سپریم کورٹ میں جا کرالیکشن کمیشن کے خلاف محاذ کھولنا ممتابنرجی کاماسٹر اسٹروک تھا۔ الیکشن کمیشن کے آمرانہ رویے سے پریشان حال بنگال کے عوام کو ممتا یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئی ہیں کہ وہ صرف ان کے ووٹوں کی طلبگار ہی نہیں بلکہ ان کے جمہوری حقوق کی محافظ بھی ہیں
ونسٹن چرچل نے۸۰؍ سال قبل کہا تھا:’’ کسی بحران کو ہرگز ضائع نہ ہونے دو۔‘‘ مجھے علم نہیں کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، چرچل کے اس قول سے واقف ہیں یا نہیں ، تاہم ان کا پچاس سالہ کامیاب سیاسی کریئر اس بات کا گواہ ہے کہ دیدی نے کبھی کسی بحران کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ جب جب کسی بڑی مصیبت یا بحران نے ممتا کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تب تب انہوں نے حوصلہ ہارنے کی بجائے اس بحران کو ہی منزل تک پہنچنے کا ذریعہ بنالیا۔ ممتا چیلنجز سے گھبراتی نہیں ہیں بلکہ ان کا خیر مقدم کرتی ہیں کیونکہ ان چیلنجزکی وجہ سے ان کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کو اور زیادہ نکھرنے کا موقع ملتا ہے۔ جب بنگال میں اسمبلی انتخابات سے محض چند ماہ قبل ووٹرز لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کا کام شروع ہوا تو یہ ممتا کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا۔ سیاسی طریقے سے ترنمول کانگریس کو شکست دینے میں ناکام رہنے کے بعد بی جے پی SIR کے سہارے میدان فتح کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس خدشے کو کے شوبھیندو ادھیکاری جیسے مقامی بی جے پی لیڈروں کے ان دعووں سے بھی تقویت ملی کہ ایس آئی آر کے دوران ایک کروڑ سے زیادہ روہنگیا اور بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کے نام حذف کئے جائیں گے۔ اگر ایک کروڑ ووٹروں کے نام غیر مستندقرار دے کر ووٹر لسٹ نکال دئے جائیں تو بی جے پی کی جیت کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
ممتابنرجی کو بی جے پی کی یہ چال بخوبی سمجھ میں آگئی اور شاید اسی لئے وہ شروع شروع میں SIR سے خائف نظر آئیں لیکن پھر انہوں نے SIRکو سیاسی اور انتخابی جنگ جیتنے کا ہتھیا ربنالیا۔ انہوں نے پارٹی ورکرز کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی ایک بھی ووٹرکا حق رائے دہندگی چھینا نہ جاسکے۔ ان کی ہدایت پر ترنمول کانگریس کے ہزاروں ورکرز نے صوبے کے کونے کونے میں ہیلپ ڈسک کھول دیئے تاکہ لاکھوں غریب، کم تعلیم یافتہ، دیہی باشندے، خواتین اور اقلیتیں بلا کسی پریشانی کے ووٹر لسٹ میں اپنے اپنے ناموں کا صحیح اندراج کرا سکیں ۔ پچھلے ڈھائی ماہ سے ترنمول کانگریس منظم طریقے سے الیکشن کمیشن کے تمام ہتھکنڈوں کا نہ صرف مقابلہ کررہی ہے بلکہ انہیں ناکام بھی بنارہی ہے۔ ممتا سمجھ گئی ہیں کہ اگر انہیں اپریل میں ہونے والی انتخابی جنگ جیتنی ہے تو پہلے SIR کی جنگ جیتنی ہوگی۔ہمیشہ کی طرح ممتانے الیکشن کمیشن مخالف جنگ کی کمان بھی خود سنبھال رکھی ہے۔ جب ممتا کو محسوس ہوا کہ کلکتہ میں رہتے ہوئے یہ جنگ موثر طریقے سے نہیں لڑی جاسکتی ہے تو انہوں نے دلی کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ابھی تک وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیشور کمار کو خط پر خط لکھ رہی تھیں ۔ پچھلے ہفتے انہوں نے دلی جاکران سے روبروبات کی۔لیکن جلد ہی انہیں یہ احساس ہوگیا کہ چیف الیکشن کمشنر حکمراں بی جے پی کی اطاعت کررہے ہیں تو ممتا میٹنگ ادھوری چھوڑ کرواک آؤٹ کرگئیں ۔اس کے بعد انہوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ ان سے قبل کبھی کوئی وزیر اعلیٰ سپریم کورٹ میں خود اپنا مقدمہ لے کر نہیں پہنچاتھا۔ پچھلے بدھ کو ممتا جب چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ کے سامنے اپنی فریاد لے کر پہنچیں تو انہوں نے تاریخ رقم کردی۔جج صاحبان دیدی کو وہاں دیکھ کر کافی متاثر ہوئے۔ممتا نے صرف پانچ منٹ کا وقت مانگا تھا لیکن انہیں پندرہ منٹ دیئے گئے۔ ممتا نے شکایت کی کہ الیکشن کمیشن ظلم اور نا انصافی کررہا ہے اور انصاف بنددروازے کے پیچھے رو رہا ہے۔ ممتا نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے جج صاحبان سے یہ درخواست کی ’’بنگال کو بچالیجئے، جمہوریت کو بچالیجئے۔‘‘سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی شکایت پر فوری توجہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کی اور ہدایت دی کہ وہ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کے دوران حساسیت اور احتیاط کا مظاہرہ کرے۔
جو کام کوئی اور سیاسی لیڈر نہیں کرسکا وہ ممتا نے کردکھایا۔انہوں نے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز سپریم کورٹ سے کردیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے پیش ہوکر الیکشن کمیشن کے خلاف محاذ کھولنا ممتا کاماسٹر اسٹروک تھا۔ پندرہ برسوں سے مسلسل اقتدار میں رہنے کی وجہ سے حکمراں ترنمول کانگریس کے لئے اس بار انتخابات سخت ثابت ہونے والے تھے۔ممتا کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ اس باران کی پارٹی anti-incumbency کے اضافی بوجھ کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے گی۔مودی جی اور امیت شاہ نے ممتا پر گھس پیٹھیوں کی سرپرستی کاالزام زور شور سے لگانا شروع کردیا تھا۔حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہورہے مظالم کو بھی بی جے پی بنگال میں بڑا انتخابی ایشو بناکر ترنمول کانگریس کو گھیرنے کا پلان بناچکی تھی۔لیکن سپریم کورٹ میں اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعہ ممتا نے بی جے پی کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا۔ ممتا نے الیکشن کمیشن کو ہر قدم پر چیلنج دے کر اور آخر میں سپریم کورٹ میں ووٹر لسٹ کی اصلاح کے نام پر حقیقی ووٹروں کے ناموں کو حذف کرنے کی کوششوں کی شکایت کرکے بی جے پی کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔
اس وقت بنگال میں ترنمول کانگریس کا یہ بیانیہ تیزی سے فروغ پارہا ہے کہ صوبے کے عوام کے حقوق کے لئے دیدی صرف کلکتہ کی سڑکوں پر ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے اندر بھی آواز بلند کرسکتی ہیں ۔ وکیل کا سیاہ گاؤن زیب تن کئے ممتا کی سپریم کورٹ میں لی گئی تصویریں اس بار ترنمول کانگریس کی انتخابی مہم میں نمایاں طور پر جگہ پارہی ہیں ۔ بی جے پی سپریم کورٹ میں ممتا کی حاضری کو ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ قراردے رہی ہے لیکن اس کی اعلیٰ قیادت کو احساس ہورہا ہے کہ ممتا کی اس انوکھی حکمت عملی سے پارٹی کو بھاری سیاسی اور انتخابی خسارہ ہوسکتا ہے ورنہ راجیہ سبھا میں خود وزیر اعظم کو یہ کہنا نہیں پڑتا کہ ’’گھس پیٹھیوں کو بچانے کیلئے عدالتوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔‘‘ پچھلے ایک ہفتے سے بی جے پی کے بنگال خیمہ میں خاموشی اور اداسی چھائی ہوئی ہے۔ممتا نے شاید الیکشن سے قبل بی جے پی کو اعصابی جنگ میں ہرادیا ہے۔
ایس آئی آر کی وجہ سے پچھلے ڈھائی ماہ سے مغربی بنگال کے لاکھوں باشندوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔صوبے کے لوگ الیکشن کمیشن کے آمرانہ رویے سے بے حد بدگمان اور برہم ہیں ۔ ممتا نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے کچے چٹھے کھولے توبنگال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ممتابنگال کے عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئیں کہ وہ صرف ان کے ووٹوں کی طلبگار ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے جمہوری حقوق کی محافظ بھی ہیں ۔عدالت عظمیٰ کا فیصلہ خواہ کچھ بھی ہوعوام کی عدالت میں ممتا اپنا مقدمہ جیت چکی ہیں ۔