Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی ہائی کورٹ میں انتہا پسند وزیربین گویرکی برطرفی کی درخواست پر سماعت شروع

Updated: April 16, 2026, 9:53 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی ہائی کورٹ میں انتہا پسند وزیر بن گویر کی برطرفی کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہو گیا ہے، درخواست گزار نیتن یاہو کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بین گویر کو پولیس کےمحکمہ جاتی معاملات میں مبینہ مداخلت کے الزامات پر عہدے سے ہٹا دیں۔

Scene from the hearing against Ben-Gvir in the Israeli High Court. Photo: X
اسرائیلی ہائی کورٹ میں بین گویر کے خلاف سماعت کا منظر۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی ہائی کورٹ آف جسٹس نے انتہاپسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بین گویر کو اس کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت شروع کر دی ہے۔ الزام ہے کہ اس نے اسرائیلی پولیس کے معاملات میں ناجائز مداخلت کی۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، درخواست گزار وزیر اعظم نیتن یاہو کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بین گویر کو پولیس کے محکمہ جاتیمعاملات میں بار بار اور غیر قانونی مداخلت، پولیس تقرریوں کی سیاست کاری، اور پولیس تحقیقات میں کھلم کھلا مداخلت کے الزامات پر برطرف کریں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: خودکار فوجی رجسٹریشن قانون، سوشل میڈیا پر ٹرمپ پر شدید تنقید

بعد ازاں چار میں سے دو درخواستیں عام شہریوں نے دائر کیں، تیسری سیکیورٹی اداروں کے سابق ارکان کے ایک گروپ نے، جبکہ چوتھی درخواست ’’ایما ایرا‘‘ (عبرانی میںبیدار ماں) تحریک کے ۳۵؍ارکان نے دائر کی۔ واضح رہے کہ یہ تحریک اسرائیل کی غزہ نسل کشی کے دوران فوجیوں کی ماؤں نے جنگ ختم کرنے کے مطالبے کے لیے قائم کی تھی۔عدالت کے اندر ممکنہ خلش کے خدشات کے پیش نظر، ججوں نے بدھ کو سماعت عوام کی موجودگی کے بغیر کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ کارروائی کو براہ راست نشر کیا گیا۔تاہم سماعت سے پہلے، بین گویر کے درجنوں حامی عدالت کی عمارت کے باہر جمع ہو گئے، جن کے ہاتھوں میں بینرز تھے جن پر لکھا تھا، ’’ہائی کورٹ سے کہنے کا وقت آگیا: بس کرو‘‘اور ’’عدالتی آمریت کا خاتمہ کرو۔‘‘ بین گویر عدالت کے باہر پہنچا اور اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:،’’گالی بہاراو میارا (حکومت کی قانونی مشیر) کہتی ہیں کہ میں پالیسی طے کر رہا ہوں اور پولیس تبدیل کر رہا ہوں وہ درست کہہ رہی ہیں۔‘‘اس نے مزید کہا، ’’پانچ لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان نے ہمیں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے چنا ہے۔اسرائیل کو آئینی بحران، تقسیم یا قطبی پن میں مت گھسیٹیں۔ جمہوریت نہیں گرے گی۔ قانونی آمریت گرے گی۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: یوکرین: سام دشمنی کے خلاف سخت قانون نافذ، قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر

دوسری جانب اسرائیلی وزیر انصاف یاریو لیون نے کہا کہ،’’ حکومت ہائی کورٹ کے کسی بھی ایسے فیصلے کا احترام نہیں کرے گی جو بین گویر کی برطرفی کا حکم دے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’آج صبح وزیر بین گویر کو معزول کرنے کی سماعت غیر قانونی ہے، اور ججوں کا فیصلہ، اس سے قطع نظر، کوئی حیثیت نہیں رکھے گا۔ میرے دوست وزیر بین گویر عوام کے فیصلے اور کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے اعتماد کی بنا پر اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔‘‘بعد ازاں حقوق کی تنظیموں نے متعدد ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین گویر پر پابندیاں عائد کریں، کیونکہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ شدید بدسلوکی (بھوک، تشدد اور جنسی تشدد) کے الزامات ہیں۔ بین گویر اسرائیل کے فلسطینیوں کے لیے نئے سزائے موت کے قانون کا سیاسی محرک بھی ہے،جس کے خلاف کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK