نوجوانوں کی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ امتحان کے پرچے لیک ہوتے ہیں، مقابلہ جاتی امتحان منسوخ ہوتے ہیں، کمپنیوں میں نئی بھرتیاں بند ہوتی ہیں اور ایسے ہر ستم کیلئے تختہ مشق نوجوان ہی ہیں جو ہمارا بہترین اثاثہ کہلاتے تھے۔
اب سے پہلے تک تعلیم کا مقصد تھا بہتر انسان بنانا۔ اسی لئے جب اُستاد اپنے شاگرد کو سزا دیتا تھا تب والدین بیچ میں نہیں آتے تھے۔ ایسا نہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے (یا، بیٹی) سے محبت نہیں تھی۔ محبت اُس دور میں آج کے دور سے زیادہ ہی رہی ہوگی مگر والدین جانتے تھے کہ اُستاد کی سزا بیٹے کی بھلائی کیلئے اور اسے بہتر انسان بنانے کیلئے ہے یعنی اُس کے مفاد سے ماورا نہیں ہے اس لئے اُستاد کی سزا پر اُن کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔ آج کے والدین محض ناراض نہیں ہوتے، آپے سے باہر ہوجاتے ہیں کہ اُستاد نے اُن کے بیٹے پر ہاتھ کیوں اُٹھایا۔ محبت وہ بھی تھی، محبت یہ بھی ہے مگر ردعمل بدل گیا ہے۔ ماضی میں بیٹے کی سزا کا خیرمقدم کیا جاتا تھا۔ آج بیٹے کی سزا پر اُستاد کو سزا دینے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر محبت وہ بھی تھی اور محبت یہ بھی ہے تو ردعمل میں فرق کیوں آیا؟ شاید اس لئے کہ ماضی کی محبت بیٹے کے وسیع تر مفاد میں غیر جذباتی ہوکر سوچتی تھی۔ آج کی محبت بیٹے کے وسیع تر مفاد کے بارے میں نہیں سوچتی اس لئے جذباتیت کی رو میں بہہ جاتی ہے۔ جب استاد نے دیکھا کہ اُس کے خلاف شکایت کردی گئی اور جواب دینا پڑا ہے یا پولیس کیس ہوگیا ہے تو اس نے طالب علم پر ہاتھ اُٹھانے سے بہتر یہ سمجھا کہ مؤثر تعلیم کے فرض ہی سے ہاتھ اُٹھا لے۔ اب اُس کا طریقہ یہ ہے کہ بچہ پڑھتا ہے تو پڑھے، نہیں پڑھتا ہے تو نہ پڑھے، مَیں کوئی خطرہ مول نہیں لوں گا۔ ویسے، یہ مضمون نگارطالب علم کو سزا دینے کا مخالف ہے۔ اس کا خیال ہے کہ استاد کی شخصیت میں ایسی جاذبیت ہو کہ طالب علم اُس کا اسیر ہوجائے اور ہر حکم کو دل و جان سے قبول کرنے لگے۔خیر، یہ ذاتی رائے ہے مگر سماج اور معاشرہ میں جو کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ کسی بھی زاویئے سے نافع نہیں ہے۔ استاد اپنی شخصیت میں وہ خوبیاں پیدا کرنے پر توجہ نہیں دینا چاہتا جن سے وہ سزا دیئے بغیر طالب علم کے ذہن و دل میں سما جائے، والدین جذباتیت میں ڈوبے ہوئے ہیں ، معاشرہ بے اعتنائی سے اُبھرنا نہیں چاہتا اور طالب علم پڑھائی لکھائی میں طاق ہو تب بھی شخصیت کے دیگر خواص سے بے بہرہ ہے۔ یہاں چند ثانیوں کا توقف کرلیجئے اور صرف ایک جملے (آبجیکٹیو ٹائپ کوئسچن) میں جواب دیجئے کہ ’’نقصان کس کاہوا؟‘‘ آپ خاموش رہ جائیں تب بھی جواب یہی ہوگا کہ نقصان طالب علم کا ہوا۔
دوسرا منظرنامہ: ایک طالب علم ابتدائی جماعتوں اور پھر ثانوی جماعتوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کے بعد بورڈ امتحانات میں بھی خود کو ثابت کرتا ہے۔ اب موقع ہوتا ہے مقابلہ جاتی امتحان میں اچھا مقام پانے اور اچھا رینک لانے کا۔ اس کیلئے بھی وہ سخت محنت کرتا ہے۔ دن رات ایک کردیتا ہے۔ امتحان میں ایک یا دو دِن باقی رہتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ پرچہ لیک ہوگیا اور اس کے نتیجے میں دوبارہ امتحان ہوگا۔ اس سے طالب علم کو شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت پہنچتی ہے وہ بے بسی کے مارے نڈھال ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی بے بسی والدین پر بھی طاری رہتی ہے۔ پرچہ لیک کرنے والے گرفتار کئے جاتے ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا کہ صحیح گرفتاریاں ہوئیں یا چھوٹے مجرموں کو گرفت میں لے کر بڑے مجرموں کو بچایا گیا۔طالب علم شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت سے نکل کر دوبارہ پڑھائی کرتا ہے تاکہ دوبارہ امتحان دے۔ والدین اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر در گزر کرنا چاہتے ہیں ۔ جو گرفتار کئے گئے وہ کب تک حوالات میں رہے اور کب رِہا کردیئے گئے کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ امتحانات کے نظام میں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے یہ سمجھا دیا جاتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک کرلیا گیا ہے۔ سوچئے نقصان کس کا ہوا؟ صرف ایک جملے (آبجیکٹیو ٹائپ کوئسچن) میں جواب دینا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ نقصان صرف اور صرف طالب علم کا ہوا
کیونکہ امتحان ملتوی نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ اس کا رینک کچھ اور ہوتا۔
تیسرا منظرنامہ: طالب علم نے سخت محنت کی۔ اس کے والدین نے اُس کیلئے ہر طرح کی قربانی دی۔ اُس نے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اُس کا شہرہ ہوا۔ سماج نے اُس کی پزیرائی کی۔ ضلع کلکٹر نے اُسے اپنے دفتر بلایا اور حوصلہ افزائی کی۔ اُس نے چند بڑی کمپنیوں میں انٹرویو دیئے۔ ایک کمپنی میں اُس کا انتخاب ہوا۔ گھر خاندان میں خوشیوں کے شادیانے بجے کہ کمپنی بہت اچھی ہے اور پیکیج بھی بہت اچھا ملا ہے۔ والدین نے اُس کی شادی کیلئے مناسب رشتہ تلاش کرنے کی تگ و دَو شروع کردی۔ ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ کمپنی نے آٹومیشن کا فیصلہ کرلیا۔ مصنوعی ذہانت ہے تو فطری ذہانت کی کیا ضرورت۔ اس طرح عملے کی تخفیف شروع ہوگئی۔ اس طالب علم کو بھی خیرباد کہہ دیا گیا۔اس کا خواب پورا ہونے کے قریب آیا اور بکھر گیا۔ کمپنی اپنی جگہ پر ہے اور پہلے سے زیادہ منافع کمانے لگی ہے مگر صرف ایک جملے (آبجیکٹیو ٹائپ کوئسچن) میں جواب دینا ہو تو کہا جائیگاکہ نقصان صرف طالب علم کا ہوا ۔
یہاں تین منظرنامے پیش کئے گئے اور تینوں سے یہی نتیجہ نکالا گیا کہ نقصان طالب علم کا ہوا یعنی اُس نوجوان کا ہوا جس نے اپنی جانب سے ذرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کی، اس سسٹم میں رہتے ہوئے وہ جتنا اچھا کرسکتا تھا اُتنا اچھا کیا مگر اُسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کل کے اور آج کے نوجوان کا موازنہ کیجئے تو محسوس ہوگا کہ کل کے نوجوان کے سامنے نہ تو اتنی مشکلات تھیں نہ ہی اِتنی اُلجھنیں ۔ وہ ’’چلا جاتا تھا ہنستا کھیلتا موج حوادث سے‘‘ مگر آج موجِ حوادث نے اُس کے راستے ہی مسدود کردیئے ہیں ۔ مَیں اُس سے کہنا چاہتا ہوں کہ ’’رکنا ترا کام نہیں ، چلنا تری شان‘‘ مگر نہیں کہہ پاتا۔جسے ملک کا بہترین اثاثہ قرار دیا جاتا تھا آج اُس کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے۔ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ اُس سے کسی جنم کا بدلہ لیا جارہا ہے مگر کس جنم کا؟ دروناچاریہ نے اکلویہ کا انگوٹھا مانگا تھا۔ آج اکلویہ جان دینے پر مجبور ہے یا شدید تر مایوسی کے اندھیرے میں ہاتھ پیر مار رہا ہے کہ کسی طرح باہر نکلے، اُسے روشنی کا سراغ ملے مگر سسٹم اُس کے سر پر دست شفقت رکھنے کو تیار نہیں ہے۔ اب اکلویہ ہی نہیں ، جو اکلویہ نہیں ہے اُس کو بھی سخت آزمائش سے گزرنا پڑرہا ہے۔ سسٹم ملک کے مستقبل پر خط تنسیخ کھینچنے پر تلا ہوا ہے، یہ افسوسناک ہے۔