جموں کشمیر داخلہ امتحان بورڈ نے کہا کہ ویشنو دیوی کالج ایم بی بی ایس طلبہ کی نئی کاؤنسلنگ نہیں کر سکتا، جس کے بعد امتحان بورڈ ان ۵۰؍ طلبہ کو دیگر ۷؍ اداروں میں ضم کرنے کیلئے کائونسلنگ کا انعقاد کرے گا۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 5:06 PM IST | Srinagar
جموں کشمیر داخلہ امتحان بورڈ نے کہا کہ ویشنو دیوی کالج ایم بی بی ایس طلبہ کی نئی کاؤنسلنگ نہیں کر سکتا، جس کے بعد امتحان بورڈ ان ۵۰؍ طلبہ کو دیگر ۷؍ اداروں میں ضم کرنے کیلئے کائونسلنگ کا انعقاد کرے گا۔
دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ، جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل داخلہ امتحان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس کے طلبہ کو کالجوں کی الاٹمنٹ کے لیے جمعہ کو کاؤنسلنگ کے لیے بلائے گا۔اس سے قبل بورڈ نے کہا تھا کہ وہ ۲۰۲۵-۲۶ء ایم بی بی ایس سیشن کے لیے تازہ کاؤنسلنگ نہیں کر سکتا اور اس نے جموں و کشمیر حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ طلبہ کو دوسرے اداروں میں خود داخل کرے۔۶؍ جنوری کو، نیشنل میڈیکل کمیشن نے ادارے کو ساختی خامیوں اور فیکلٹی کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ۲۰۲۵-۲۶ء تعلیمی سال کے لیے ایم بی بی ایس کورس چلانے کی اجازت واپس لے لی تھی۔واضح رہے کہ یہ فیصلہ ہندوتوا تنظیموں کے احتجاج کے پس منظر میں آیا جنہوں نے ۵۰؍ طلبہ میں سے ۴۴؍ مسلمان طلبہ منتخب ہونے پر احتجاج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: راتوں رات ایک اور جج کا تبادلہ کردیا گیا
اس فیصلے کے بعد شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس میں داخل ہونے والے ۵۰؍ایم بی بی ایس طلبہ کالج میں داخلے سے محروم ہوگئے۔ دریں اثناء بورڈ کے جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق، طلبہ کو یونین ٹیریٹری کے سات سرکاری میڈیکل کالجوں میں جگہ دی جائے گی۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق۵۰؍ طلبہ میں سے،۲۲؍ کو کشمیر علاقے کے تین کالجوں میں اور۲۸؍ کو جموں علاقے کے چار کالجوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔بعد ازاں نیشنل میڈیکل کمیشن نے، ایم بی بی ایس کورس کی اجازت واپس لیتے ہوئے، جموں و کشمیر حکومت سے کہا تھا کہ ان طلبہ کو یونین ٹیریٹری کے دوسرے کالجوں میں اضافی سیٹوں پر جگہ دی جائے۔ اضافی سیٹیں تعلیمی اداروں میں معمول کی انٹیک سے زائد ہوتی ہیں۔تاہم، جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرینس امتحانات نے بدھ کو کہا کہ اضافی سیٹیں بنانا اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔اس نے جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ کالج کے طلبہ کے لیے اپنے سطح پر نیشنل میڈیکل کمیشن [این ایم سی] اور جموں و کشمیر کے متعلقہ میڈیکل کالجوں کے مشورے سےنئی سیٹیں مختص کرے۔
یہ بھی پڑھئے: مالدا: مسلم شخص ایس آئی آر سماعت کیلئے اپنے دادا کی قبر کی مٹی لے کر پہنچا
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، امتحانی بورڈ نے کہا تھا کہ وہ ۲۰۲۵-۲۶ء تعلیمی سال کے لیے تازہ کاؤنسلنگ نہیں کر سکتا کیونکہ اسے مرکزی وزارت صحت کے تحت میڈیکل کاؤنسلنگ کمیٹی کے جاری کردہ شیڈول سے آگے جانے کا اختیار نہیں ہے۔مزید برآں، ایم سی سی کے احکامات کے مطابق، ایم بی بی ایس امیدواروں کے ڈیٹا ان کے پورٹل پر آخری تاریخ جوائننگ، یعنی۳۱؍ دسمبر۲۰۲۵ء کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔جبکہ ۸؍ جنوری کو، وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ یونین ٹیریٹری حکومت طلبہ کو ان کے گھروں کے قریب میڈیکل کالجوں میں جگہ دے گی تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا، ’’ ہمیں اس میڈیکل کالج کو بند کرنے سے طلبہ کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ پورے ملک میں لوگ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہماری جگہ واحد ہے جہاں ایک مکمل طور پر فعال میڈیکل کالج بند کر دیا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
یاد رہے کہ کالج میں طلبہ کے مذہبی تناسب پر سوال اٹھانے والے احتجاج کی قیادت شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیٹی نے کی، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی، اس کی سربراہ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، شیو سینا، بجرنگ دل اور دیگر ہندوتوا گروپوں کے اراکین نے بھی حصہ لیا۔احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہندو طلبہ کو ترجیح دی جائے، کیونکہ ادارہ ویشنو دیوی مندرکے عطیات کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ تاہم، کالج کو اقلیتی ادارے کے طور پر رجسٹرڈنہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے مذہب کی بنیاد پر داخلہ نہیں دیا جا سکتا تھا۔