• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرشدآباد: مجوزہ مسجد پر تنازع، یوپی کی ہندوتوا تنظیم کا مارچ کا اعلان

Updated: February 09, 2026, 9:09 PM IST | Kolkata

اتر پردیش کی ایک ہندوتوا تنظیم نے مغربی بنگال کے مرشدآباد میں ایک مجوزہ مسجد کے خلاف مارچ کا اعلان کیا ہے، جسے تنظیم نے اشتعال انگیز انداز میں ’’بابری مسجد طرز‘‘ قرار دیا۔ اس اعلان کے بعد ریاست میں سیکوریٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے کہا ہے کہ قانون و نظم کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا، جبکہ سیاسی حلقوں نے معاملے کو غیر ضروری طور پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں ایک مجوزہ مسجد کے منصوبے کے متعلق سیاسی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اتر پردیش میں سرگرم ایک ہندوتوا تنظیم نے اس منصوبے کے خلاف ’’چلو مرشدآباد‘‘ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد ’’بابری مسجد طرز‘‘ کی ہے، حالانکہ مقامی انتظامیہ اور ریاستی حکومت کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کچھ مقامات پر ایسے بینر اور پوسٹر سامنے آئے جن میں مجوزہ مسجد کو بابری مسجد سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ان پوسٹروں کے مندرجات کو انتظامیہ نے اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور بعض مقامات سے انہیں ہٹا بھی دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ بینر کس نے لگائے اور اس کے پیچھے مقصد کیا تھا۔
مجوزہ مسجد کا معاملہ مرشدآباد کے بیل ڈانگا علاقے سے جڑا بتایا جا رہا ہے، جہاں ایک مقامی سیاسی لیڈر نے عوامی چندے سے ایک مذہبی ڈھانچہ تعمیر کرنے کی بات کہی تھی۔ تاہم بعد میں یہ معاملہ ریاستی سیاست سے نکل کر بین الریاستی تنازع کی شکل اختیار کر گیا، جب اتر پردیش کی تنظیم نے اسے ایک بڑے سیاسی ایجنڈے کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ ہندوتوا تنظیم کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مارچ ’’مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ توازن بگڑنے سے روکنے‘‘ کے لیے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں جان بوجھ کر ایسے منصوبوں کو ہوا دی جا رہی ہے جو مذہبی تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم تنظیم کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مسجد کے منصوبے میں کون سا پہلو غیر قانونی یا آئینی طور پر قابلِ اعتراض ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کشمیری صحافی عرفان معراج کی بلا مقدمہ حراست غیر قانونی قرار دی جائے‘‘

ریاستی حکومت اور پولیس نے اس اعلان پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ مغربی بنگال پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ کسی بھی بیرونی تنظیم کو ریاست میں داخل ہو کر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ افسر کے مطابق، اگر مارچ کے نام پر کسی غیر مجاز اجتماع یا اشتعال انگیز سرگرمی کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ سیاسی سطح پر بھی اس معاملے پر ردِعمل سامنے آیا ہے۔ حکمراں جماعت کے لیڈروں نے کہا ہے کہ مجوزہ مسجد کا معاملہ مقامی سطح کا ہے اور اسے جان بوجھ کر قومی فرقہ وارانہ بیانیے میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، بابری مسجد کا حوالہ دے کر جذبات بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ امن عامہ کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی میں بی جے پی حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر جشن

دوسری جانب حزبِ اختلاف کے بعض لیڈروں نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مذہبی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی تعمیراتی منصوبے پر اعتراض ہے تو اس کا حل قانونی اور انتظامی طریقوں سے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ سڑکوں پر طاقت دکھا کر۔ انتظامیہ کے مطابق، مرشدآباد ایک حساس ضلع ہے جہاں مختلف مذہبی برادریاں طویل عرصے سے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ حکام نے مقامی سطح پر امن کمیٹیوں کو فعال کیا ہے اور دونوں فریقوں سے تحمل اور قانون کی پاسداری کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی والیکشن کمیشن ملکر پی ڈی اےکے نام کٹوار ہے‘‘

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذہبی عمارت کی تعمیر کے لیے مقامی قوانین، زمین کے ریکارڈ اور انتظامی اجازت درکار ہوتی ہے۔ اگر ان میں کوئی خامی ہو تو عدالت یا متعلقہ اتھاریٹی سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کسی منصوبے کو ’’بابری مسجد طرز‘‘ کہہ کر پیش کرنا قانونی اصطلاح نہیں بلکہ ایک سیاسی نعرہ ہے، جس کا مقصد محض جذبات کو بھڑکانا ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK