Updated: April 16, 2026, 9:07 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط کردہ نئے قانون کے تحت دسمبر ۲۰۲۶ء سے امریکی مردوں کی فوجی رجسٹریشن خودکار ہو جائے گی۔ اگرچہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ لازمی بھرتی نہیں، مگر سوشل میڈیا پر صارفین نے ٹرمپ کو ان کے ماضی کے فوجی التوا اور پالیسی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکہ میں فوجی نظام سے متعلق ایک بڑی انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد دسمبر ۲۰۲۶ء سے تمام امریکی مرد خودکار طور پر فوجی مسودے (ڈرافٹ) کے لیے رجسٹر ہو جائیں گے۔ اس تبدیلی کے تحت ۱۸؍ سے ۲۶؍ سال کی عمر کے مردوں کو اب خود سے Selective Service System میں رجسٹر ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ حکومت خود وفاقی ڈیٹا کے ذریعے یہ عمل مکمل کرے گی۔ یہ ترمیم ۲۰۲۶ء کے نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق، یہ اقدام صرف انتظامی نوعیت کا ہے اور امریکہ میں فوجی خدمات اب بھی رضاکارانہ رہیں گی، جیسا کہ ۱۹۷۳ء سے جاری ہے۔ کسی بھی فعال ڈرافٹ کے لیے قومی ہنگامی حالت اور کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹ نے چوتھی بار ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی تجویز مسترد کر دی
تاہم، اس قانون کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں متعدد صارفین نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’جو شخص خود ویتنام جنگ سے بچنے کے لیے کئی بار ڈیفرمنٹ لیتا رہا، وہ اب نوجوانوں کو خودکار طور پر فوجی نظام میں ڈال رہا ہے؟ یہ کھلا تضاد ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’اگر یہ صرف انتظامی قدم ہے تو پھر حکومت کو نوجوانوں کے ڈیٹا پر اتنا کنٹرول کیوں چاہیے؟ یہ پرائیویسی کے خلاف ہے۔‘‘
ایک اور تنقیدی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’’ٹرمپ خود جنگ میں نہیں گئے، لیکن اب نئی نسل کو ممکنہ جنگی نظام میں دھکیل رہے ہیں، یہ انصاف نہیں۔‘‘ کچھ صارفین نے اس اقدام کو مستقبل میں لازمی بھرتی کی طرف پہلا قدم قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ’’آج رجسٹریشن خودکار ہے، کل شاید سروس بھی لازمی ہو جائے، یہی اصل خوف ہے۔‘‘ دوسری جانب، حکومت اور حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام نظام کو مؤثر بنائے گا، اخراجات کم کرے گا اور رجسٹریشن کی شرح کو بہتر بنائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وزیر دفاع کے خلاف مواخذہ کی تحریک ، ہیگ سیتھ کی مشکل میں اضافہ
خیال رہے کہ ٹرمپ کے ماضی پر بھی بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، انہوں نے ۱۹۶۴ء سے ۱۹۶۸ء کے دوران تعلیمی بنیادوں پر چار مرتبہ فوجی خدمات سے التوا حاصل کیا، جبکہ بعد میں انہیں ایڑیوں میں ہڈیوں کے مسئلے کی بنیاد پر طبی چھوٹ بھی ملی۔ اگرچہ قانونی طور پر انہیں ’’ڈرافٹ ڈوجر‘‘ نہیں کہا جا سکتا، لیکن ناقدین اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک ایسا رہنما جس نے خود فوجی خدمات انجام نہیں دیں، وہ اب نوجوانوں کے لیے رجسٹریشن کو سخت بنا رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں فوجی بھرتی آخری بار ویتنام جنگ کے دوران استعمال ہوئی تھی، جس کے بعد ملک مکمل طور پر رضاکارانہ فوجی نظام میں تبدیل ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ قانون فوری طور پر کسی لازمی فوجی خدمت کا آغاز نہیں کرتا، لیکن اس نے سیاسی، سماجی اور اخلاقی سطح پر ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے حقوق، پرائیویسی، اور حکومتی اختیارات کے حوالے سے۔