• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بی جے پی کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ بنگال کسی کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے، نہ آئندہ جھکے گا‘‘

Updated: February 11, 2026, 6:57 AM IST | Kolkata

ترنمول کانگریس کے نوجوان لیڈر ابھیشیک بنرجی کا مرکزی حکومت کو چیلنج، کہا:یکے بعد دیگرے تین شکستوں کے بعد بی جے پی ریاست کے حصے کی رقم روک کر بنگالی عوام کو سزا دینا چاہتی ہے

Trinamool Congress young leader and MP Abhishek Banerjee
ترنمول کانگریس کے نوجوان لیڈر اور رکن پارلیمان ابھیشیک بنرجی

 ترنمول کانگریس کے نوجوان لیڈر اور رکن پارلیمان ابھیشیک بنرجی نے بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں کتنا ہی ہاتھ پاؤ ں مار لے، بنگال کے لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو یکے بعد دیگرے تین مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسی لئے وہ ریاست کے حصے کی رقم روک کر بنگالی عوام کو سزا دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن بی جے پی کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ بنگال کی یہ تاریخ رہی ہے، وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا ہے ، نہ ہی اسے آئندہ جھکایا جاسکے گا۔منگل کو لوک سبھا میں بجٹ ۲۷۔۲۰۲۶ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ تقریر میں بنگال کا ذکر تک نہیں کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس بجٹ میں حکومت نے ہر سطح پر ٹیکس لگا دیا ہے، یہاں تک کہ بچے کے پہلے دودھ سے لے کر آخری رخصتی تک ٹیکس کا انتظام موجود ہے۔ترنمول لیڈر نے کہا کہ بی جے پی بنگال کو سزا دینے کیلئے اس کے حصے کے فنڈ روک رہی ہے، لیکن اگر مرکزی حکومت عوام کو دُکھ دے گی تواسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ مرکزی حکومت کچھ بھی کرلے، اپنی تمام ایجنسیاں بھیج دے ، ہم اپنے عوام کیلئے سب سے لڑنے کیلئے تیار ہیں۔
  ابھیشیک بنرجی نے منی پور کے حالات پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ وہاں طویل عرصے تک تشدد ہوتا رہا لیکن وزیراعظم کو وہاں جانے کا وقت نہیں ملا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’میں اُس علاقے سے آتا ہوں جہاں بنگالی میں بات کرنے والوں کو’بنگلہ دیشی‘ اور مچھلی کھانے والوں کو’مغل‘ کہہ دیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں کسانوں کو رکاوٹیں (بیری کیڈز) لگا کر روکا جاتا ہے، جبکہ دہشت گرد بلا روک ٹوک آتے ہیں اور پہلگام میں معصوموں کا قتل کر کے چلے جاتےہیں۔‘‘
 ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان’تہرے دباؤ‘ میں ہے جہاں ایک عام انسان کو حقیقت میں تین بار ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس (ان ڈائریکٹ ٹیکس) ہر سامان پر موجود ہے۔ جہاں حکومت کی فلاحی اسکیمیں نہیں پہنچ پاتی ہیں، وہاں جی ایس ٹی پہنچ جاتا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی بچت ختم ہو رہی ہے اور حکومت اپنے شہریوں سے تگنا ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
  ابھیشیک بنرجی نے مزید کہا کہ بنگال میں ووٹر لسٹ کی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے دوران۱۱۵؍ افراد کی جانیں گئیں ،اس کے باوجود اس عمل میں لوگوں کو شبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں غریبوں کیلئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا،اس کے برعکس بااثر اور امیر طبقہ کے مفادات کو مدنظر رکھ کر مالی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، لیکن ملک کے ایم ایس ایم ای شعبے کو کوئی خاص راحت نہیں دی گئی اور حکومت کی پالیسیوں سے عام کاروباری طبقہ محروم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ناکام اور ناقص پالیسیوں کے باعث کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ حکومت نے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) دینے کا وعدہ تو کیا، لیکن اب تک اسے عملی شکل نہیں دی گئی۔بڑھتی ہوئی نفرت اور اشتعال انگیزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ڈرانا دھمکانا عام ہو گیا ہے اور حکومت کی خاموشی اس کی’خاموش رضامندی‘ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے طنز کیا کہ ایک طرف ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ کی بات ہوتی ہے وہیں دوسری طرف بڑے بڑے بدعنوان لوگ بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK