Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی پرچم والے جہاز ’’گرین آشا‘‘ نے آبنائے ہرمز عبور کر لیا

Updated: April 05, 2026, 4:28 PM IST | New Delhi

ایل پی جی کے محاذ پر ملک کے لیے خوشخبری ہے۔ ہندوستانی پرچم والے جہازگرین آشا نے ایران کے نزدیک موجود تنگ سمندری راستےاسٹریٹ آف ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا ہے۔

Indian Ship.Photo:INN
ہندوستانی جہاز۔ تصویر:آئی این این

ایل پی جی کے محاذ پر ملک کے لیے خوشخبری ہے۔ ہندوستانی پرچم والے جہازگرین آشا نے ایران کے نزدیک موجود تنگ سمندری راستےاسٹریٹ آف ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا ہے۔ خلیجی علاقے میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد، یہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والا ہندوستان کا ۹؍واں جہاز ہے۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے  ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ دنیا کے توانائی شعبے کے لیے یہ راستہ بہت اہم ہے کیونکہ عالمی سطح پر ہونے والے تیل کے تجارتی حجم کا تقریباً ۲۰؍ فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گرین آشا  ایک ایل پی جی ٹینکر ہے اور بڑھتے خطرات کے باوجود اس کا کامیابی سے  آبنائے ہرمز عبور کرنا اس علاقے پر ہندوستان  کی مستقل انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کشیدگی نے عالمی ایندھن کی فراہمی کی زنجیر کو متاثر کیا ہے، جس سے دنیا کے توانائی کے بازار مشکل چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ سمندری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس راستے کو استعمال کرنے والے تقریباً ۶۰؍ فیصد مال بردار جہاز یا تو ایران سے آ رہے ہیں یا ایران کے لیے جا رہے ہیں۔ان چیلنجز کے باوجود، آبنائے ہرمز سے ہندوستانی جہازوں کی سرگرمیاں نسبتاً مضبوط رہیں۔

یہ بھی پڑھئے:بالی ووڈ باکس آفس: ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں بالی ووڈ کا ۲۰۰۰؍ کروڑ سے زیادہ کا کاروبار


گرین آشا  کی روانگی سے پہلے کم از کم آٹھ ہندوستانی جہاز اس راستے سے گزر چکے تھے۔ان میں ایل پی جی کیریئر بی ڈبلیو ٹی وائی آر اوربی ڈبلیو ای ایل ایم شامل تھے، جنہوں نے کشیدہ علاقے سے تقریباً ۹۴؍ہزار ٹن مال منتقل کیا۔مارچ کے آخر میں پائن گیس  اورجگ وسنت سمیت چار ہندوستانی پرچم والے ایل پی جی ٹینکرز نے تین دن کے دوران۹۲۶۰۰؍ ٹن سے زیادہ ایل پی جی کی فراہمی کی۔

یہ بھی پڑھئے:ایف اے کپ: ساؤتھمپٹن کی فتح، آرسنل ٹورنامنٹ سے باہر


اس سے پہلے ایم ٹی شیوالک  اور ایم ٹی نندا دیوی  نے مارچ کے وسط میں گجرات کے منڈرا اور کاندھالا بندرگاہوں تک تقریباً ۹۲۷۰۰؍ ٹن ایل پی جی پہنچائی تھی۔دوسری شپمنٹ میں خام تیل اور ایندھن شامل تھے۔ تیل کے ٹینکر جگ لادکی نے متحدہ عرب امارات سے منڈرا تک۸۰؍ہزار ٹن سے زیادہ خام تیل منتقل کیا  جبکہ  جگ پرکاش  نے عمان سے افریقی مارکیٹوں کے لیے گیسولین لے جاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔ ایک اور ایل پی جی کیریئر،  گرین سانوی نے بھی حال ہی میں تقریباً ۴۶۶۵۰؍  میٹرک ٹن کارگو کے ساتھ اپنی روانگی مکمل کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK