Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا ترجمہ: بلبل

Updated: May 30, 2026, 4:41 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ڈنمارک کے معروف مصنف ہینس کرسچین اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی’’دی نائٹ اینگل ‘‘ The Nightingale کا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

وہ چین کا شہنشاہ تھا۔ اس کا محل سفید چینی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ دیواریں اتنی نازک اور شفاف تھیں کہ دیکھنے والا ڈرتا تھا کہیں چھونے سے ٹوٹ نہ جائیں۔ راہداریوں میں سنہری فانوس لٹکتے، باغوں میں نایاب پھول کھلتے اور ہر دروازے پر ریشمی پردے ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ ہلتے رہتے تھے۔ اتنی دولت کے باوجود شہنشاہ کی زندگی میں ایک خلا تھاکیونکہ انسان اپنے اردگرد جتنی زیادہ خوبصورتی جمع کرتا ہے، کبھی کبھی اتنا ہی زیادہ اصل خوبصورتی سے دور ہو جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: مخملی خرگوش

محل کے پیچھے ایک وسیع باغ تھا جس کے بعد گھنا جنگل شروع ہو تا تھا۔ رات میں جب چاند درختوں پر اترتا اور ہوا بانس کی شاخوں کو ہلاتی، تب اسی جنگل میں ایک ننھی سی بلبل گاتی تھی۔ اس کی آواز ایسی تھی کہ سننے والا چند لمحوں کیلئے اپنی تمام فکریں بھول جاتا۔ ماہی گیر رات کے وقت اپنی کشتیوں میں بیٹھے اس کی آواز خاموشی سے سنتے۔ مسافر اپنا سفر روک دیتے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگر کسی نے زندگی میں صرف ایک بار اس بلبل کا گیت سن لیا، تو وہ اسے کبھی بھول نہیں سکتا۔ 
عجیب بات یہ تھی کہ خود شہنشاہ نے کبھی اسے نہیں سنا تھا کیونکہ محل کی دیواریں انسان کو دنیا سے محفوظ نہیں بلکہ دور کر دیتی ہیں۔ 
ایک دن ایک دور دراز ملک سے آئی ہوئی کتاب شہنشاہ کے دربار میں پیش کی گئی۔ کتاب میں اس کی سلطنت کی تعریف لکھی گئی تھی۔ محل کی شان، باغوں کی خوبصورتی، سمندر کی وسعت؛ سب کچھ تفصیل سے بیان کیا گیا تھا لیکن ایک جملہ پڑھ کر شہنشاہ رُک گیا:
’’دنیا کی سب سے خوبصورت چیز چین کے شہنشاہ کے باغ کے پیچھے رہنے والی بلبل کی آواز ہے۔ ‘‘ شہنشاہ کو حیرانی ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی

’’یہ بلبل کون ہے؟‘‘ شہنشاہ کے سوال پر دربار خاموش ہوگیا۔ کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد ایک وزیر نے کہا ’’جہاں پناہ! یقیناً یہ کوئی غیر معمولی پرندہ ہوگا جس پر ہم نے کبھی توجہ نہیں دی۔ ‘‘ شہنشاہ کو یہ بات سخت ناگوار گزری کہ پوری دنیا ایک ایسی چیز کے بارے میں جانتی ہے جس سے وہ برسوں سے بے خبر ہے۔ ’’آج رات تک وہ بلبل میرے سامنے ہونی چاہئے، ‘‘ اس نے سخت لہجے میں کہا، ’’ورنہ پورا دربار سزا پائے گا۔ ‘‘
محل میں ہلچل مچ گئی۔ سبھی بلبل کی تلاش میں نکل پڑے۔ وہ باغوں میں گھومتے رہے، درختوں میں آوازیں سنتے رہے مگر ہر بار کسی اور چیز کو بلبل سمجھ بیٹھتے۔ کبھی مینڈک کی آواز سن کر رک جاتے، کبھی جھینگروں کی آواز کو موسیقی سمجھ لیتے۔ آخرکار انہیں محل کے باورچی خانے میں کام کرنے والی ایک غریب لڑکی نے بتایا کہ وہ بلبل کا ٹھکانہ جانتی ہے۔ 
وہ لڑکی انہیں جنگل لے گئی۔ رات اتر رہی تھی۔ درختوں کے درمیان چاندنی پھیل رہی تھی۔ ہوا ٹھنڈی تھی۔ پھر اچانک، ایک آواز ابھری۔ بہت نرم۔ بہت صاف، جیسے کسی نے خاموشی کو موسیقی میں بدل دیا ہو۔ سبھی کے قدم جم گئے۔ پہلی بار لوگوں نے سمجھا کہ بعض خوبصورت چیزیں محلوں میں نہیں بلکہ آزاد فضا میں پیدا ہوتی ہیں۔ 
بلبل گا رہی تھی۔ اس آواز میں ایک سچائی تھی۔ ’’یہی ہے؟‘‘ ایک وزیر نے سرگوشی کی۔ اسے شاید امید تھی کہ دنیا کی سب سے مشہور بلبل کوئی شاندار رنگوں والا بڑا پرندہ ہوگی مگر شاخ پر بیٹھی وہ ننھی سی خاکی رنگ کی بلبل بہت سادہ دکھائی دے رہی تھی۔ لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا۔ بلبل گاتی رہی۔ عجیب بات یہ تھی کہ ہر شخص کو اس میں کچھ الگ سنائی دے رہا تھا۔ کسی کو اپنے بچپن کی یاد۔ کسی کو دور کا سفر۔ کسی کو کسی بچھڑے ہوئے شخص کی کمی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انوکھی شہزادی

وزیر نے آگے بڑھ کر کہا ’’پیاری بلبل، شہنشاہِ چین نے تمہیں اپنے دربار میں بلایا ہے۔ ‘‘ بلبل نے گانا روک دیا۔ ’’شہنشاہ؟‘‘ اس کی آواز نرم تھی۔ ’’جی‘‘، وزیر نے جھک کر کہا، ’’وہ خود تمہارا گیت سننا چاہتے ہیں۔ ‘‘
بلبل نے نرمی سے کہا ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘
محل میں اس رات غیر معمولی تیاری ہوئی۔ شاہی دربار کو سنہری قندیلوں سے سجایا گیا۔ چاندی کے برتن چمکائے گئے، خوشبودار پھول لائے گئے، اور پورے ہال میں ریشمی پردے لہرائے گئے۔ سبھی بے صبری سے اس بلبل کا انتظار کر رہے تھے جس کی تعریف دنیا بھر میں کی جا رہی تھی۔ مگر جب بلبل کو اندر لایا گیا تو بہت سے درباری مایوس ہو گئے۔ ’’یہ؟‘‘ ایک شہزادی نے آہستہ سے کہا، ’’یہ تو بالکل سادہ سی ہے۔ ‘‘ لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا معمولی نظر آنے والا پرندہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز رکھ سکتا ہے۔ شہنشاہ کی نظریں بلبل پر تھیں۔ بلبل کو سنہری شاخ پر بٹھایا گیا، بالکل تخت کے قریب۔ 
اور پھر بلبل نے گانا شروع کیا۔ شروع میں آواز بہت ہلکی تھی، اتنی نرم کہ لوگ سانس روک کر سننے لگے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی دھن کمرے میں پھیلنے لگی، جیسے بہتا ہوا پانی پتھروں کے درمیان راستہ بناتا ہے۔ وہ گیت خوشی کا بھی تھا اور اداسی کا بھی۔ اس میں جنگل کی تنہائی بھی تھی اور سمندر کی وسعت بھی۔ اور سب سے بڑھ کر، اس میں سچائی تھی۔ 
شہنشاہ کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔ پورے دربار نے حیرت سے دیکھا کہ چین کا عظیم شہنشاہ رو رہا ہے۔ بلبل نے گانا ختم کیا تو شہنشاہ نے کہا ’’یہ دنیا کی سب سے خوبصورت چیز ہے۔ ‘‘ اس کی آواز میں وہ نرمی تھی جو شاید دربار نے پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ شہنشاہ نے حکم دیا کہ بلبل اب ہمیشہ محل میں رہے گی۔ اس کیلئے سونے کا پنجرہ تیار کیا جائے، اسے بہترین پھل پیش کئے جائیں اور شاہی موسیقار روز اس کا گیت سنیں ۔ اس رات کے بعد سے ہر شخص بلبل کی خوبصورتی کے قصے سنانے لگا۔ 
دوسری جانب، بلبل خاموش تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دور اندھیرے میں جنگل کھڑا تھا۔ آزاد۔ خاموش۔ زندہ۔ پہلی بار اس کے ننھےسے دل میں اداسی اتری کیونکہ اب وہ شہنشاہ چین کی قیدی بن چکی تھی۔ 
محل کی زندگی بدلنے لگی۔ اب ہر شام دربار میں بلبل کا گیت سنا جاتا۔ ننھی بلبل کا گیت سنتے ہی ہر شخص اپنی حیثیت، اپنی دولت، اور اپنا غرور بھول جاتا۔ لوگ دور دور سے صرف اس کا گیت سننے آتے تھے۔ اور وہ جب بھی گاتی، شہنشاہ کی آنکھوں میں نمی آجاتی۔ بلبل کو اس بات سے خوشی ملتی تھی کہ اس کی آواز کسی کے دل تک پہنچتی ہے، مگر آہستہ آہستہ اسے محسوس ہونے لگا کہ محل کی محبت اور جنگل کی آزادی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ 
اس پرہر لمحے نظر رکھی جاتی۔ اس کے پنجرے کے ساتھ بارہ خادم رہتے تاکہ اگر وہ اِدھر اُدھر جائے تو فوراً ریشمی ڈوروں کے ساتھ اسے واپس لایا جا سکے۔ ایک دن جاپان کے شہنشاہ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ آیا تھا۔ 
ایک بڑا سنہری صندوق جس پر قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ جب صندوق کھولا گیا تو اندر مخمل کے گدّوں پر ایک نہایت خوبصورت مصنوعی بلبل رکھی ہوئی تھی۔ وہ خالص سونے اور چاندی کی تھی۔ اس کے پروں پر ہیرے، یاقوت، اور زمرد جڑے تھے۔ جب روشنی اس پر پڑتی تو وہ قوسِ قزح کی طرح چمکتی۔ دربار حیرت سے یہ بلبل دیکھ رہا تھا۔ 
’’کتنی شاندار ہے!‘‘ ایک وزیر کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ مصنوعی بلبل کے ساتھ ایک چھوٹی سی چابی بھی تھی۔ جب اسے گھمایا گیا تو وہ حرکت کرنے لگی۔ اس کی دم اوپر نیچے ہوئی، پروں پر لگے نگینے چمکے، اور پھر اس نے گانا شروع کیا۔ اس کی آواز صاف تھی۔ بہت درست۔ اور ہر بار ایک جیسی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر

دربار فوراً توصیفی جملوں سے گونج اٹھا۔ 
’’کیا کمال ہے!‘‘ ’’کتنی مکمل آواز!‘‘
’’ دیکھئے، اس کے پر چمک رہے ہیں !‘‘
شہنشاہ بھی حیران تھاکیونکہ مصنوعی بلبل میں ایک ایسی چمک تھی جو درباری دنیا کو فوراً متاثر کر دیتی ہے۔ وہ قیمتی تھی، نایاب تھی، اور سب سے بڑھ کرہمیشہ ایک ہی دھن گاتی، ایک ہی انداز میں، بغیر کسی تبدیلی کے جبکہ اصلی بلبل کا ہر گیت مختلف ہوتا تھا۔ کبھی نرم۔ کبھی اداس۔ کبھی اتنا آزاد کہ لگتا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی اگلا سُر کہاں جائے گا۔ 
درباریوں کو مصنوعی بلبل زیادہ آسان لگی کیونکہ انسان اکثر اُس خوبصورتی کو ترجیح دیتا ہے جسے قابو کیا جا سکے۔ کئی دنوں تک دونوں بلبلیں دربار میں موجود رہیں۔ ایک طرف اصلی بلبل، خاموش، زندہ، اپنی سیاہ آنکھوں کے ساتھ۔ اور دوسری طرف مصنوعی بلبل، جگمگاتی ہوئی، کامل، اور ہمیشہ ایک جیسی۔ لوگ اب مصنوعی بلبل کی تعریف کرنے لگے۔ 
ایک رات، جب کھڑکی کھلی تھی بلبل کو لگا جیسے جنگل اسے پکار رہا ہو۔ سبھی مصنوعی بلبل کے گرد جمع تھے، اس کے نگینوں کی چمک دیکھ رہے تھے، اور اس کی بار بار دہرائی جانے والی دھن کی تعریف کر رہے تھے۔ اصلی بلبل چند لمحوں کیلئے کھڑکی پر بیٹھی رہی۔ پھر خاموشی سے رات کے اندھیرے میں اُڑ گئی۔ 
بہت دیر بعد ایک خادم نے چونک کر کہا’’اصلی بلبل کہاں گئی؟‘‘پورے دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ جب اصلی بلبل نہ ملی تو سبھی نے ایک دوسرے کو تسلی دی کہ ’’کوئی بات نہیں۔ یہ نئی بلبل تو پرانی والی سے بہتر ہے۔ ‘‘ 
پھر آہستہ آہستہ سبھی نے اصلی بلبل کو بھلا دیا۔ سوائے ایک شخص کے؛شہنشاہ۔ 
وہ دربار کی آوازوں میں نہیں سمجھ سکا کہ اس نے اصل میں کیا کھو دیا ہے۔ اصلی بلبل کے جانے کے بعد محل کچھ عرصے تک پہلے سے زیادہ روشن محسوس ہوتا رہا۔ مصنوعی بلبل سب کیلئے نیا کھلونا تھی۔ کچھ عرصے بعد سبھی کو لگا کہ دربار میں موسیقی تو ہے لیکن احساس نہیں ہے۔ جب اصلی بلبل گاتی تھی تو پورا ہال خاموش ہو جاتا تھا۔ لوگ سانس تک روک لیتے تھے۔ بعض اوقات کسی کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے، کسی کو اپنے بچپن کی یاد آ جاتی، اور کسی کو دور سمندر کی تنہائی محسوس ہونے لگتی۔ لیکن مصنوعی بلبل کے گیت کی کم چمک کی زیادہ تعریف ہوتی تھی۔ 
سال گزرنے لگے۔ نئی بلبل سلطنت کی علامت بن چکی تھی۔ اس کے گیت کی نقلیں پورے ملک میں بجائی جاتیں۔ 
ایک رات، جب پورا دربار جمع تھا اور شہنشاہ اپنے تخت پر بیٹھا موسیقی سن رہا تھا کہ مصنوعی بلبل کی آواز لرزنے لگی۔ پھر ایک عجیب سی کھڑکھڑاہٹ ہوئی اور اگلے ہی لمحے اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی۔ موسیقی ختم ہو چکی تھی۔ ماہر کاریگر بلائے گئے۔ بہت دیر معائنہ کے بعد سب سے بوڑھے کاریگر نے سر جھکا کر کہا ’’جہاں پناہ! اس کے پرزے پرانے ہوچکے ہیں۔ اب اسے بہت احتیاط سے استعمال کرنا ہوگا۔ ‘‘
شہنشاہ سب سے زیادہ اداس تھا۔ اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ مصنوعی بلبل چاہے کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، وہ زندہ نہیں تھی۔ اسے نہ ہوا کی ضرورت تھی۔ نہ آزادی کی۔ نہ خوشی کی۔ اور نہ ہی وہ کبھی اپنی مرضی سے کوئی نیا گیت گا سکتی تھی۔ وہ صرف وہی دہرا سکتی تھی جو اس کے اندر بنایا گیا تھا۔ اس رات شہنشاہ جاگتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ اصل خوبصورتی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی اس کی جگہ کوئی نقل لے سکتی ہے مگر یہ احساس انسان کو تب ہوتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون

شہنشاہ کی اداسی بڑھتی جارہی تھی۔ مصنوعی بلبل اب صرف خاص مواقع پر گاتی تھی۔ باقی وقت چمکتی ہوئی بے جان پڑی رہتی۔ شہنشاہ کو اصلی بلبل کی یاد ستانے لگی۔ 
کچھ دنوں بعد شہنشاہ بیمار پڑ گیا۔ شاہی طبیب آئے، دوائیں دی گئیں، آرام کا مشورہ دیا گیا، مگر بیماری بڑھنے لگی۔ شہنشاہ کمزور ہوتا گیا۔ ایک رات شہنشاہ تنہا اپنے بستر پر لیٹا تھا کہ اسے اصلی بلبل کی یاد آنے لگی۔ اس نے سر موڑ کر اپنی میز کی طرف دیکھا۔ مصنوعی بلبل وہاں رکھی تھی۔ شہنشاہ نے کمزور آواز میں کہا ’’گاؤ!‘‘ لیکن مشین خاموش رہی۔ 
شہنشاہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ تبھی اسے احساس ہوا کہ شاید وہ مرنے والا ہے اور اس کے کمرے میں کوئی موجود ہے۔ اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں، اور پھر اس نے اُسے دیکھا۔ موت کو۔ وہ بستر پر اس کے قریب بیٹھی تھی۔ سفید، خاموش، اور خوفناک حد تک پُرسکون۔ اس کے چہرے پر غصہ تھا نہ رحم۔ کمرے کی خاموشی میں شہنشاہ کو اپنی پوری زندگی نظر آنے لگی۔ وہ تمام لوگ جنہیں اس نے نظرانداز کیا تھا۔ وہ تمام لمحے جب اس نے سچائی کی جگہ نمائش کو چُنا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر، وہ ننھی سی اصلی بلبل، جسے اس نے کھو دیا تھا۔ 
شہنشاہ نے نظریں دوسری طرف موڑنے کی کوشش کی مگر موت پورے کمرے میں تھی۔ پھر اسے عجیب آوازیں آنے لگیں۔ سرگوشیاں۔ وہ اس کے اپنے اعمال تھے، جو جیسے سایوں کی شکل میں بستر کے اردگرد جمع ہو گئے تھے۔ کچھ چہرے الزام لگا رہے تھے، کچھ ہنس رہے تھے، کچھ خاموشی سے اسے گھور رہے تھے۔ 
’’تم نے اصل خوبصورتی کو کھو دیا!‘‘
’’تم نے سچ کی جگہ جھوٹ کو چُنا!‘‘
شہنشاہ نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔ 
’’خاموش!‘‘ وہ کمزور آواز میں بولا۔  
مگر آوازیں ختم نہ ہوئیں۔ 
اس نے گھبرا کر مصنوعی بلبل کی طرف دیکھا۔ 
’’گاؤ!‘‘ اس نے التجا کی، ’’براہِ کرم! گاؤ!‘‘ مگر مصنوعی بلبل خاموش رہی۔ شہنشاہ کی سانس اکھڑنے لگی۔ کمرہ تاریک محسوس ہونے لگا۔ اور موت اس پر اپنے پَر پھیلانے لگی۔ 
تبھی، اسی خاموشی کے درمیان، بہت دور سے ایک آواز ابھری۔ نرم۔ صاف۔ زندہ۔ وہ آواز کھڑکی کے باہر سے آ رہی تھی۔ وہی آواز جسے شہنشاہ بھولنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ اصلی بلبل واپس آ گئی تھی۔ وہ گا رہی تھی۔ اصلی بلبل جسے کبھی اس محل نے اپنی شان سے کم تر سمجھا تھا۔ اس کی آواز میں وہی نرمی، وہی شفافیت اور وہی گرمی تھی۔ شہنشاہ کو لگا جیسے دنیا کی تمام مصنوعی چیزوں کے بیچ کسی نے اچانک زندگی رکھ دی ہو۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ 
بلبل نے گانا جاری رکھا۔ وہ کوئی شاہی دھن نہیں تھی، زندگی کا گیت تھا۔ اس میں صبح کی روشنی، بارش کی نمی، جنگل کی آزاد ہوا، اور انسان کے دل کی وہ خاموش امید تھی جو سب کچھ کھو دینے کے بعد بھی مکمل طور پر نہیں مرتی۔ اور عجیب بات یہ ہوئی کہ جیسے جیسے بلبل گاتی گئی، کمرے کی فضا بدلنے لگی۔ 
وہ شدید سردی جو موت کے ساتھ آئی تھی، آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ سرگوشیاں مدھم پڑ گئیں۔ سائے پیچھے ہٹنے لگے۔ موت، جو شہنشاہ کے قریب بیٹھی تھی، اب ساکت تھی۔ وہ بلبل کو سن رہی تھی۔ بلبل نے ایک اور گیت چھیڑا۔ اس بار اس کی آواز میں ایسی اداسی تھی کہ لگتا تھا جیسے وہ تمام انسانوں کے دکھ کو جانتی ہو۔ وہ ان لوگوں کیلئے گا رہی تھی جنہوں نے تنہائی دیکھی، غلطیاں کیں، محبت کھوئی، اور پھر بھی جینے کی کوشش کرتے رہے۔ بلبل نے جنگل کے بارے میں گایا۔ صبح کے دھندلکے اور سمندر کی ہوا کے بارے میں گایا، اور اُن قبروں کے بارے میں جہاں لوگ خاموش سو رہے ہوتے ہیں مگر بہار پھر بھی ان کے اوپر پھول کھلا دیتی ہے۔ یہ گیت سن کر موت نے شہنشاہ کے سر سے اپنا سرد ہاتھ ہٹا لیا، پھر بلبل سے کہا ’’اس گیت کے بدلے میں تمہیں کچھ دینا چاہتی ہوں۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آئرش جادو

بلبل گاتی رہی۔ ’’میں تمہیں شہنشاہ کا تاج نہیں دے سکتی، ‘‘ موت نے کہا، ’’لیکن اس کمرے سے جا سکتی ہوں۔ ‘‘ اور پھر موت غائب ہوگئی۔ 
کمرے میں خاموشی چھاگئی۔ شہنشاہ نے گہری سانس لی۔ بہت دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ وہ زندہ ہے۔ بلبل کھڑکی پر جابیٹھی۔ چاندنی اس کے نرم پروں پر پڑ رہی تھی۔ شہنشاہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ 
’’میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا۔ ‘‘ اس نے آہستہ سے کہا، ’’میں نے تمہیں کھونے کے بعد جانا کہ تم کتنی انمول تھیں۔ ‘‘ 
بلبل نے جواب دیا ’’آپ نے میرے گیت پر آنسو بہائے تھے۔ یہی میرے یہاں لوٹ آنے کیلئے کافی تھا۔ ‘‘ شہنشاہ خاموش ہو گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ سچی محبت اور سچی خوبصورتی بدلے میں کچھ نہیں مانگتیں۔ 
’’کیا تم محل میں رہو گی؟‘‘ شہنشاہ کے لہجے میں امید تھی۔ بلبل نے کھڑکی کے باہر اندھیرے جنگل کی طرف دیکھا۔ پھر مسکرائی۔ ’’نہیں۔ ‘‘
شہنشاہ اداس ہوگیا لیکن وہ سمجھ چکا تھا کہ اصل خوبصورتی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ بلبل نے کہا ’’مجھے آزادی عزیز ہے۔ لیکن آپ کو جب بھی میری ضرورت ہوگی، میں آؤں گی۔ میں آپ کیلئے گاؤں گی، آپ کو سچ سناؤں گی، اور آپ کو اُن لوگوں کی کہانیاں بتاؤں گی جنہیں دربار کبھی نہیں دیکھتا۔ ‘‘ پھر اس نے اپنا ننھا سا سر جھکایا۔ 
’’مگر ایک شرط ہے۔ ‘‘’’کیا؟‘‘ شہنشاہ نے فوراً پوچھا۔ ’’کسی کو مت بتائیے گا کہ آپ کے پاس ایک بلبل ہے جو آپ کو سچ بتاتی ہے کیونکہ بعض سچائیاں صرف خاموشی میں زندہ رہتی ہیں۔ ‘‘
شہنشاہ نےسر ہلا دیا۔ باہر مشرقی آسمان پر صبح کی پہلی ہلکی روشنی نمودار ہورہی تھی۔ بلبل نے اپنے نرم پر پھیلائے، اور باغوں، درختوں، اور سمندر کے اوپر سے گزرتی ہوئی آزاد آسمان میں گم ہو گئی۔ 
شہنشاہ دیر تک کھڑکی کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کے کمرے میں اب بھی وہی دیواریں تھیں، وہی تخت، وہی سونا، وہی شان۔ مگر اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔ کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹا سا گیت انسان کو وہ سچ سکھا دیتا ہے جو پوری زندگی کی طاقت اور دولت نہیں سکھا سکتیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ دنیا کی سب سے خوبصورت آواز ہمیشہ وہی ہوتی ہے، جو آزاد ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK