہ پر ان کی گہری نظر ہے اور وہ تہذیبی، ثقافتی، لسانی ، مذہبی اور بالخصوص سیاسی بدلائو پر اپنی منفرد دانشورانہ آرا پیش کرتی رہتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ان کی شناخت ایک مؤرخ کے ساتھ ساتھ دانشور کی حیثیت سے مستحکم ہے۔ حال ہی میں ان کی خود نوشت "Just being: A memoir"شائع ہوئی ہے یہ کتاب صرف ایک شخصی داستان نہیں بلکہ بیسویں صدی کے ہندوستان کی فکری، تہذیبی اور سیاسی تاریخ کا آئینہ ہے۔ یہ کتاب ایک ایسے ذہن کی تشکیل کا سفر بیان کرتی ہے جس نے تاریخ کو محض بادشاہوں ، جنگوں اور سلطنتوں کی کہانی کے بجائے سماج، ثقافت، عوام اور انسانی شعور کی تشکیل کے عمل کے طور پر دیکھا۔ رومیلا تھاپر کی یہ یادداشتیں ہمیں اس ہندوستان سے روشناس کراتی ہیں جو نوآبادیاتی عہد، آزادی کی جدوجہد، تقسیم ہند، جدید قومی ریاست کی تعمیر اور بعد کے فکری مباحث سے گزر رہا تھا۔
یہ کتاب اپریل ۲۰۲۶ء میں منظر عام پر آئی اور ادبی و علمی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔کیوں کہ اس میں مصنفہ نے نہایت سادہ مگر دلکش اسلوب میں اپنی ذاتی زندگی، خاندانی پس منظر، علمی سفر، تدریسی تجربات اور ہندوستانی تاریخ نویسی کے بدلتے رجحانات کو بیان کیا ہے۔ اس خود نوشت کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں ذات اور عہد ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں ۔واضح ہو کہ رومیلا تھاپر ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد برطانوی ہند کی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ بچپن مختلف شہروں میں گزرا۔ اس مسلسل نقل مکانی نے ان کے ذہن میں ہندوستان کی تہذیبی رنگا رنگی کا گہرا شعور پیدا کیا۔کتاب میں ایک مقام پر وہ لکھتی ہیں :
History is not the story of a frozen past" "It is an inquiry into change.
یہ جملہ ان کی پوری تاریخ نگاری کا نچوڑ ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ جامد ماضی نہیں بلکہ تغیر اور ارتقا کا مطالعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہندوستانی تاریخ کو صرف مذہبی خانوں میں تقسیم کرنے کی مخالفت کی۔ وہ قدیم ہندوستان کو ایک پیچیدہ سماجی تشکیل کے طور پر دیکھتی ہیں جہاں مختلف نسلیں ، عقائد اور ثقافتیں باہم تعامل میں تھیں ۔کتاب میں تقسیم ہند کا ذکر نہایت حساس انداز میں آیا ہے۔ رومیلا تھاپر اس سانحے کو صرف سیاسی واقعہ نہیں بلکہ انسانی المیہ قرار دیتی ہیں ۔ وہ لکھتی ہیں کہ تقسیم کے دوران خوف، بے یقینی اور نفرت نے صدیوں کے سماجی رشتوں کو پارہ پارہ کر دیا۔ اس تجربے نے ان کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعد میں انہوں نے فرقہ وارانہ تاریخ نویسی کے خلاف مضبوط علمی موقف اختیار کیا۔
رومیلا تھاپر کی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے وابستہ رہا۔ انہوں نے وہاں تاریخ کے شعبے کو جدید تنقیدی فکر سے روشناس کرایا۔ کتاب میں وہ جے این یو کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ یونیورسٹی صرف تعلیم کا مرکز نہیں بلکہ مکالمے اور اختلاف رائے کی تجربہ گاہ تھی۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ تنقیدی شعور پیدا کرنا ہے۔انہوں نے اپنی یادداشتوں میں اساتذہ اور شاگردوں کے تعلق کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔
رومیلا تھاپر کی اس کتاب میں عورت کے تجربے کی جھلک بھی ملتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب علمی دنیا میں مردوں کا غلبہ تھا، انہوں نے اپنی محنت اور فکری استقلال سے عالمی سطح پر شناخت حاصل کی۔ رومیلا تھاپر نے اپنی کامیابیوں کو بھی غیر معمولی انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ اکثر مقامات پر خود احتسابی اور انکسار کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وصف اس کتاب کو محض علمی یادداشت کے بجائے ایک ادبی تجربہ بنا دیتا ہے۔
ایسے وقت میں جب تاریخ کو سیاسی ہتھیار بنایا جا رہا ہو، رومیلا تھاپر کی یہ خود نوشت علمی دیانت، تنقیدی فکر اور جمہوری شعور کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ماضی کو سمجھنےکیلئے جذبات نہیں بلکہ تحقیق، سوال اور مکالمہ ضروری ہیں ۔ادبی اعتبار سے بھی یہ کتاب قابل توجہ ہے۔ اس میں بیانیہ کی روانی، یادداشت کی لطافت اور تاریخی شعور کی گہرائی ایک ساتھ موجود ہیں ۔ کہیں یہ ایک بچی کی حیرت بھری آنکھوں سے دنیا کو دیکھتی ہے، کہیں ایک محقق کے ذہن سے سماجی ڈھانچوں کا تجزیہ کرتی ہے، اور کہیں ایک
حساس انسان کے طور پر اپنے عہد کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہے۔
رومیلا تھاپر کی یہ خود نوشت دراصل ہندوستانی دانش کی ایک اہم روایت کی نمائندہ ہے۔وہ روایت جس میں سوال کرنا جرم نہیں بلکہ علم کی ابتدا سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں فکری آزادی، سائنسی مزاج اور کثرت پسند ہندوستان کے تصور کا دفاع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ کتاب صرف ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ہندوستان کے جدید فکری سفر کی دستاویز بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 710 صفحات پر مشتمل کتاب کی قرأت کرتے وقت قاری لمحہ بھر کے لئے بھی اس کے اوراق سے الگ ہونا نہیں چاہتا اور آخری صفحات تک پہنچ کر بدلتے ہندوستان کی تاریخ سے آگاہ ہو جاتاہے۔یہ کتاب Seagull Booksلندن، نیویارک اور کولکاتا کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف حصوں سے ایک ساتھ شائع ہوئی ہے اور مقبولیت کے ساتھ قبولیت کا درجہ حاصل کر رہی ہے ۔
خلاصہ کلام یہ کہ Just Being: A Memoir ایک ایسی کتاب ہے جو تاریخ، ادب، سماجیات اور سیاسی فکر میں دلچسپی رکھنے والے ہر قاری کیلئے مفید ہے کہ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کو سمجھنے کیلئے صرف واقعات کافی نہیں ، بلکہ ان واقعات کے پس منظر، انسانی تجربے اور فکری ارتقا کو بھی جاننا ضروری ہے۔