ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا، بی جے پی کی مخالفت میں مضبوطی سے کھڑی رہی، اسکے ٹکٹ پر مسلمان امیدوار بھی جیتے۔ بی ایم سی انتخابات میں اس نے رسوخ کا بھی مظاہرہ کیا مگر راج ٹھاکرے سے اتحاد اور راج ٹھاکرے کے بیانات نے ادھو کی شیوسینا کو نقصان پہنچایا۔
مہاراشٹر کی کل ۲۹؍ مہانگر پالیکاؤں کے انتخابات میں بی جے پی اتحاد نے ۲۵؍ میں فتح حاصل کی ہے۔ اس سے پہلے نگر پریشد کے انتخابات ہوئے تھے اور ان میں بی جے پی اتحاد نے فتح حاصل کی تھی۔ آئندہ ۵؍ فروری کو ضلع پریشد کے انتخابات ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ توقع نہ کی جائے کہ بی جے پی اتحاد ضلع پریشد انتخابات میں بھی فتح حاصل کرے گا۔ یقیناً بی جے پی کو خوشی اور کانگریس و شیوسینا (ادھو) کو اپنی اپنی کارکردگی کے محاسبے کی ضرورت کا اظہار کرنا چاہئے۔ یہ کالم کسی کے حق میں ہے نہ کسی کی مخالفت میں ۔ کالم نگار ان سب کو مبارکباد پیش کرتا ہے جنہوں نے امیدوار بن کر یا ووٹ دے کر جمہوری عمل میں شرکت کی ہے۔ البتہ اس کی نگاہ میں وہ پھول اور کانٹے دونوں ہیں جو رائے دہندگان کے ایک بڑے طبقے کے حصے میں انتخابات کے نتیجے میں آئے ہیں ۔
lممبئی میں بی جے پی کے ٹکٹ اور نشان پر کوئی مسلمان نہیں جیتا یا اس کی جیت کی خبر کالم نگار کی نظر سے نہیں گزری۔
lشیوسینا (شندے) بی جے پی کی اتحادی تھی اور اس کے ٹکٹ پر اکادکا مسلمان جیتے بھی مثلاً صوفی نادیہ عبدالجبار (جو وارڈ نمبر ۷۸؍ سے جیتی ہیں ) مگر ایکناتھ شندے ممبئی کی سطح پر اپنے اثرات ظاہر کرسکے ہیں نہ مسلمانوں پر۔
lاجیت پوار ریاست مہاراشٹر میں نائب وزیراعلیٰ اور بی جے پی اتحاد کا حصہ ہیں مگر ان کی پارٹی کے ممبئی کے صدر کے نام پر بی جے پی کو اعتراض تھا لہٰذا اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی نے علاحدہ انتخاب لڑا تھا خان عائشہ شمس (وارڈ ۹۶)، ڈاکٹر سعیدہ خان (وارڈ ۱۶۸) اور بشریٰ ندیم کپتان ملک (وارڈ ۱۷۰) جیتیں بھی مگر مجموعی طور پر اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی کو بی جے پی اتحاد کا حصہ کہا جاسکتا ہے نہ بی ایم سی کی سطح پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پارٹی۔
lادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا بی جے پی کی مخالفت میں مضبوطی سے کھڑی رہی، اس کے ٹکٹ پر مسلمان مثلاً ذیشان چنگیز ملتانی (وارڈ ۶۲)، صبا ہارون رشید خان (وارڈ ۶۴)، سکینہ ایوب شیخ (وارڈ ۱۲۴) جیتے بھی۔ بی ایم سی انتخابات میں اس نے رسوخ کا بھی مظاہرہ کیا مگر راج ٹھاکرے سے اتحاد اور راج ٹھاکرے کے بیانات نے ادھو کی شیوسینا کو نقصان پہنچایا۔ اگر شیوسینا (ادھو) کا راج ٹھاکرے سے اتحاد نہ ہوتا تو شیوسینا (ادھو) کو مزید کامیابی ملتی۔ ادھو سینا کو کمزور سمجھنا دانشمندی نہیں ہے۔
lمجلس اتحاد المسلمین کو ممبئی اور مہاراشٹر میں اچھی کامیابی ملی۔ اس کا غیر مسلم امیدوار بھی جیتا (وجے ابالے- وارڈ نمبر ۱۴۰) مگر مجلس کے جیتے ہوئے امیدوار اس کے ساتھ کتنے دنوں رہیں گے یا مجلس نے جو ماحول بنایا اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟ اس سوال پر بحث جاری ہے۔ بحث یہ بھی ہے کہ کیا مجلس اپنے مسلم امیدواروں کو غیر مسلموں کے ووٹ دلوا سکتی ہے؟
lسماجوادی پارٹی کی ساکھ اکھڑی ہوئی محسوس ہوئی۔ اور
lکانگریس نے کئی حلقوں میں جیت حاصل کی، وہ بھی مسلمان ووٹرز کے ذریعہ مگر اس کی تنظیم اور روایتی ووٹرز کمزور ثابت ہوئے۔ مسلمانوں کے علاوہ اس کو ووٹ دینے والے دور ہی رہے اور خاص کر دلت ووٹرز یا ونچت اگھاڑی نے ان کو کانگریس کے قریب نہیں آنے دیا۔ کانگریس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ذریعہ اپنے تن مردہ میں جان ڈالنے کی کامیاب کوشش کی ہے مگر اس کو اپنی ناکامیوں ، کمزوریوں اور کانگریس میں رہ کر کانگریس کو نقصان پہنچانے والی کالی بھیڑوں کا محاسبہ بھی کرنا چاہئے۔
نرسہما راؤ نے کانگریس کو جس راہ پر ڈالا وہ صحیح راہ نہیں تھی۔ مہاراشٹر میں یا بی ایم سی انتخابات میں کانگریس کا یہ فیصلہ درست نہیں معلوم ہوتا کہ وہ تنہا لڑے گی۔ مجلس کے لیڈران نے نقاب اوڑھنے والی میئر اور وزیراعظم کی جو باتیں کیں وہ ’جملے بازی‘ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں ۔ مجلس کو اب یہ دکھانا ہے کہ وہ واقعی دستور ہند اور جمہوری اصولوں کی قدر کرتی ہے لہٰذا یہ اعلان ضروری ہے کہ مجلس اس پارٹی یا اتحاد کا میئر بنانے میں مدد فراہم کرے گی جس کے ساتھ اکثریت ہوگی لیکن وہ پارٹی یا اتحاد Majoritism کو فروغ نہیں دے گی بلکہ ہر چھوٹے بڑے ادارے کو جمہوری اصولوں پر کام کرنے کی اجازت دے گی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر پارٹی آواز بلند کرے کہ انتخابات کے دوران جو روپے پکڑے گئے وہ کس کے تھے اور کس مقصد کے لئے تھے۔ اویسی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ مرشد آباد میں جو بابری مسجد بن رہی ہے وہ اس کو جائز نہیں سمجھتے مگر پیغام یہی دیا جا رہا ہے کہ اویسی، ان کی پارٹی اور مسلمان مرشد آباد میں بابری مسجد بنوا رہے ہیں ۔ شاید اس لئے کہ مسلمان سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کروا سکے نہ حکومت۔ بی جے پی اپنے کئے پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ مسجد بنوا رہی ہے اور الزام دھر رہی ہے مسلمانوں پر۔
کارپوریشن اور بلدیہ انتخابات میں خاص طور سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر حلقے میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو صرف اسی نمائندے کو اچھا کہتے ہیں جو ان کی جی حضوری کرے یا بیجا توقعات کو پورا کرے۔ ایسے لوگوں اور نمائندوں پر سخت نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ان خبروں اور افواہوں کا تعلق ہے کہ فلاں پارٹی نے اپنے نمائندوں کو یہاں قید رکھا ہے یا اپنے اتحادی کے ساتھ سودے بازی کر رہی ہے تو یہ اس پارٹی کا معاملہ ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ کوئی کام خلاف دستور یا خلاف قانون تو نہیں ہو رہا ہے۔ پولیس کو ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھنا چاہئے جو نمائندوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ گھر دلا دیں گے، نل لگوا دیں گے، حج و عمرہ کرا دیں گے یا ایسا ہی کوئی دوسرا کام کرا دیں گے۔ منتخب نمائندوں کا یہ کام ہے ہی نہیں ۔ اب یہ بات کھل کر کہی جانی چاہئے کہ منتخب نمائندوں سے ایسی توقع کرنا جو اس کے دائرۂ کار میں نہیں جرم ہے۔ میئر انتخاب کے بارے میں کافی افواہیں ہیں مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ جس کی اکثریت ہو وہ میئر منتخب کرے مگر زور زبردستی اور روپے کے بل پر میئر بنانے کا کھیل نہ ہو۔ ایماندار انتظامیہ اور ایماندار بلدیہ تبھی ممکن ہے جب ووٹرز ایماندار ہوں ۔