Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ بندی یعنی آگے لڑیں گے دم لے کر

Updated: April 17, 2026, 1:34 PM IST | shamim Tariq | mumbai

ٹرمپ نے نیتن یاہو، کو جنگی مجرم قرار دینے کی شرط نہیں مانی ہے اور ایران کے نقصانات کی بھرپائی کرنے سے بھی مکر رہا ہے اس لئے محسوس ہو رہا ہے کہ دو ہفتوں کی مہلت جنگ روکنے کے لئے نہیں ہے۔

INN
آئی این این
جنگ ہورہی ہے تو جنگ کی بات تو ہوگی۔ یہ سوچنا کہ جنگ بندی کے بعد جنگ کیسی تو یہ خوش فہمی ہے کیونکہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل ایران، لبنان اور سعودی عرب کے متعدد ٹھکانوں  کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ جنگ کی باتوں  میں  چند حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ جنگ کی بات بھی زیادہ تر وہ اشخاص کر رہے ہیں  جو جنگ کی زبان بھی شاید ہی سمجھتے ہوں  مثلاً:
Off Ramp- آف رَیمپ کا مطلب ہے ایسا راستہ جس کے ذریعہ جنگ کو ختم یا محدود کیا جاسکے۔ یہ جنگ بندی، سفارتکاری یا تیسرے ملک کی ثالثی کے سبب ہوسکتی ہے۔
Loitering Munition- لائٹرنگ میونشن سے مراد وہ ہتھیار ہیں  جو کافی وقت تک ہوا میں  منڈراتے رہتے ہیں  اور انہیں  جیسے ہی صحیح موقع ملتا ہے نشانہ لگا دیتے ہیں ۔ یہ صحیح موقع پر خود بھی نشانہ لگاتے ہیں  یا صحیح نشانہ ان میں  فیڈ ہوتا ہے اور دونوں  صورتوں  میں  یہ نشانہ لگانے کے بعد خود بھی ختم ہوجاتے ہیں ۔
War Fatigue یعنی جنگ کی تھکان۔ طویل مدت تک چلنے والی جنگ کی صورت میں  عوام، فوج یا حکومت کا تھک جانا مراد ہے۔ اس سے جنگ کو ملنے والی تائید میں  کمی آجاتی ہے۔
Energy Weaponisation ہر اس چیز کو اسلحہ کے طور پر استعمال کرنا ہے جس سے فریق مخالف کو نقصان پہنچے۔ تیل، گیس، بجلی کا جنگ کے لئے استعمال اسی زمرے میں  رکھا جائے گا۔
Precision Strike کا مطلب طے شدہ ٹھکانوں  پر ڈرون، میزائیل یا جدید تر اسلحہ کا استعمال کرنا ہے۔
Proxy War کا مطلب آمنے سامنے لڑنے کے بجائے کسی دوسرے ملک کو سامنے رکھ کر جنگ کرنا ہے مثلاً بعض لوگوں  یا تجزیہ کاروں  نے تاثر دیا ہے کہ موجودہ امریکہ اسرائیل جنگ بظاہر ایران سے ہے مگر پس پشت چین اور روس ہیں ۔
Escalation کا مطلب جنگ کا بڑھنا یا بڑھانا، وسیع تر حلقوں  میں  پھیلنا اور مہلک ترین اسلحہ استعمال کرنا ہے۔ اس کی ضد ہے ’ڈی اسکالیشن‘ جس کا مطلب جنگ کو پھیلنے یا شدید تر ہونے سے روکنا ہے۔
Red Line کا مطلب ہے اس سرحد، شرط یا مقصد سے پرے ہٹنا جس کے لئے جنگ لڑی جا رہی ہے۔
Deterrence کا مطلب ہے ایسی طاقت یا تیاری کا مظاہرہ کرنا جس سے ڈر کر فریق مخالف حملہ کرنے سے باز آئے۔
Back-Channel Talk کا مطلب ہے میدان جنگ سے ہٹ کر سفارتکاری یا ثالث کے ذریعہ امن کی بات کرنا۔
امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کو سمجھنے میں  جھوٹ اور افواہوں  کے سبب صحیح نتیجہ اخذ کرنا دشوار ہورہا ہے مثلاً برطانیہ کے اخبار ’ڈی ٹائمز‘ نے خبر شائع کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای قم میں  زیر علاج ہیں ، ان پر بیہوشی طاری ہے اور وہ کچھ کہنے سمجھنے کے لائق نہیں  ہیں  مگر یوٹیوب پر خبر پھیلائی جا رہی تھی کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تمام حملے فوراً روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ اسی طرح جب یہ خبر عام ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو پتھروں  کے دور میں  پہنچا دینے یا کھنڈر بنا دینے کی دھمکی دی ہے تب دوحہ میں  موجود الجزیرہ کے نمائندہ اسامہ بن جاوید نے پاکستان کے حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ امریکہ تو جنگ بندی پر آمادہ ہے مگر اسرائیل نہیں  چاہتا کہ یہ جنگ ختم ہو اس لئے وہ مسلسل ایسی حرکتیں  کر رہا ہے جس سے کشیدگی میں  اضافہ ہو۔ ایسی خبریں  بھی آرہی ہیں  جن سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی کشیدگی میں  اضافہ کرنے کی شعوری کوششیں  کی جارہی ہیں  مثلاً ایرانی ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ تہران میں  جب امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو ایک عمارت کے ساتھ اس سے متصل عمارت کو بھی نقصان پہنچا جو یہودی عبادتگاہ ہے۔ سعودی عرب پر ایک حملے کے بارے میں  بھی سمجھا گیا تھا کہ یہ ایران نے کیا ہوگا مگر ایران نے اس سے انکار کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملہ کرنے کی وجہ سے جو جنگ شروع ہوئی ہے وہ تو کسی نہ کسی شکل میں  چل ہی رہی ہے شرپسند عناصر بھی شدت پیدا کرنے اور کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان عناصر کو یہ بھی احساس نہیں  ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جو بیانات دے رہے تھے وہ ان کے خبط الحواس ہونے کی دلیل ہے۔
 
 
جگ ہنسائی اور دُنیا بھر کی تباہی کے بعد امریکی صدر نے چند ایک کے سوا ایرانی شرائط مان لیں  اور ایران و امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا پاکستان کے شہباز شریف اور چین نے۔ اب امریکہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ ہے۔ اس کو یورانیم افزودگی کا حق بھی حاصل ہے اور ضمانت دی ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں  اٹھائی جائیں  گی۔ کالم نگار اس کو ایران کی جیت قرار دیتا ہے مگر ہار ان کی قرار دیتا ہے جو نہیں  چاہتے تھے کہ کشیدگی اور جنگ ختم ہو۔ کالم نگار جانتا ہے کہ جنگ بندی صرف دو ہفتہ کے لئے ہے اس کے باوجود وہ جیت کا لفظ استعمال کرنا چاہتا ہے کہ ایران نے جو حاصل کیا ہے یا دو ہفتے کے بعد مزید حاصل کرے گا وہ اس پاکستان کے توسط سے حاصل کیا ہے یا کرے گا جو سعودی عرب کے تحفظ کا فوجی معاہدہ کر چکا ہے۔ امریکہ تو اسی وقت پست نظر آرہا تھا جب ٹرمپ نے امریکی عوام سے خطاب کرکے الم غلم باتیں  کی تھیں  یا پوتن سے اپیل کی تھی کہ وہ یوکرین جنگ سے ہٹ جائیں ۔ اب قارئین سمجھ سکتے ہیں  کہ کالم نگار نے Back Channel Talk کا مطلب کیوں  سمجھایا تھا۔ یہ سب یونہی نہیں  ہوا ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو، کو جنگی مجرم قرار دینے کی شرط نہیں  مانی ہے اور ایران کے نقصانات کی بھرپائی کرنے سے بھی مکر رہا ہے اس لئے محسوس ہو رہا ہے کہ دو ہفتوں  کی مہلت جنگ روکنے کے لئے نہیں  تازہ دم ہوکر آئندہ جنگ کرنے کے لئے ہے۔
ایران کے عوام نے البتہ جس جذبۂ مزاحمت کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ کالم نگار تو سمجھتا ہے کہ وہی جذبۂ مزاحمت ۴۰؍ دنوں  بعد جب چار ہزار کے قریب لوگ مارے جا چکے تھے عارضی جنگ بندی کا سبب بنا ہے البتہ دلوں  کے چور کے باعث جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی شروع کر دی گئی۔ اب لاکھ اسلام آباد میں  کانفرنس ہو اور امریکہ کے ساتھ ایران بھی اس میں  شامل ہو مگر بات بنتی نظر نہیں  آتی۔ وجہ یہ ہے کہ اسرائیل پر جنگی جنون سوار ہے اور ایران کے خلاف تو سازش رچی گئی ہے۔ اسرائیلی جنون کی وجہ شاید یہ ہے کہ نیتن یاہو جانتے ہیں  کہ جنگ ختم ہوتے ہی ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK