Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا تمام ممالک مل کر اسرائیل، امریکہ کو روک نہیں سکتے؟

Updated: April 05, 2026, 1:57 PM IST | Aakar Patel | mumbai

پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کی ہر ممکن احتیاطی تدبیر بروئے کار لانا الگ بات ہے اور سفارتی دباؤ ڈال کر متذکرہ دو ملکوں کو جنگ روکنے پر مجبور کرنا الگ بات۔

INN
آئی این این
ہم اُس جنگ کے دوسرے مہینے میں  داخل ہوچکے ہیں  جس کا  طویل ہونا طے لگ رہا ہے۔ اس لئے مَیں  نے سوچا کہ اس سے متعلق اپنے چند مشاہدات قارئین کے سامنے رکھوں :
پہلا یہ ہے کہ اکثر و بیشتر ممالک خود کو اُن حالات کے مقابلے کیلئے تیار کررہے ہیں  جو کہ جنگ کی طوالت کے سبب پیدا ہوسکتے ہیں ۔ آسٹریلیا نے تسمانیہ اور وکٹوریہ میں  پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا ہے تاکہ شہریوں  کو نجی گاڑیوں  کے استعمال سے گریز کی ترغیب دی جا سکے۔ مصر میں  دکانوں  اور ریستوراں  کو رات ۹؍ بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فلپائن میں  اب چار دن کا ہفتہ ہے اور اسی طرح پاکستان میں  بھی۔ میانمار کاروں  کو سڑک سے دور رکھنے کیلئے ’’طاق اور جفت‘‘ کا سسٹم نافذ کررہا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ یکم، تین، پانچ، سات اور نو پر ختم ہونے والی تاریخوں  میں  وہی موٹر گاڑیاں  سڑکوں  پر آسکتی ہیں  جن کا گاڑی نمبر یکم، تین، پانچ، سات اور نو پر ختم ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کم و بیش پچاس فیصد گاڑیوں  کو سڑکوں  سے دور رکھنا ہے۔ سلووینیا میں  ایندھن کی خریداری پر ۵۰؍ لیٹر کی حد ہے اور نیپال نے ایل پی جی سلنڈروں  میں  گیس کم کر دی ہے۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جیکٹ نہ پہنیں  تاکہ اے سی زیادہ درجۂ حرارت پر چل سکیں ۔ بنگلہ دیش نے اپنی یونیورسٹیاں  بند کر دیں  اور منصوبہ بند بلیک آؤٹ متعارف کرایا جسے ہم لوڈ شیڈنگ کہتے آئے ہیں ۔ جنوبی سوڈان بھی بجلی کے استعمال کو محدود کر رہا ہے۔ سری لنکا نے بدھ کو عام تعطیل کر دی ہے۔ گویا مختلف ممالک اپنے اپنے حالات کے مطابق احتیاطی اقدامات میں  مصروف ہیں ۔ 
ہمارے ملک میں  اب تک ایسا کوئی قدم نہیں  اٹھایا گیا ہے۔ اس کی دو وجوہات سمجھ میں  آتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ ہماری حکومت شاید اس گمان میں  ہے کہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں  ہے حالانکہ یہ بات اس نے کُھل کر نہیں  کہی ہے۔ اس نے ہمیں  بتایا ہے کہ عوام جو کمی یا قلت محسوس کر رہے ہیں  وہ فکرمندی اور گھبراہٹ کا نتیجہ ہے، اگر وہ اس  میں  مبتلا نہ ہوتے تو حالات معمول پر رہتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت کے خیال میں  اس کے پاس ان اشیاء کا کافی ذخیرہ ہے جو ہم خلیج سے درآمد کرتے ہیں  مثلاً ایندھن، گیس، کھاد وغیرہ۔ کتنا ذخیرہ ’’کافی ذخیرہ‘‘ ثابت ہوگا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ جنگ کب تک جاری رہے گی یا کب ختم ہوگی۔ فی الحال اگر حکومت محسوس کررہی ہے کہ کافی ذخیرہ ہے تو آٹورکشا کی قطاریں  کیوں  لگی ہیں  اور بہت سے مزدورکام چھوڑ کر وطن کیوں  واپس جارہے ہیں  اس سوال کا جواب نہیں  ملتا۔ایسے میں  دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ مزید کتنے دن جاری رہتی ہے۔ تیل بیوپاریوں  کا کہنا ہے کہ جاری ہفتے کے بعد سے صورت حال تبدیل ہوگی کیونکہ جنگ شروع ہونے کے وقت جتنے بحری جہاز سفر میں  تھے وہ پہنچ چکے ہیں  اور نئے جہاز نہیں  آ رہے ہیں ۔
یہ ہوا میرا پہلا مشاہدہ۔ دوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے سے پہلے کانگریس سے اجازت نہیں  لی جیسا کہ وہاں  کا طریقہ ہے۔ مگر یہ کیوں  اہم ہے؟ جب امریکی آئین تشکیل کے دور میں  تھا اور اس پر بحث ہو رہی تھی تب اس کے بانیوں  نے محسوس کیا تھا کہ کوئی فرد (صدرِ امریکہ) اعلانِ جنگ کریگا تو اس کی حیثیت بادشاہ جیسے ہوجائیگی۔ یہ کوئی جمہوری عمل نہیں  ہوگا۔ علاوہ ازیں  ایک فرد (صدر) تشدد کی ہدایت دے سکتا ہے اس لئے جنگ کے اعلان کا اختیار کانگریس یعنی وہاں  کی پارلیمنٹ کو دیا گیا۔مگر، ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے وہائٹ ہاؤس نے پارلیمنٹ کے اس اختیار کو نظر انداز کیا اور جنگ شروع کردی گئی۔ 
لطف کی بات یہ ہے کہ یہ قدامت پسند ہیں  جو جنگ کی تائید کررہے ہیں  جبکہ وہ خود کو آئین ساز کہتے ہیں  اور اس پر فخر کرتے ہیں ۔ جہاں  تک صدرِ امریکہ (ڈونالڈ ٹرمپ) کا تعلق ہے وہ سیماب صفت ہیں  (گھڑی میں  تولہ گھڑی میں  ماشہ)۔ وہ کہہ سکتے ہیں  بلکہ کہہ چکے ہیں  کہ جنگ کے مقاصد پورے ہوچکے ہیں  اس کے باوجود وہ اسے جاری رکھیں  گے۔ ان کے بیانات سنئے، ایک جملے میں  کہتے ہیں  کہ ایران سے گفتگو اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے اور اگلے جملے میں  کہتے ہیں  کہ بات کرنے والا کوئی نہیں  ہے کیونکہ امریکہ نے تمام ایرانی لیڈروں  کو قتل کر دیا ہے۔ انہوں  نے ایک پوسٹ میں  ایران سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا اور پھر ایک تقریر میں  کہا کہ امریکہ وہاں  سے چلا جائے گا اور یہ کھلے نہ کھلے اس سے امریکہ کا تعلق نہیں ۔ اُن کے اس طرز عمل پر امریکی شہریوں  کو، اس کے میڈیا کو اور جمہوری ڈھانچے کو کوئی اعتراض نہیں  ہے یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اسے اپنے مخصوص انداز میں  جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
 
 
میرا تیسرا مشاہدہ ہندوستان کی بابت ہے۔ ہمارے بہت سے  واٹس ایپ گروپس کیلئے اس بات پر یقین کرنا مشکل نہیں  ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رُکنیت ہندوستان کو جواہر لعل نہرو کی وجہ سے نہیں  ملی۔ یہ واضح نہیں  ہے کہ اس یقین کی بنیاد کیا ہے، لیکن شاید یہ ہے کہ جس طرح ٹرینوں  اور بسوں  میں  سیٹ پر قبضہ کرنے کیلئے اُس پر رومال پھینکا جاتا ہے شاید اس طرح نہرو سلامتی کونسل کی سیٹ کیلئے اپنا رومال نہیں  پھینک سکے۔ اگر ہمیں  سلامتی کونسل کی رُکنیت یا سیٹ حاصل ہوتی تب کیا ہوتا یعنی ہم اس کا کیا کرتے؟ کیا ایران جنگ روکنے کیلئے اپنی رُکنیت کو بروئے کار لاتے؟ یو این کی سیٹ یعنی رکنیت جن ملکوں  کے پاس ہے اُنہیں  ویٹو کا اختیار ہوتا ہےجس کا معنی ہے سلامتی کونسل میں  ووٹ پیش ہونے والی تجاویز کو مسترد کرنے کا حق۔ برطانیہ کے پاس یہ طاقت ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ میں  شریک نہیں  ہے۔ اُس کے پاس سلامتی کونسل کی سیٹ ہے مگر کیا کیا اُس نے؟ کچھ کیا؟ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں  ہونی چاہئے کہ دنیا اس وقت سلامتی کونسل کی بات ہی نہیں  کررہی ہے۔
میرا خیال ہے کہ جنگ روکنے کی ہندوستان سمیت دیگر ممالک کی خواہش کو امریکہ اور اسرائیل پر بھرپور دباؤ ڈالنے کی کوشش میں  تبدیل ہونا چاہئے ورنہ جو ممالک فعال اور تعمیری جتن کے بغیر سلامتی کونسل کی نشست کے تمنائی ہیں  وہ اُسے حاصل کرکے بھی وہی کرینگے جو حاصل نہ ہونے پر کررہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK