شکایت نہ سننے، توہین کرنے ، زعفرانی پارٹی کی زبان میں بات کرنے اور مغربی بنگال کو نشانہ بنانے پر برہمی کااظہار کیا، ایس آئی آر سے متاثرہ ایسے ۱۲؍ ووٹرس کو اپنے ساتھ لے کر پہنچی تھیں جن میں سے ۵؍ کو مردہ قرار دے کر نام نکال دیاگیا ہے
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 4:46 PM IST | New Delhi
شکایت نہ سننے، توہین کرنے ، زعفرانی پارٹی کی زبان میں بات کرنے اور مغربی بنگال کو نشانہ بنانے پر برہمی کااظہار کیا، ایس آئی آر سے متاثرہ ایسے ۱۲؍ ووٹرس کو اپنے ساتھ لے کر پہنچی تھیں جن میں سے ۵؍ کو مردہ قرار دے کر نام نکال دیاگیا ہے
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی جو جلد بازی میں کی جارہی ایس آئی آر کی خامیوں کی شکایت لے کر پیر کو الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے پہنچی تھیں، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ’’بی جےپی کی زبان میں بات کرنے‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے میٹنگ ادھوری چھوڑ کر باہر نکل آئیں۔ انہوں نے گیانیش کمار پر میٹنگ کے دوران ان کی ’’توہین اور بے عزتی‘‘ کرنے کا الزام بھی لگایا ۔
وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمان اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے متاثر ہونے والے ایسے ۱۲؍ افراد کے ساتھ الیکشن کمیشن سے ملنے پہنچی تھیں جن میں سے ۵؍ کو ایس آئی آر کے دوران مردہ قرار دے کر ان کا نام ووٹر لسٹ سے نکال دیاگیاہے۔الیکشن کمیشن سے ملاقات کیلئے پہنچنے والے اس وفد نے بطور احتجاج سیاہ شالیں پہن رکھی تھیں۔
ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کو’’جان بوجھ کر نشانہ‘‘ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے برہمی کااظہار کیا کہ ریاست کی انتخابی فہرست سے ۵۸؍لاکھ ووٹرس کے نام انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیئے بغیر نکال دیئے گئے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب بی جے پی حکومت والی ریاستوں میںایس آئی آر نہیں ہو رہا ہے تو پھر اپوزیشن کی حکومت والی مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرالا میں یہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی ایس آئی آر کے خلاف نہیں ہے مگر جس طرح جلد بازی میں یہ کیا جارہاہے وہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگرآپ کوایس آئی آر کرنا ہی تھا تو ان ریاستوں کو اس سے باہر رکھتے جہاں الیکشن ہونے ہیں اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ یہ پوری کارروائی کرتے۔ آسام میں بی جے پی حکومت ہے، آپ نے وہاں ایس آئی آر نہیں کیا، مگر مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں کیا۔‘‘
ایس آئی آر کو’’ الیکشن سے پہلے ہی حکومت چن لینے‘‘ کی کوشش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے طویل سیاسی کیریئر میں انہوں نے’’کبھی ایسا گھمنڈی اور جھوٹا الیکشن کمشنر نہیں دیکھا۔
میٹنگ ادھوری چھوڑ کر باہر آنے کے بعد بنرجی نے کہاکہ’’آپ کے پاس بی جے پی کی طاقت ہے اور ہمارے پاس عوام کی طاقت ہے۔ اس لیے ہم نے میٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے ہماری توہین کی، ہمیں ذلیل کیا۔ الیکشن کمیشن بہت گھمنڈی ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایک خاص انداز میں بات کر رہا تھا۔ ہم انصاف مانگنے آئے تھے مگر وہ ناانصافی کر رہا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ بہت بڑا جھوٹا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ان کی پارٹی کے بھیجے گئے۵؍خطوط کا بھی جواب نہیں دیا۔ممتا بنرجی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کس بنیاد پر ووٹرس سے ان کے والدین کا ’پیدائش سرٹیفکیٹ‘‘ جیسے دستاویز مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’میں اڈوانی جی کا احترام کرتی ہوں اور ان سے پوچھتی ہوں کہ کیا وہ اپنے والدین کے پیدائش سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ انہیں شک ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی اپنے والدین کے ایسے دستاویز فراہم کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران۱۵۰؍ سے زائد افراد جن میں بوتھ لیول آفیسرس بھی شامل ہیں،کی موت ہو چکی ہے۔ ٹی ایم سی لیڈر نے کہا کہ ’’۱۰۰؍ افراد کو ساتھ لائی ہوں۔ ان میں سے کچھ کو ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دیا گیا، جبکہ وہ زندہ ہیں اور یہاں موجود ہیں۔‘‘ الیکشن کمیشن کو بطور ادارہ قابل احترام قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ موجودہ پینل خاص طور سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار بی جے پی کی ہدایات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’جب تک وہ اس کرسی پر ہیں، ملک کیلئےخطرناک ہیں۔‘‘